تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     04-01-2017

ہمارے اوزار

قینچی
بعض زبانیں قینچی کی طرح چلتی ہیں۔ اس سے مغالطہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کوئی آٹو میٹک چیز ہے، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ اسے حسبِ ضرورت چلایا جاتا ہے۔ یہ قینچی امر سدھو میں تیار ہوتی ہے۔ چنانچہ قینچی خریدنے کے لیے وہاں جانا پڑتا ہے اور جس کا طریقہ یہ ہے کہ میٹرو بس پر بیٹھ جائیں جو آپ کو اپنے اس سٹیشن پر اُتار دے گی۔ زیادہ تر کپڑا کاٹنے یا کترنے کے کام آتی ہے۔ اگر چاہیں تو اس سے کاغذ بھی کاٹ سکتے ہیں۔ اس کا مذکر قینچ ہے جو پودوں کو گولائی وغیرہ دینے کے کام آتا ہے۔ اسے آلۂ حرب کے طور پر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی کو ٹانگوں میں جکڑ کر قابو کرنا قینچ مارنا کہلاتا ہے۔ درزی کا یہ بنیادی اوزار بلکہ ہتھیار ہے۔ فیتے یا گز کے بعد اسی کا کام شروع ہوتا ہے۔ کپڑا کم کاٹتی اور کترنیں زیادہ بناتی ہے۔ منقول ہے کہ ایک خاتون اپنے خاوند سے بولی کہ میں بازار گئی تھی، آپ کے رومال کے لیے کپڑا لائی ہوں۔ اس میں سے میرا سوٹ بھی نکل آیا ہے!
سوئی
بلوچستان میں ایک علاقہ سوئی ہے، یہ وہاں تیار ہوتی ہیں۔ سوئی میں سے گیس بھی نکالی جاتی ہے جو سوئی گیس کہلاتی ہے۔ پن ڈراپ سائلینس کا مطلب یہ بتایا جاتا ہے کہ اتنی خاموشی کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ اس کا اندازہ ویسے بھی لگایا جا سکتا ہے، چہ جائیکہ آپ پہلے سوئی تلاش کریں، اُس میں سے دھاگا نکالیں اور اُسے فرش پر گرائیں۔ مزید یہ کہ اگر فرش کچا ہو تو جتنی سوئیاں چاہے گرا دیں، آواز نہیں آئے گی۔ کپڑے سینے کے علاوہ پاؤں میں چبھا ہوا کانٹا بھی اس سے نکال سکتے ہیں۔ ہنر مند لوگ اس کے ناکے میں سے اونٹ گزار سکتے ہیں۔ بدن میں سوئیاں چُبنے والا محاورہ بھی غلط ہے البتہ چین میں واقعی بدن میں سوئیاں چبھو کر درد وغیرہ کا علاج کیا جاتا ہے جو آکو پنکچر کہلاتا ہے۔ اب یہ علاج ہمارے ہاں بھی ہونے لگا ہے لیکن اسے پنکچر کہنا درست نہیں ہے کیونکہ اس میں سالیوشن وغیرہ بھی لگتا ہے۔
گز
اس سے گز بھرکی زبان کو ماپتے ہیں۔ کسی بگڑے ہوئے کو سیدھا کرنا مطلوب ہو تو اُسے گز کی طرح سیدھا کرتے ہیں۔ درزی لوگ ماپ اسی سے لیتے ہیں جسے پنجابی میں میچا کہتے ہیں۔ منقول ہے کہ ایک درزی کی دکان کی چوروں نے صفائی کر دی تو اس نے اہلِ بازار کو اکٹھا کر کے احتجاج شروع کیا تو ایک میراثی زیادہ شور مچاتا پھر رہا تھا۔ لوگوں نے اس سے پوچھا، کیا تمہارا بھی کپڑا چور لے گیا ہے تو وہ بولا، میرا میچا لے گئے ہیں۔ کسی زمانے میں نوگزے لوگ بھی ہوا کرتے تھے جو نوگزوں کی قبروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ درزی لوگوں میں اس کا استعمال کم ہو گیا ہے اور وہ فیتہ استعمال کرتے ہیں البتہ کپڑا بیچنے والے ابھی 
تک اس کے محتاج ہیں۔ سڑکیں ناپنے میں گز استعمال نہیں ہوتا اور اندازہ ہی لگایا جاتا ہے۔ قبر ناپنے کے لئے بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے مثلاً بقول شاعر ؎
ہے کتنا بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کُوئے یار میں
واضح رہے کہ یہ شعر خاکسار کا نہیں بلکہ بہادر شاہ ظفر کا ہے اور اُن کے زمانے میں مُردے کو قبرستان کی بجائے کُوئے یار میں دفن کیا جاتا تھا۔ 
ہتھوڑی
اوزار کا اوزار ہے اور ہتھیار کا ہتھیار۔ کسی کا سر پھاڑنا مطلوب ہو تو ہتھوڑا زیادہ مفید ہے جو ہتھوڑی کا مذکر ہے۔ کیل ٹھونکنے میں کارگر ہے۔ منقول ہے کہ ایک بیوقوف دیوار میں کیل ٹھونکنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کامیابی حاصل نہیں ہو رہی تھی کیونکہ اُلٹے کیل کو ٹھونکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک دوسرے بیوقوف نے یہ دیکھا تو اُسے کہا کہ یہ تو سامنے والی دیوار کا کیل ہے جو تم یہاں ٹھونک رہے ہو۔ چنانچہ اس نے کیل لیا اور سامنے والی دیوار میں جا کر ٹھونک دیا اور دوسرا عش عش کر اُٹھا۔ ماضی قریب میں ایک صاحب کا بتاتے ہیں کہ وہ رات کو سوئے ہوئے لوگوں کا ہتھوڑا مار کر سر پھاڑتا اور غائب ہو جاتا۔ یہ ایک سے زیادہ لوگ ہوا کرتے تھے جو ہتھوڑا گروپ کے نام سے مشہور ہوئے۔ زیادہ زخم پہنچانا مقصود نہ ہو تو اس کا دستہ نکال کر اس سے بھی کام چلایا جا سکتا ہے جو کہ اس کا لازمی حصہ ہے۔ لکڑی پھاڑنے کے بھی کام آتا ہے۔
پیچ کس
اس کا نام غلط رکھا گیا ہے کیونکہ یہ پیچ کسنے کے علاوہ اسے ڈھیلا کرنے کے بھی کام آتا ہے۔ ہم نے بہت سوچ بچار کیا ہے لیکن اس کے لیے کوئی مناسب تجویز نہیں کر سکے۔ دماغ کا کوئی پُرزہ ڈھیلا ہو تو اس کی مدد سے اُسے بھی کسا جا سکتا ہے یا جو پرزہ زیادہ کسا ہوا ہو، اس کی مدد سے اسے ڈھیلا بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس کا نام پیچ کس اس لیے بھی غلط ہے کہ یہ خود کوئی پیچ وغیرہ نہیں کس سکتا بلکہ یہ کام خود کرنا پڑتا ہے۔ یہ مختلف سائز کا ہوتا ہے یعنی جتنا بڑا پیچ ہو اُتنا ہی بڑا پیچ کس۔ البتہ کمر کسنے کے کام نہیں آتا جس کے لیے ایک پنجیری نما چیز تیار کر کے کھانی پڑتی ہے جو کمر کو مضبوط بناتی ہے۔ نہ ہی یہ آوازہ کسنے کے کام آتا ہے اور نہ ہی فقرہ کسنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ازار بند کسنے میں تو اس کا ہر گز کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک شعر دیکھیے ؎
ستر پوشی ہے قافیہ بندی
ہاں ذرا کس کے باندھیے شلوار
چمٹا، ناخن تراش، موچنا
کثیر الاستعمال اوزار ہے کہ یہ چمٹے کا چمٹا ہے اور سازکا ساز، اور چمٹا بجانا باقاعدہ ایک فن ہے۔ نافرمان بیوی کی دھلائی میں بھی کافی بابرکت ثابت ہوتا ہے۔ آگ جلانا اور کوئلوں کو اِدھر اُدھر کرنا اس کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اس کا نام چمٹا شاید اسی لیے رکھا گیا ہے کہ یہ کوئلے کو چمٹ جاتا ہے یا کوئلہ اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ ناخن تراش کا اب کوئی خاص رواج نہیں رہا کیونکہ یہ صرف حجام حضرات کے استعمال کرنے کی چیز ہوا کرتی تھی۔ اب تو آپ نیل کٹر سے خود بھی ناخن تراش سکتے ہیں۔ موچنا صرف بال نکالتا ہے، بال کی کھال نہیں۔ اس پر شاعری بھی کی گئی ہے ؎
حسین میر موچنا یہ کہہ گئی سلوچنا
نہ لیپنا نہ پوچنا یہ گھر میں بیٹھ سوچنا
پکڑ اُسے دبوچنا کہ اپنے بال نوچنا
آج کا مقطع
ہیں جتنے دائرے نئی ٹی شرٹ پر‘ ظفر
سوراخ اسی قدر ہیں پرانی جراب میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved