تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     25-01-2017

دھڑکتے لمحات

میں نے پاناما مقدمے کے بارے میں حتی الامکان کوشش کی کہ اس موضوع پر لکھنے سے گریز کروں۔ اب اس مقدمے کے فیصلہ کن مراحل شروع ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عوام جس وسیع پیمانے پر اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں‘ میرے لئے اب گریز کرنا یا چپ رہنا مشکل ہے۔ آج سے میں دلچسپ مراحل کا تذکرہ شروع کر رہا ہوں۔ جس قدر ممکن ہوا‘ آپ کو مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ آج تین اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
''پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران، جماعت اسلامی کے وکیل آصف توفیق نے اپنے دلائل شروع کرنے سے پہلے ،سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سامنے میڈیا کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے دوران بنچ میں موجود جج صاحبان نے‘ اْن سے (توفیق آصف) جو سوالات کئے تھے اور جس طرح اس بارے میں رپورٹنگ کی گئی، اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدالت ان درخواستوں پر فیصلہ کرنے کے لئے اپنا ذہن بنا چکی ہے۔ اس پانچ رکنی بنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ''دلائل کے دوران وکلا سے سوالات کرنے کا مقصد فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ حقائق تک پہنچنے کی کوشش ہوتی ہے۔‘‘جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، اس وقت تک میڈیا کو پابند کیا جائے کہ وہ اس بارے میں کوئی ٹی وی پروگرام نہ کرے تاہم عدالت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کے خاندان کو تحفظ دینے کے لئے وزراء کی ایک فوج عدالت میں پہنچ جاتی ہے‘ جس پر آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ''جنہوں نے سڑکوں پر کمنٹری کرنا تھی کرلی، اب انتظار کریں‘‘۔ اپنے دلائل کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ ذاتی وضاحت کے لئے وزیراعظم کو تقریر، پیر کو نہیں بلکہ منگل کو کرنی چاہیے تھی‘ جس پر بنچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ''وزیر اعظم اس دن تقریر نہیں کرسکتے جس دن گوشت کا ناغہ ہو‘‘۔ جج کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت میں ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا۔ جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی طرف سے، پارلیمان میں کی جانے والی تقریر کے مختلف حوالے دیے گئے‘ جس پر بنچ میں موجود جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہ اس تقریر کے حوالے پہلے بھی دے چکے ہیں کوئی اور دلائل دیں۔ جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''بھائی صاحب آگے چلیں‘‘۔ اْنہوں نے کہا، لگتا ہے کہ پرانی باتیں دہرا کر آپ سماعت میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔ سماعت کے دوران جب بنچ میں موجود ججز نے جماعت اسلامی کے وکیل پر سوالات کی بوچھاڑ کردی تو توفیق آصف نے اپنی بے بسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ لارجر بنچ کے سامنے ایسا ہی ہوتا ہے، اس لئے وکیل کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ بنچ میں موجود جسٹس گلزار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حدیبیہ پیپرز مل پاکستان میں ہے تو اس کا مقدمہ لندن میں کیوں کیا گیا؟ جس پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ التوفیق والوں نے کیا تھا، لہٰذا اس بارے میں اْنہی سے ہی پوچھا جائے۔ جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ اْن کا نام بھی تو توفیق ہے، کہیں آپ نے تو وہ مقدمہ دائر نہیں کیا تھا؟ اس پر عدالت میں ایک اور قہقہہ بلند ہوا۔ سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل نے سپریم کورٹ کے دائرہ سماعت سے متعلق اپنے دلائل میں کہا کہ اگر سپریم کورٹ ادکارہ عتیقہ اوڈھو سے شراب کی بوتل اور ایان علی کو بیرون جانے سے روکنے کے معاملے پر کارروائی کرسکتی ہے تو پاناما کا معاملہ تو اس سے بہت بڑا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عتیقہ اوڈھو کے وکیل ہیں یا ایان علی کے؟ اْنہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے دل کی بات زبان پر آگئی ہے، جس پر عدالت میں ایک اور زوردار قہقہہ سنائی دیا۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ انصاف کے ترازو میں سب کو ایک ساتھ تلنا چاہیے۔ اس پر بنچ کے سربراہ نے توفیق آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تلنا نہیں ہوتا بلکہ تولنا ہوتا ہے۔ سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل کی طرف سے اپنے دلائل بارہا دہرانے پر، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایک بار آپ کے دلائل لکھ چکے ہیں تو انہیں آپ دس بار کیوں دہرا رہے ہیں؟ اس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے بنچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ''مائی لارڈز اِف یْو الاؤ مِی! میں اپنے دلائل جاری رکھنا چاہتا ہوں‘‘۔ جسٹس عظمت سعید نے توفیق آصف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیشہ آپ کو ''الاؤ‘‘ کیا ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ عدالت آپ کو'' ڈس الاؤ‘‘ کرکے آپ کی خواہش پوری نہیں ہونے دے گی۔ جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل پر اْن کی اتحادی جماعت، پاکستان تحریک انصاف کے وکیل بھی مسکرا رہے تھے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی استثنیٰ صرف قانون سازی کے عمل کے حوالے سے حاصل ہوتا ہے جبکہ ذاتی وضاحت کے لئے پارلیمان کو استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف کا کہنا تھا کہ عدالت ، وزیراعظم سے یہ تو ضرور پوچھے کہ انہوں نے ذاتی وضاحت کے لئے پارلیمان کا فورم استعمال کیوں کیا؟ ان درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے سربراہ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جماعت اسلامی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کی تقریر ایوان کی کارروائی کا حصہ ہے؟ جس پر توفیق آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تقریر، قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔ بنچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا قومی اسمبلی کے سپیکر نے، وزیراعظم کو تقریر کرنے کی اجازت دی تھی؟ جس پر جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اجازت تو ضرور دی تھی لیکن قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے کی کارروائی نہیں تھی۔ اْنہوں نے کہا کہ ''اگر وزیراعظم نے ذاتی وضاحت کرنی تھی تو اس کا ایجنڈے میں ہونا ضروری تھا‘‘۔ توفیق آصف نے کہا کہ وزیراعظم کو ذاتی وضاحت کے لئے پرائیویٹ ممبر ڈے کا انتخاب کرنا چاہیے تھا ، جو کہ منگل کا روز ہے جبکہ وزیراعظم نے پیر کے روز تقریر کی تھی۔ بنچ میں شامل جسٹس گلزار نے جماعت اسلامی کے وکیل سے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم کی تقریر پر کسی نے اعتراض کیا تھا؟ آصف توفیق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد ایوان میں موجود حزب مخالف کی جماعتوں نے ایوان سے واک آوٹ کیا تھا۔ جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے ایوان میں تقریر کی، جو ایوان کی کارروائی کا حصہ ضرور ہے لیکن اس تقریر کو آئینی استحقاق حاصل نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سے، وزیر اعظم کی تقریر کا متن منگوایا جائے، جس پر بنچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تقریر کا متن پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے اپنی درخواست کے ساتھ دیا ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ جس پر توفیق آصف کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ اس تقریر کا ترجمہ کرتے ہوئے کوئی غلطی رہ گئی ہو۔ عدالت نے جماعت اسلامی کے وکیل سے کہا کہ وہ اس بارے میں نئے دلائل دیں اور عدالت کا وقت ضائع نہ کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ اْن دلائل کو بار بار دہرا رہے ہیں جن کا ذکر وہ خود متعدد بار کرچکے ہیں۔ جماعت اسلامی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران اپنے خاندان کے کاروبار کا دفاع کیا اور جب عدالت میں آئے تو اْنہوں نے اپنے اوربچوں کے لئے الگ الگ وکیل کرلیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں لندن میں خریدے گئے فلیٹس اور منی ٹریل کا ذکر نہیں کیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے وکیل نے کہا تھا کہ چونکہ لندن فلیٹس وزیر اعظم کی ملکیت نہیں ہیں، اس لئے انہوں نے نہ تو عدالت میں منی ٹریل کا ذکر کیا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی ثبوت پیش کئے، محض قانونی نکات کے انبار لگا دیے۔
جرمن اخبار ''زوڈ ڈوئچے سائیٹنگ‘‘ نے پیر کے روز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے چند دستاویزات شیئر کی ہیں جن سے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف کا پاناما گیٹ سے تعلق واضح ہوتا ہے۔ ''زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘‘ کی طرف سے ایک ٹویٹ میں لکھا گیا ''پاکستان میں وہ افراد جو پاناما پیپرز کے حوالے سے مریم صفدر کے کردار پر شبہ کر رہے ہیں، وہ ان دستاویزات کو دیکھیں اور خود فیصلہ کریں‘‘ اس ٹویٹ میں مریم نواز شریف کے پرانے پاسپورٹ کی تصویر کے ہمراہ ''مینروا فائنانشل سروسز‘‘ نامی دستاویز شامل ہے۔ اس دستاویز میں مریم نواز شریف کے ذاتی کوائف لکھے ہوئے ہیں۔ اس دستاویز میں آمدنی کے ذرائع کے خانے میں لکھا ہے: ''خاندان کی گزشتہ 60 سالوں کی دولت اور کاروبار‘‘۔
پاکستان میں عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے یہ دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا رکھی ہیں ‘ جہاں پانچ رکنی بنچ شریف خاندان کے خلاف مالی بدعنوانی کے کیس کے حوالے سے دائر پٹیشنوں کی سماعت کر رہا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا پر''مریم نواز شریف ایکسپوزڈ‘‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ عمران خان نے اس حوالے سے ٹویٹ میں لکھا ''انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس نے مریم نواز شریف کے پاناما پیپرز میں ملوث ہونے کے حوالے سے مزید دستاویزات شائع کر دیں‘‘۔ پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:''اب نواز شریف کے لیے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں رہا‘‘۔ واضح رہے کہ ''زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘‘ وہ پہلا ادارہ تھا جسے پاناما گیٹ کی 11.5 ملین خفیہ فائلز موصول ہوئی تھیں۔ ان فائلز میں ان پاکستانیوں کے نام بھی شامل ہیں‘ جن کی پاناما میں آف شور کمپنیاں ہیں‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved