تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-12-2016

سُرخیاں‘ متن‘ ٹوٹے اور حسین اُلفت بلوچ

وزیر اعظم نے جعلی طوفانوں کا 
ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ''وزیر اعظم نے جعلی طوفانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا‘‘ کیونکہ وہ جعلی طوفانوں ہی کا مقابلہ کر سکتے تھے اور اب جبکہ پاناما لیکس کا اصلی طوفان سامنے آیا ہے تو صاحبِ موصوف سمیت ہم سب کی جان پر بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''حکومت ختم ہونے کی چہ میگوئیاں ہوئیں‘ چینلز نے زہر اُگلا لیکن ان کے ماتھے پر شکن نہ آئی‘‘ کیونکہ ساری کی ساری شکنیں اندر ہی اندر چل رہی تھیں اس لیے اُنہیں ماتھے تک آنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ''میڈیا کا مشن ہے کہ 2018ء تک ان الزامات کو زندہ رکھے‘‘ حالانکہ وہ اس بات کا تکلف ہی کر رہے ہیں کہ 2018ء سے بہت پہلے ان الزامات کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''یہ ہلکی آنچ پر ہنڈیا پکا رہے ہیں‘‘ اگرچہ وہ ٹھیک ہی کر رہے ہیں کیونکہ اصول بھی یہی ہے کہ سہج پکے سو میٹھا ہو۔ آپ اگلے روز سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
ہماری حکومت کلیئر ہے‘ انتخابات نئے 
قوانین کے تحت ہوں گے۔ اسحق ڈار
وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ ''ہماری حکومت کلیئر ہے‘ انتخابات نئے قوانین کے تحت ہوں گے‘‘ اور اب حکومت اس سے زیادہ کلیئر کیا ہو گی کہ ہر سکینڈل صاف و شفاف‘ سب کو آئینے کی طرح نظر آ رہا ہے لیکن حکومت اس قدر مستقل مزاج ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور جہاں تک نئے قوانین کا تعلق ہے تو الیکشن کمیشن اور مشینری حکومت کی اپنی ہے‘ نئے قوانین وہاں کیا کر لیں گے، بشرطیکہ اس سے پہلے ہی کوئی قیامت نہ ٹوٹ پڑی کیونکہ قیامت کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی اور وہ کسی وقت بھی آ سکتی ہے اور سب کچھ ساتھ بہا کر لے جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ''ہمارے سامنے تین اہم نکات ہیں‘‘ اگرچہ نیشنل ایکشن پلان کے نکات بھی بے حد اہم تھے لیکن اس میں سارا قصور ان نکات کا تھا جن پر عمل کرنا اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ میں شامل تھے۔
تبدیلی...؟
ایک اخباری اطلاع کے مطابق حکومت پاناما کیس میں اپنے وکیل سلمان بٹ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہے اور اُسے تبدیل کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے کیونکہ موصوف کے عدالت میں اس بیان سے حکومت کا کیس بہت کمزور ہو گیا ہے کہ وزیر اعظم کا پارلیمنٹ میں دیا جانے والا بیان ایک سیاسی بیان تھا۔ لُطف یہ ہے ک اس چیز کا اظہار فوری طور پر نہیں بلکہ ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد کیا گیا ہے۔ چنانچہ اب حکومت یہ موقف اختیار کرے گی کہ وہ بیان وکیل کی ذاتی رائے تھی جو وزیر اعظم کے مشورے کے بغیر ظاہر کی گئی تھی اس لیے اب وہ اس کا اثر ختم کرنے کے لیے کوئی نیا مؤقف اختیار کرے گی۔ یاد رہے کہ حکومت جو عمران خان کو یو ٹرن کے طعنے آئے دن دیتی رہتی ہے اب اپنی اس اُلٹ بازی کو کیا نام دے گی؟ اگرچہ سلمان بٹ ایڈووکیٹ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہیں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
کبیرا کھڑا‘ بازار میں؟
انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی ایک روئیداد کے مطابق اجوکا تھیٹر اپنا ڈرامہ ''کبیرا کھڑا بازار میں‘‘ اب حیدر آباد اور لاڑکانہ میں بھی سٹیج کرنے جا رہا ہے، جہاں انہیں سندھ کی وزارت ٹورازم‘ کلچر اور نوادرات کا تعاون حاصل ہوگا۔ حق تو یہ ہے کہ ان انتہائی نامساعد حالات میں بھی اجوکا نے ڈرامے کی صنف کو زندہ رکھا ہوا ہے لیکن ڈرامے کا عنوان غور طلب ہے کیونکہ جس دوہے سے یہ ٹکڑا لیا گیا ہے وہ کبیر کا نہیں بلک تلسی داس کا ہے جو اس طرح سے ہے ؎
تُلسی کھڑا بجار ماں مانگے سب کی کَھیر
نا کاہُو سے دوستی نا کاہُو سے بَیر
کیونکہ اس بحر میں مصرعۂ اَوّل کا پہلا لفظ کبیرا ہو ہی نہیں سکتا اور اس میں تُلسی ہی فٹ بیٹھتا ہے کیونکہ پہلا لفظ کبیرا کی بجائے کُبڑا ہو سکتا تھا یا کیرا اور بیرا۔ جمیل الدین مرحوم نے بھی ایک کالم میں 'کبیرا کھڑا بجار میں‘ ہی لکھا تھا جس کا میں نے نوٹس لیا تو وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکے تھے اور کہا تھا کہ ہندی شاعری کی کئی بحریں ہیں‘ وغیرہ وغیرہ؛ حالانکہ عالی جی خود بھی دوہے کی صنف میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے تھا کہ اوّل تو دوہے کی ایک ہی بحر ہوتی ہے اور دوسرے یہ کسی بحر میں بھی ہو‘ شروع میں کبیرا کا لفظ آ ہی نہیں سکتا تھا۔ہاں، اگر یہ شعر کبیر کا ہوتا تو وہ پہلا مصرع اس طرح لکھتے ع
کھڑا کبیر بجار میں مانگے سب کی کَھیر
بہرحال‘ مجھے اس پر اصرار نہیں ہے۔ اگر کوئی علم دوست صاحب اس سلسلے میں رہنمائی کرنا چاہیں تو فون پر بھی کر سکتے ہیں جو 0333-4374597 ہے۔ اور اب آخر میں حسین الفتؔ بلوچ کی غزل جو ہمیں نیٹ سے موصول ہوئی ہے:
آخری ہجر ہے‘ آخری آگ ہے
کیا یہی عشق ہے‘ کیا یہی آگ ہے
خاک دم ہو چکی‘ آگ نم ہو چکی
یہ نئی خاک ہے‘ یہ نئی آگ ہے
یعنی اشیاء کی ہیئت بدلتی ہوئی
نیلگوں وصل میں سُرمئی آگ ہے
دونوں ہاتھوں سے مجھ سے بکھرتی ہوئی
بُھر بُھرے حرف ہیں‘ بُھر بُھری آگ ہے
اپنا حصہ اُٹھائیں‘ یہاں سے چلیں
یہ تری آگ ہے‘ یہ مری آگ ہے
دے رہی ہے طراوت مجھے ہر نفس
مجھ میں یہ جو بھڑکتی ہوئی آگ ہے
مجھ میں اُلفتؔ اگردیکھ لو غور سے
عشق ہی عشق ہے‘ آگ ہی آگ ہے
آج کا مقطع
میں روز اپنے کناروںسے دیکھتا ہوں‘ ظفر
کہاں سے دُور ہے دُنیا‘ کہاں سے دُور نہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved