تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     10-01-2017

ہمارے پہناوے

تہمد
دیہاتی علاقوں میں مرد وزن اسے برابر پہنتے ہیں۔ کثیرالاستعمال لباس ہے۔ سفر پر ہوں اور کسی چھائو میں قیلولہ کرنا چاہیں تو اسے اُتار کر اوڑھ بھی سکتے ہیں۔ جہاں دونوں سروں سے اُسے باندھتے ہیں وہاں اپنے آپ ہی دو ڈِب بن جاتے ہیں جو جیبوں کا کام دیتے ہیں جن میں چوری کے پیسے یا چھوٹی موٹی چیزیں چھپائی جا سکتی ہیں۔ سامنے کی ہوا تیز ہو تو اسے ایک ہاتھ سے پکڑنا پڑتا ہے کیونکہ ہوا سے یہ بالکل واشگاف ہو جاتا ہے۔ اگر دونوں ہاتھ مصروف ہوں تو ہوا کی طرف پیٹھ کر کے چلنا شروع کر دیں تاکہ ستر پوشی قائم رہے۔ بوقت ضرورت اس کا تنبو یا شامیانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ازار بند وغیرہ سے بے نیاز اور خود کفیل ہے۔
قمیض
کالر کے بغیر ہو تو یہ کُرتا کہلاتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں نہ بھی پہنیں تو کوئی بات نہیں۔ جنگلی علاقے کے ایک قبائلی نے ایک شخص کو کُرتا پہنے دیکھ لیا۔ پہلے تو وہ حیران ہوتا رہا اور پھر بولا: ''اِس میں سے نکل کر تو دکھائو !‘‘
منقول ہے کہ ایک سکھ نوجوان منگنی کے بعد پہلی بار سسرال جانے لگا تو اسے سمجھایا گیا کہ پڑھے لکھوں والی باتیں کر کے اُنہیں امپریس کرنا۔ گنڈھے کو پیاز‘ بھاجی کو سالن اور جھگے کو قمیض کہنا۔ اس نے وہاں جا کر اردو کے کچھ لفظ بولے تو انہوں نے کہا کہ لڑکا تو پڑھا لکھا ہے۔ اس پر وہ بولا‘ تمہیں پتا تو اُس وقت چلے گا جب میں نے جھگّے کو قمیض کہہ دیا!‘‘
پاجامہ
یہ عام طور سے شہروں میں پہنا جاتا ہے۔ یہ اوپر سے ایک ہوتا ہے اور نیچے سے دو یعنی ''ٹو اِن ون‘ اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی ہو یا پاجامہ؟ اس کا ایک ورشن پتلون بھی ہے۔ فضول خرچ لباس ہے کیونکہ ایک شلوار سے کئی پاجامے نکل سکتے ہیں۔ ایک پٹھان کی شلوار سے کوئی بیس شلواریں نکل سکتی ہیں۔ اب اس میں ازار بند کی بجائے الاسٹک استعمال ہوتا ہے۔ اس کا خاص فائدہ تو یہ ہے کہ وقت کافی بچ جاتا ہے۔ دوسرے آپ کو زور کا پیشاب آیا ہوا ہو اور ازار بند پیچ گیا ہو تو آپ کیا کریں گے۔ ایک چست پاجامہ بھی ہوتا ہے جو آپ کو چُست رکھتا ہے۔ ایک چُوڑی دار پاجامہ ہوتا ہے جس نے چوڑیاں پہنی ہوئی ہوتی ہیں۔ مردوں کی رِیس میں خواتین بھی اب شلوار کی بجائے پاجامہ زیبِ تن کرنے لگی ہیں جسے نیا فیشن قرار دیا جاتا ہے‘ حالانکہ اس میں فیشن والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ ایک لہنگا بھی ہوتا ہے۔ ایک شعر سُنیے ؎
ٹخنے تو دکھلا پورے
لہنگا ذرا وہابی کر
حجم کے لحاظ سے صرف غرارہ پٹھان کی شلوار کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
ساری
اسے ساری اس لیے کہتے ہیں کہ یہ سارا جسم ڈھانپ لیتی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کو آم بھیجتے ہیں جس کے جواب میں مودی وہاں سے ساریاں بھجواتے ہیں اور ہمارے دریائوں کا پانی بند کرتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول بلکہ سرحد کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس کا تلازمہ چولی ہے جس کے پیچھے کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے‘ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ ع
چولی کے پیچھے کیا ہے؟
بنارس کی ساڑھیاں مشہور ہیں لیکن بنارس کے ٹھگ زیادہ مشہور ہیں۔ ساڑھی جسم کے ساتھ لگا کر ایک پُورا چکر کاٹنا پڑتا ہے‘ تب کہیں جا کر یہ زیب تن ہوتی ہے ۔ اس کے نیچے چست پاجامہ نما ایک چیز پہنی جاتی ہے، ہوا تیز ہو تو ساڑھی کو پکڑ کر رکھنا پڑتا ہے تاکہ اُڑ نہ جائے۔ اس کی سہولت صرف یہ ہے کہ اس کے ساتھ دوپٹہ نہیں اوڑھنا پڑتا یعنی اوپر سے یہ دوپٹے کا کام بھی دیتی ہے۔
لنگوٹی
یہ عام طور پر چور پہنتے ہیں جو بھاگتے وقت چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک شعر دیکھیے ؎
یہ کسی کا ہوائی بوسہ بھی
بھاگتے چور کی لنگوٹی ہے
اس کا مذکّر لنگوٹ ہے جسے پہن کر پہلوان لوگ کُشتی لڑتے ہیں۔ کچھ لوگ لنگوٹ کے پکّے ہوتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سُنا کہ فلاں شخص لنگوٹ کا کچّا ہے۔ لنگوٹا پہنا نہیں بلکہ کسا جاتا ہے جیسے کسی معرکے پر جانے کے لیے کمر کسی جاتی ہے ۔پنجابی میں اسے سُوتنا کہتے ہیں لیکن یہ کوئی خوبصورت لفظ نہیں ہے۔ لنگوٹ کے علاوہ پنجابی میں اسے لنگوٹا بھی کہتے ہیں۔ اس میں اتنا تھوڑا کپڑا لگتا ہے کہ بس نہ ہونے کے برابر۔ گرمیوں کے لیے یہ بہترین لباس ہے لیکن اس سے استفادہ کم ہی کیا جاتا ہے۔ اس پر شاعری بھی کی گئی ہے ؎
اِکّڑ دُکّڑ بمبا بو...اسّی نوّے پُورا سَو
سو لنگوٹا‘ تیتر موٹا...چل مداری‘ پیسہ کھوٹا
بنیان جُراب
ہمارے دوست اور شاعر انور مسعود سے نہایت بڑھیا بنیان ہر وقت مل سکتی ہے اس لیے بازار جانے کی ضرورت نہیں۔ سخت حبس اور گرمی کے موسم میں اگر قمیص اُتار دیں تو یہ جُملہ مقاصد پورے کرتی نظر آتی ہے۔ ایک شعر دیکھیے ؎
پھر سے لکھوائیں‘ سُرمے دانی ایک
تین بنیان‘ چار ٹائلٹ سوپ
جُراب آپ کا بھرم رکھتی ہے یعنی گلی سڑی ہوئی بھی ہو تو پتا نہیں چلنے دیتی۔ ایک شعر دیکھیے ؎
ہیں جتنے دائرے نئی ٹی شرٹ پر‘ ظفر
سوراخ اُسی قدر ہیں پُرانی جُراب میں
سردیوں کے لیے گرم جُرابیں ہوتی ہیں اور گرمیوں کے لیے ٹھنڈی۔
آج کامقطع
ظفر‘ ویسے تو میں بے زا رسا پھرتا ہوں سڑکوں پر
مگر پھر بھی کسی شہ کی طلب گاری میں رہتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved