تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     21-01-2017

امریکا میں انتقال اقتدار کی جھلکیاں

امریکہ میں نو منتخب صدر کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے دوران کیا کیا تیاریاں اور تبدیلیاں ہوتی ہیں؟ انہیں ڈرامائی عمل سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ان تیزرفتار تبدیلیوں کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
''واشنگٹن میں 20 جنوری کو جب صبح ہوئی تو صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس کے پلنگ پر آنکھیں کھولیں مگرجب رات ہوئی تو وہاں پر اوباما نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ سوئے۔ دن کے ٹھیک بارہ بجے تک وائٹ ہاؤس اوباما کا تھا اور روایت کے مطابق اس کے ایک منٹ پہلے تک بھی نئے صدر اس میں داخل نہیں ہوسکتے تھے۔برسوں سے چلی آ رہی روایات کے مطابق اقتدار کی منتقلی کے لئے وائٹ ہاؤس کے ملازمین کے پاس ‘صرف چھ گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔صبح کے ساڑھے دس بجے کے آس پاس جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی افتتاحی تقریر کے لئے تیار ہو رہے تھے، تو اس وقت دو بڑے ٹرک وائٹ ہاؤس کے اندر آئے اور الٹی طرف منہ کرکے کھڑے ہو گئے۔ سو سے زائد ملازمین نے برق رفتاری کے ساتھ ایک ٹرک میں صدر اوباما کا بندھا ہوا سامان لوڈ کرنا شروع کر دیا جبکہ دوسرے ٹرک سے ڈونلڈ ٹرمپ کا سامان اتارا جانے لگا۔وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات کے مطابق فوجی چابکدستی کے انداز میںدونوں کام ایک ساتھ ہی انجام دیئے جاتے ہیں۔اسی دوران دیواروں کی پینٹنگ ہو جاتی ہے۔ نئے قالین بچھ جاتے ہیں۔ شیشوں کی صفائی ہو جاتی ہے اور شام ہوتے ہوتے 132 کمروں پر مشتمل وائٹ ہاؤس‘ نئے صدر اور ان کے خاندان کے استقبال کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔خاص بات یہ کہ جب تک نئے صدر وائٹ ہاؤس میں داخل نہیںہو جاتے‘ اس وقت تک تمام ذمہ داریاں ان کی اپنی ہوتی ہیں۔
بارک اوباما جب 2009 میں شکاگو سے واشنگٹن آئے تھے تو اپنا پورا سامان انہیںاپنے خرچ پر لانا پڑا تھا۔ جب ایک بار صدرکا سامان وائٹ ہاؤس کے سٹاف کے سپرد ہو جاتا ہے ‘تو پھر اسے کیسے کھولنا ہے؟ کہاں رکھنا ہے؟ یہ سب ملازمین کی ذمہ داری ہو جاتی ہے۔ عام طور سے تمام صدور یا پھر ان کی اہلیہ ِوائٹ ہاؤس کے اندر کی سجاوٹ میں اپنے حساب سے کچھ رد و بدل کرتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بیوی میلانیا ٹرمپ کے ساتھ، چمک دمک والے اپنے پینٹ ہاؤس میں سنہرے پینٹ والی چارپائیوں، مہنگے جھاڑ فانوس اور مہنگی سے مہنگی سنگتراشی سے سجے ہوئے مکان میں رہنے کے عادی ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی اس سجاوٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں کرنے جا رہے۔ ویسے بھی جب نئے صدر اندر داخل ہونے کے بعد ہی، اپنی مناسبت سے کوئی رد و بدل کروا سکتے ہیں۔ نیویارک میگزین کے مطابق میلانیا ٹرمپ ایک گلیم روم بنانا چاہتی ہیں، جو ان کے میک اپ اور سجنے سنورنے کے لیے مخصوص ہوگا۔ میگزین کے مطابق ان کے میک اپ میں سوا گھنٹے کا وقت لگتا ہے اور اس کمرے کی روشنی اور باقی سجاوٹ پر خاصی توجہ دی جائے گی۔ عام طور پر بڑی تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ لیکن ماضی میں سابق صدور نے اپنی مناسبت سے چھوٹی موٹی تبدیلیاں کروائی ہیں۔صدر اوباما نے ایک ٹینس کورٹ کو باسکٹ بال کورٹ میں تبدیل کروایا تھا۔ فورڈ نے ایک بیرونی سوئمنگ پول بنوایا تھا‘ تو کلنٹن نے سات یا آٹھ نشستوں والا ایک ہاٹ ٹب بنوایا تھا۔20 جنوری کو شام گئے جب ٹرمپ اپنی تقریر، پھر پریڈ اور ''انوگرل بال‘‘ کہلائی جانے والی تقریب سے واپس آئے ،تب تک ہلکا پھلکا کھانا بھی تیار ہو چکا تھا‘ جو وائٹ ہاؤس کے باورچی کی پسند کا تھا۔لیکن اگلی صبح سے پسند اور ناپسند صرف ایک ہی آدمی کی ہو گی اور وہ ہوں گے ڈونلڈ ٹرمپ۔
واشنگٹن میں 20 جنوری کو ایک نامعلوم فوجی ساتھی کے ہمراہ بارک اوباما نے تمام صدارتی اختیارات منتقل کر دیئے۔یہ فوجی اہلکار (مردیا عورت) اپنے ساتھ ایک ایک بریف کیس اٹھائے ہوئے تھے، جو ''دی نیوکلیئر فٹ بال‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے اندر نمبروں پر مبنی ایک ہارڈ وئیر ہوتا ہے جو تین انچ چوڑا اور پانچ انچ لمبا ہے اسے '' بسکٹ‘‘کہا جاتا ہے۔اس میں جوہری حملے لانچ کرنے سے متعلق کوڈز ہیں۔ ان کو کس طرح سے استعمال کرنا ہے؟ اس کے بارے میں تو نئے صدر کو ہدایات پہلے ہی دی جا چکی ہیں تاہم جس وقت ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھایا،اس وقت یہ بریف کیس خاموشی سے ان کے فوجی ساتھی کو منتقل کر دیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے بعد کسی بھی ایسے اقدام کے احکامات دینے کا مکمل اختیار حاصل ہو گیا، جس کا نتیجہ ایک گھنٹے کے اندر اندر لاکھوں لوگوں کی ہلاکت بھی ہو سکتا ہے۔ اس وقت بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ انتہائی کم قوتِ برداشت کے باعث وہ کیا حفاظتی اقدامات ہوں گے جو جلد باز فیصلوں کے تباہ کن نتائج سے محفوظ رکھ سکیں؟پہلی بات تو یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری ہتھیاوں کے استعمال سے متعلق جو اشتعال انگیز بیان دیئے،وہ انہیں واپس لے چکے ہیں۔حال ہی میں انہوںنے کہا کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے آخری فرد ہوں گے تاہم انہوںنے اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا۔اگرچہ کمانڈ دینے والے لوگوں میں دوسرے اعلیٰ حکام بھی ہیں جن میں وزیرِ دفاع اور امریکی فوج کے جنرل شامل ہیں تاہم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹرٹیجک سٹڈیز واشنگٹن میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے ماہر مارک فٹزپیٹرک کا کہنا ہے کہ ''آخر کار حملہ کرنے کا کْلی اختیار صدر ہی کے پاس ہوتا ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ''صدر کی جانب سے جوہری حملے کرنے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ لیکن اس وقت وہ کسی ایک شخص کو اختیار دے گا تاہم اس کے بعد دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے۔‘‘
یہ سوچنا کہ کوئی صدر خود ہی کوئی یادگار فیصلہ کر لے گا، غیر حقیقی ہے۔ صدر حکم دیتا ہے اور وزیرِ دفاع آئینی طور پر اس کی تکمیل کا پابند ہوتا ہے۔ وزیرِ دفاع کو اگر صدر کی ہوش مندی پر کوئی شبہ ہو تو وہ اس کا حکم بجا لانے سے انکار بھی کر سکتا ہے تاہم یہ بغاوت کے زمرے میں آئے گا اور صدر اسے برخاست کر کے یہی حکم اس کے نائب کو دے سکتا ہے۔امریکی آئین میں کی جانے والی 25 ویں ترمیم کے تحت نائب صدر یہ قرار دے سکتا ہے کہ صدر فیصلے کرنے کے لئے ذہنی طور پر اہل نہیں ہے لیکن اس کے لئے اسے کابینہ کی اکثریت کی حمایت درکار ہو گی۔اس بریف کیس میں موجود نیوکلیئر بال، جو ہمیشہ صدر کے ساتھ رہتا ہے اور امریکی صدر کمانڈر اِن چیف بننے کے بعد ایک پلاسٹک کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے، اس میں موجود ''بلیک بک‘‘سے حملے کے ممکنہ اہداف کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ واشنگٹن کے قصہ گوؤں کے مطابق، سابق صدر نے ایک مرتبہ اپنا یہ شناختی کارڈ کھو دیا تھا، جب وہ اسے اپنی ایک جیکٹ میں بھول گئے اور وہ ڈرائی کلین ہونے چلی گئی۔ایک مرتبہ امریکی صدر اس طویل فہرست میں سے ہدف کا انتخاب کر لیتا ہے ،تو یہ حکم جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین کے توسط سے پینٹاگون کے جنگ سے متعلق کمرے تک جاتے ہیں اور پھر یہاں سے خفیہ کوڈز کا استعمال کرتے ہوئے یہ احکامات نبراسکا میں امریکی سٹرٹیجک کمانڈ ہیڈ کوراٹر کو بھیجے جاتے ہیں۔جوہری ہتھیار داغنے کا حکم وہاں موجود تجوری میں بند خفیہ کوڈز سے مطابقت کے بعد عملے تک منتقل کیا جاتا ہے۔
امریکہ اور روس دونوں کے پاس اتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے شہروں کو کئی بار تباہ کر سکتے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ محض ماسکو شہر کو تباہ کر نے کے لیے امریکہ کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں۔ان دونوں ممالک کے پاس موجود جوہری ہتھیار، دنیا بھر میں موجود جوہری ہتھیاروں کا 90 فیصد ہیں۔ ستمبر 2016ء تک روس کے پاس سب سے زیادہ 1796 ہتھیار تھے جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائلز، آبدوزوں کے ذریعے لانچ کئے جانے والے بیلسٹک میزائلز اور سٹریٹیجک بنکرز پر نصب کئے گئے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے احکامات کے مطابق ماسکو نے اپنی سٹریٹیجک نیوکلیئر میزائل فورس کو بہتر بنانے کے لئے اربوں ڈالر کی رقوم خرچ کیں۔ اس کے علاوہ سربیا کے جنگلوں کے نیچے زیرِ زمین سرنگوں میں اس کے بیلیسٹک میزائل موجود ہیں۔ جبکہ ستمبر 2016ء میں امریکہ کے پاس 1367 جوہری ہتھیار تھے جو زمین، سمندر میں آبدوزوں پر اور فوجی ہوائی اڈوں پر موجود ہیں۔ برطانیہ کے پاس 120 سٹرٹیجک ہتھیار ہیں جن میں سے ایک تہائی سمندر میں نصب ہیں۔روس اور امریکہ کے درمیان زمین سے داغے گئے میزائل کی اڑان کا وقت 25 سے 30 منٹ ہے، جبکہ آبدوز سے ساحل کے قریب جانے کی صورت میں یہ وقت 12 منٹ تک ہو سکتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ صدر کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں رہ جاتا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا یا مسلط کر دی گئی بین الاقوامی جنگ ہے؟ ایک مرتبہ یہ ہتھیار لانچ کر دیئے گئے، تو یہ فیصلہ واپس نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر یہ ابھی تک اپنے نصب کردہ مقام میں ہی ہیں، تو انہیں وہیں تباہ کیا جا سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک سابق سینئر اہلکار نے حال ہی میں بتایا کہ جوہری حملے کا فیصلہ کرنے کا زیادہ تر انحصار حالات پر ہوتا ہے۔ اگر یہ ایک طویل المیعاد پالیسی فیصلہ ہے کہ فلاں ملک پر حملہ کرنا ضروری ہے تو اس میں بہت سے لوگ ملوث ہوں گے۔ نائب صدر، قومی سلامتی کے مشیر اور کابینہ کے بیشتر ارکان فیصلہ سازی میں شامل ہوں گے۔لیکن اگر امریکہ پر اچانک سے سٹرٹیجک خطرہ نازل ہوتا ہے جیسا کہ کسی ملک کی جانب سے امریکہ کی جانب جوہری ہتھیار سے لیس میزائل داغا جاتا ہے، جو چند منٹ میں پہنچے والا ہے تو صدر کو یہ غیر معمولی اختیار حاصل ہے کہ وہ تنہا ہی حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔‘‘

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved