تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     18-12-2016

سُرخیاں‘ متن اور ’’ دُنیا زاد‘‘

پچھلی حکومت کا ہر روز سکینڈل سامنے آتا
ہماری حکومت کا ایک بھی نہیں۔ نواز شریف
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''پچھلی حکومت کا ہر روز سکینڈل سامنے آتا‘ ہماری حکومت کا ایک بھی نہیں‘‘ اور ہمارا اس لیے نہیں کہ سکینڈل تو صرف الزام ہوتا ہے جبکہ ہمارے کارنامے تو سب کو صاف نظر آ رہے ہیں جنہیں ثابت کرنے کی ضرورت ہی نہیں، اس لیے سکینڈلز کی ہمارے ہاں کوئی گنجائش ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘‘کیونکہ دیگر متعدد ملکوں کے وزرائے اعظم ‘ پاناما گیٹ میں نام آنے پر جو مستعفی ہو گئے تھے‘ وہ تو پرلے درجے کے بُزدل تھے اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں حکومت بھی آسانی سے مل گئی تھی اور انتخابات میں انہیں وہ کچھ نہیں کرنا پڑا تھا جو ہمیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ'' 2018ء سے بھی آگے کا سوچ رہے ہیں‘‘ البتہ نئے چیف جسٹس نے کرپشن کے خلاف بیان دے کر کھوتا ہی کُھوہ میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''مشرف نے کچھ نہ کیا اور اس کے بعد پچھلی حکومت نے بھی کچھ نہ کیا‘‘ اس لیے ہم نے بھی کچھ نہیں کرنا کیونکہ ہم اپنی روایات خراب کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ''آخری سانس تک خدمت کریں گے‘‘ کیونکہ خدمت اگر اس قدر خوشگوار اور منافع بخش ہو تو کون ایسا نہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘‘ اگرچہ جس نے توڑی ہے اُس سے سبھی واقف ہیں لیکن کہنے میں کیا ہرج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''مجھے معلوم ہے کہ آج میری حکومت ہے تو کل کسی اور کی ہو گی‘‘ جو اصولی طور پر تو پیپلز پارٹی کی ہو گی کیونکہ ہم دونوں پارٹیوں نے پیسہ ہی اس قدر اکٹھا کر 
لیا ہے کہ اقتدار کو خرید بھی سکتے ہیں اور ہر بار ایسا ہوتا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ترقی کے لیے ہمارا عزم جواں ہے‘‘ اور اس پر خواہ مخواہ ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے‘ آدمی کو کبھی سنجیدگی بھی اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''فاٹا اصلاحات پر فضل الرحمن کے تحفظات دُور کریں گے‘‘ کیونکہ ہم سے زیادہ اور کسے معلوم ہو گا کہ مولانا کے تحفظات کیسے دور کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان کو پُوری رفتار سے آگے بڑھائیں گے‘‘ کیونکہ ہم نے اپنے آپ کو جس رفتار سے آگے بڑھایا ہے‘ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم گھبرانے والے نہیں ہیں‘‘ کیونکہ جب سے آرمی چیف اور چیف جسٹس ریٹائر ہوئے ہیں‘ ہماری ساری گھبراہٹ دور ہو چکی ہے‘ موجودہ حضرات کو بھی ہمارے حق میں اللہ نیک ہدایت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''آپریشن جاری رہے گا‘‘کیونکہ جنہوں نے اسے شروع کیا تھا‘ وہ کب باز آنے والے ہیں حالانکہ بیچاری کالعدم تنظیموں پر ابھی تک تلوار لٹک رہی ہے اگرچہ ہم جہاں تک ممکن ہے اُن کی خدمت کرتے رہتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے الیکشن کے موقع پر ہماری بھی دل کھول کر خدمت کی تھی‘ نیز ان کے سہولت کاروں کو بھی ہر ممکن تحفظ فراہم کر رہے ہیں کہ آخر وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ '' فتنہ و فساد کو کُچلنا ثواب کا کام ہے‘‘ اگرچہ ہم منوں اور ٹنوں کے حساب سے پہلے ہی وافر ثواب کما چکے ہیں اور ہر کوئی خاکسار کو ایک پہنچا ہُوا بزرگ سمجھتا ہے بلکہ اب تو تعویز دھاگہ والوں کا بھی 
تانتا بندھا رہتا ہے‘ چنانچہ میں نے اپنی درگاہ بنانے کے لیے وصیّت بھی کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے‘‘ جو اب تک ختم نہیں ہو سکی تو شاید یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہی کا شاخسانہ ہو جسے مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم دھوکے کی سیاست نہیں چاہتے‘‘ البتہ دروغ گوئی کی قسم نہیں دیتے کیونکہ مصلحت آمیز دروغ گوئی بہرحال جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''جب ہم نے حکومت سنبھالی تو بہت سے چیلنجز درپیش تھے‘‘ اور تیز رفتار ترقی کے ساتھ ساتھ ان میں بھی اضافہ ہُوا ہے‘ ہیں جی؟ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
دُنیا زاد 44
کراچی سے آصف فرخی کی زیر ادارت شائع ہونے والے کتابی سلسلے ''دنیا زاد‘‘ کا تازہ شمارہ چھپ کر مارکیٹ میں آ چکا ہے جس کی قیمت 400 روپے رکھی گئی ہے۔ اس شمارے کی خاص الخاص پیشکش بھارتی شاعر عرفان صدیقی مرحوم کی 25 غیر مطبوعہ غزلیں ہیں جو ان کے کسی مجموعہ میں شامل نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ''دریا‘‘ کے نام سے ہمارے شاعر دوست فیصل عجمی نے عرفان صدیقی کا کُلیات شائع کیا تھا جس پر تبصرہ کرتے ہوئے میں اُس میں چار پانچ شعر ہی نکال سکا تھا۔ بھارت میں غزل سالہا سال سے بہت پیچھے ہے اور فراق گورکھپوری سے لے کر عرفان صدیقی‘ شہریار‘ بانیؔ اور زیب غوریؔ تک سب کے سب کم و بیش ایک ہی جیسے ہیں۔ اگر ایک دیوان میں دو چار عُمدہ اشعار نکل بھی آئیں تو اتنے تو آدمی غلطی سے بھی کہہ جاتا ہے۔ بہرحال‘ یہ بھارت کے معبتر شعراء میں شامل ہیں۔ ماضی قریب کے سابقون میں اسعدؔ بدایونی ہی ایک ایسا شاعر گزرا ہے جس کی شاعری میں کوئی جان نظر آتی ہے یا اب فرحت احساس نے غزل کو قدرے سنبھالا دے رکھا ہے۔ عرفان صدیقی کی غزل میں لُطفِ سخن‘ تازگی یا طُرفگی کا کوئی شائبہ بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ یہ اچھی‘ لیکن مُردہ شاعری ہے اور موصوف نے شعر کے پُتلے بنا بنا کر چھوڑ دیے ہیں لیکن ان میں جان نہیں ڈال سکے۔ ان پچیس غزلوں میں‘ خدا معاف کرے‘ ایک بھی شعر ایسا نہیں تھا جسے پڑھ کر مُنہ سے واہ ہی نکل سکے۔
نور الہدیٰ شاہ‘ نصیر احمد ناصر اور توصیف خواجہ کی نثری نظموں میں وہ زور بیان نہیں جو انہیں نظمیں بناتا ہے۔ نثری نظم کو ویسے بھی مختصر ہونا چاہیے۔ افضال احمد سید نے ماضی کے فارسی شاعر محمد حسن قتیلؔ کے بعض اشعار کا نثری ترجمہ پیش کیا ہے لیکن نثری ترجمے سے شعر کی مخفی و ظاہری نفاستیں اور نزاکتیں پوری طرح ظاہر نہیں ہو پاتیں۔ اس کی بجائے افضال اپنی مزید نظمیں بھی شامل کر دیتے تو کوئی بات بھی تھی۔ بہرحال‘ اس رطب و یابس کے باوجود دُنیا زاد کا شمار ملک کے وقیع ترین پرچوں میں ہوتا ہے‘ کیونکہ اس کا نثری حصہ حسبِ معمول جاندار ہے جس میں انتظار حسین پر تین مضمون بطور خاص شامل ہیں۔ عشرت آفرین کے تین افسانے یکجا چھاپ کر ایک اچھی روایت قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ فہمیدہ ریاض اور مسعود اشعر ہیں اور حسب روایت تراجم کا سلسلہ۔
شمیم حنفی نے کاشف حسین غائر کی شاعری پر مضمون تو باندھا ہے لیکن ضرورت سے زیادہ مختصر‘ میں بھی اس شاعر کی تحسین کر چکا ہوں۔ اس میں جدید طرز احساس بھی ہے اور ندرتِ بیان بھی۔ اس کے کچھ شعر دیکھیے:
ایک دیوار کو تصویر سمجھتا رہا ہوں
اور تصویر سمجھتی رہی دیوار مجھے
کیا بتائوں کہ عجب ہے مرا شوقِ تعمیر
جو شب و روز کیے جاتا ہے مسمار مجھے
میں اپنے گرد تماشا لگائے بیٹھا ہوں
عجیب کام لیا ہے شکستہ پائی سے
شام ہوتے ہی کہاں جاتا ہوں‘ کیا بتلائوں
آدمی ہو کے پریشان کہاں جاتا ہے
بستی میں اک چراغ کے جلنے سے رات بھر
کیا کیا خلل پڑا ہے ستاروں کے کام میں
گُزشتگاں میں ہمارا شمار ہونے میں
اب اور وقت ہے کتنا غُبار ہونے میں
آج کا مقطع
میں اگر اس کی طرف دیکھ رہا ہوں تو، ظفرؔ
اپنے حصے کی محبت کے لیے دیکھتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved