تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     23-12-2016

میثاق جمہوریت کی ابتدا

امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر نیگرو پونٹے اور برطانوی ایم آئی6 کی ہدایات کے مطابق 14 مئی 2006 ء کو لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے باہمی دستخطوں سے طے پانے والے میثاق جمہوریت کی شروعات کا حقیقی آغاز 29 نومبر 2016 ء سے ہو چکا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے دونوں جماعتیں اور ان کے مدد گار اس میثاق جمہوریت کے ثمرات سے دل کھول کر مستفید ہو رہے ہیں۔میاں محمد نواز شریف کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اب تک تین آرمی چیفس کی تقرری کر نے والے واحد وزیر اعظم ہیں وہاں ان کے حصے میں قدرت نے یہ اعزاز بھی لکھ دیا ہے کہ ملک میں اصلی جمہوریت کی ابتدا بھی ان کے دور میں شروع ہو چکی ہے اور سب دیکھ رہے ہیں کہ ملک کے تمام اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ابتدا بھی انہی کے دور میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔۔۔اور وہ منظر جو اس قوم نے آج تک نہیں دیکھا تھا اس کا نظار ہ میثاق جمہوریت کے طفیل پاکستانی قوم نے5 دسمبر کو اس وقت کیا جب پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم ہائوس میں داخل ہوتے وقت سکیورٹی کیلئے نصب کئے گئے واک تھرو گیٹ سے گزرکر داخل ہوئے پاکستان کی تاریخ نے یہ منظر اس سے پہلے کب دیکھا تھا کہ اس کاآرمی چیف سر پر فوجی کیپ پہن کر وزیر اعظم کو با قاعدہ سلیوٹ کر رہا ہے ورنہ میاں نواز شریف کو ایک نجی ٹی وی چینل کو دیئے جانے والے انٹرویو میں یہ شکوہ کرتے ہوئے سب نے سنا ہے کہ یہ فوجی جب وزیر اعظم کے سامنے آتے ہیں تو اپنی ٹوپیاں باقاعدہ باہر سٹینڈ پر لٹکا دیتے ہیں یا گاڑی میں رکھ آتے ہیں تاکہ انہیں وزیر اعظم کو سلیوٹ نہ کرنا پڑے ۔اسی میثاق جمہوریت کی ایک شق یہ بھی تھی کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کر دیا جائے گا لیکن ان دونوں جماعتوں اور ان کے اتحادیوں نے اپنے آٹھ سالہ مشترکہ دور حکومت میں ابھی تک اس شق پر عمل نہیں کیا۔۔۔لیکن اس میثاق جمہوریت کی اس شق پر فوری عمل کر دیا گیا جس کے تحت تین مرتبہ وزیر اعظم بننے پر عائد پابندی کے قانون کو مشترکہ طور پر منسوخ کر دیا جائے گا۔اسی میثاق جمہوریت کی ایک شق یہ بھی تھی کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو مکمل آزادی دی جائے گی( لیکن اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہر اخبار اور الیکٹرانک میڈیا پر کسی نہ کسی بہانے پابندی لگانے کی دھمکیاں مل رہی ہیں بلکہ بہت سے ٹی وی چینلز کا نواز لیگ کی جانب سے اس لئے بائیکاٹ کیا جا رہاہے کہ وہ حکومتی خواہشات پر عمل نہیں کرتے۔ میثاق جمہوریت کی خوبی اور ثمرات کے طفیل یہ منظر بھی پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ آرمی چیف اپنی کمانڈنگ چھڑی بھی گاڑی میں رکھ کر وزیر اعظم ہائوس میں داخل ہوئے۔جس طرح ہمارے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر کی جانے والی گفتگو کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتا دیا ہے کہ وہ انہیں ایک کامیاب اور ایماندار شخص سمجھتے ہیں۔ نیگرو پونٹے جیسے حضرات کیلئے اطمینان کا باعث ہو جا نا چاہئے کہ ان کا میثاق جمہوریت کی شکل میں لگایا ہوا پودا اب پاکستان میں جڑ پکڑنے لگا ہے اور یہ تو ابھی ابتدا ہے اور وہ کام جو 2008 ء میں پی پی پی کو سونپی گئی حکومت کے صدر آصف علی زرداری نے میثاق جمہوریت کی شق 32-D کے تحت آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کی کمان فوج سے واپس لے کر آصف زرداری اور رحمان ملک۔۔۔میاں محمد نواز شریف اور اسحاق ڈار کے ماتحت کرنے کے جو احکامات جاری کئے تھے وہ کسی وجہ سے کہہ لیں کہ یا جناب آصف زرداری کی کمزوری کی وجہ سے روک دیئے گئے تھے اب حالات مزید سازگار ہونے سے اس شق پر بھی با خبر اطلاعات کے مطا بق جلد ہی کام شروع ہو نے والا ہے۔۔۔اس شق میں نیگرو پونٹے کی ہدایات کے مطا بق دونوں جماعتوں کی جانب سے عہد کیا گیا ہے کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کی تمام رپورٹس فوج کے سربراہ یا چیف آف جنرل سٹاف کو نہیں بلکہ سب سے پہلے ، وزارت دفاع اور کیبنٹ ڈویژن کو فراہم کی جائیں گی اور وہ اگر منا سب سمجھیں گے تو ان اطلاعات کو فوج کی فارمیشنز تک پہنچایا جائے گا اور ان رپورٹس میں دی جانے والی اطلاعات کی روک تھام یا کارروائی وزیر اعظم کے حکم سے ہو گی تا کہ لندن کی ایجور روڈ پر رحمان ملک کی رہائش گاہ پر متفقہ طور پر دستخط کی جانے والی میثاق جمہوریت کی ایک ایک شق پر عمل کر کے اس کے خالقوں کو باور کرا دیا جائے کہ اب آپ کی مرضی اور خواہشات کے مطا بق پاکستان میں اصلی اور سب سے بڑی خالص قسم کی جمہوریت کا بول بالا ہو کر رہے گا جس کی شروعات اب کسی سے بھی پوشیدہ نہیںر ہیں۔
فوج کے ماتحت کسی بھی ادارے کا پولیٹیکل ونگ مکمل طور پر ختم کردیا جائے اوریہ کام سول حکومت کے افسران پر مشتمل اداروں آئی بی اور سپیشل برانچ کے ذمے سونپ دیا جائے گا۔ فوج کا سالانہ بجٹ اب خاموشی سے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے سامنے رکھا جائے گا اور وہ اس کی ایک ایک شق دیکھ کر منظوری دے گی۔ آمریت کی گود سے جنم لینی والی ان دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی شق 26میں دنیا بھر کو یہ باور کرانے کی پوری پوری کوشش کی ہے کہ پاکستان اور اس کے اردگرد دہشت گردی اور دہشت گردوں نے پاکستان کے فوجی آمروں کی وجہ سے جنم لیا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچاہے اور یہ دونوں جماعتیں عہد کرتی ہیں کہ اس دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھارت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرتے ہوئے کشمیر، سیاچن ،پانی اور سر کریک جیسے دیرینہ مسئلوں کو رکاوٹ نہیں بنائیں گے ( اب آپ میثاق جمہوریت کی اس شق کو سامنے رکھتے ہوئے ایمانداری سے فیصلہ کریںکہ یہ وہی الفاظ نہیں ہیں جو سیرل المیڈا کی ڈان لیکس میں لکھوائے گئے ہیں؟؛۔۔کیا اب بھی کسی کمیشن یا اس کی رپورٹ کی ضرورت باقی رہتی ہے؟) ۔
میثاق جمہوریت کی شق نمبر31 میں پر نظر ڈالیں تو بے سا ختہ قہقہے لگانے کو دل کرتا ہے جس کے مطا بق نورا کشتی کرنے والی یہ دونوں اتحادی جماعتیں عہد کرتی ہیں کہ عام انتخابات کیلئے غیر جانبدار نگران حکومتیں تشکیل دی جائیں گی جس کے ارکان کسی بھی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔۔۔ سب نے دیکھا کہ 2013ء میں کون سی اور کس قسم کی غیر جانبدار نگران حکومتیں تھیں جس کا منہ بولتا ثبوت پنجاب میں نجم سیٹھی کی صورت میں سب کے سامنے آیا۔ کاش کہ اس میثاق جمہوریت میں یہ بھی لکھ دیتے کہ یہ نگران حکومتیں اور ان کے وزیر اعلیٰ کو انتخابات مکمل ہونے کے بعد ان کی عنایات سے کامیاب ہونے والی یہ دونوں اتحادی سیا سی جماعتیں کوئی بھی حکومتی یا نفع بخش عہدہ نہیں دیں گی....!!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved