تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     26-01-2017

شہروں کی سکڑتی شریانیں!

حکومتیں بدلتی ہیں ۔ کرپشن کے خلاف فوجی آمریتیں مسلط کی جاتی ہیں‘ پھرریاستی جبرکو توڑنے کے لیے جمہوری حکومتیں آتی ہیں۔لیکن یہاں کے محنت کش عوام کی بھاری اکثریت کی حالت زار بد سے بدترہی ہوتی چلی جاتی ہے۔ روزمرہ کی زندگی کے عذابوں میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ جہاں عام خاندانوں اور افراد کی روٹی روزی کا حصول ایک اذیت ناک جہدِ مسلسل بن گیا ہے وہاں سماجی طور پر اجتماعی ضروریات اور سروسز کا حصول معاشرے کی وسیع تعداد کے لیے مشکل ہوتا چلا جارہا ہے ۔ علاج کی مہنگائی ہویا انصاف کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتیں، بجلی پانی اورنکاس کی خستہ حالی ہویاآدھی آبادی کے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر دھکے کھارہے ہوں۔بیروزگاری کا سیلاب ہے او ر ہر طرف افراتفری اور جلدبازی میں انسان ایک اندھی دوڑ میں اپنے آپ سے بے خبر بھاگے جارہے ہیں۔لیکن جہاںہر طرف بھیڑ بڑ ھ رہی ہے، وہاں اس بحران زدہ معاشرے کا فرد مجبور‘ محروم اوربیگانگی کا شکار ہو تا چلا جارہاہے۔جہاںزندگی گزارنے کے مسائل کا انبار لگا ہوا ہے وہاںآمدورفت اورٹریفک کانظام اس تیزی کی شدت کوٹریفک جاموںکی اذیت ناک الجھن اورپراگندگی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور،کوئٹہ،اس ملک کا ہرشہرٹریفک جاموں سے رکتا جارہاہے۔ایک طرف ترقی کے میناروں کے جزیرے اس غربت اورغلاظت کے بحرمیں کھڑے کرکے ترقی کا شورمچایاجارہاہے تودوسری جانب سپریم کورٹ کی بلند وبالا عمارات کے اندر اور باہر کرپشن کے واویلے میں بلکتے ہوئے عوام کے سلگتے مسائل سے بے نیاز مالیاتی سیاست کے مداری اپنے کرتب دکھا رہے ہیں۔لفاظی کی نوراکشتی اورفرقے بازی ہے۔ہرپارٹی اوہرٹاک شوکے ہیرو اس دورمیںبدمزہ اورکالے مزاح والے بھانڈ ہی بن گئے ہیں۔لیکن حکمرانوں کے لیے ٹریفک کے مسائل اتنے سنگین نہیں ہیں‘ انہوں نے جہاںپہنچناہوتاہے ان کے لیے پولیس سڑکیں خالی کروالیتی ہے۔اس ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے عام لوگ ان پرجوفقرے کستے ہیں اگرکوئی شریف انسان سن لے توچلو بھرپانی میں ڈوب مرے۔لیکن ہمارا حکمران طبقہ اب اتنا ڈھیٹ ہوچکا ہے کہ اس تضحیک سے ان میں کوئی شرمساری یا غیرت کے جاگنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔لیکن جہاں دوسرے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو مزید بگاڑنے کا عمل اس نظام میں ناگزیر ہوچکا ہے وہاں ٹریفک جاموں کے اضافے اور شہروں کی سکڑتی شریانوں کی اصل وجہ اس نظام زر کی بوسیدہ کیفیت کے ارتقا کے کردار اور اس کا طرز ہی ہے۔
اس نظام معیشت میںمنافعوں کی گرتی شرح کو ابھارنے اوربڑھانے کے لیے یہ حکمران جن پالیسیوں کو چند دہائیوں سے استوارکرتے آئے ہیں،اس سے وہ معاشرے کی بیماریوں کی اس گھٹن،جکڑاور سماجی بربادی سے بے پرواہ ہو کر معاشرے کو تباہ کرنے والی ڈگر پر ہی چلے جارہے ہیں۔اس پالیسی کو کوئی ایک پارٹی یا حاکمیت جاری نہیں رکھے ہوئے بلکہ اس وقت قومی اور صوبائی حکومتوں پربراجمان تمام پارٹیوں کی معاشی پالیسی ایک ہی بنیاد پر مبنی ہے۔یہ پالیسیاں معاشرے کی ضروریات کے لیے نہیںبلکہ منڈی کی ہوس کے لیے وضع کی جاتی ہیں۔کراچی میںہرروز15000موٹرسائیکل اور1100نئی گاڑیاں اترتی ہیں۔یہی صورتحال تمام شہروں اور دیہات میں ان کے حجم کے پھیلائوکے تناسب سے جاری ہے۔سڑکیں کتنی ہی کیوں نہ بن جائیں،شاہراہوں کو کتنا ہی کھلاکیوںنہ کرلیاجائے،ٹریفک کنٹرول کے جتنے بھی جدید آلات کیوںنہ نصب کرلیے جائیں ، ٹریفک جام اور سڑکوں کی گھٹن بڑھتی ہی چلی جائے گی۔اس گھٹن میں اضافہ بدتمیزی اور کم ظرفی کوجنم دیتاہے ، لڑائیاں ہوتی ہیں ، گلی محلے اور سڑکوں پرتلخی اور تنائو بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔لیکن آخریہ کیاطرزمعیشت ہے جس پرپہلے سے ہی گنجان سٹرکوں اور گلیوں میں حکمران ان گاڑیوں اورموٹرسائیکلوںکے انبارٹھونسے چلے جارہے ہیں؟اس کی بنیادی وجہ منافع خوری کوبرقراررکھتے ہوئے سماجی ارتقاکی یہ طرزہے جس میں آمدورفت کی سرکاری سہولیات کے فقدان کوقائم رکھتے ہوئے نجی شعبے کو ایک منڈی فراہم کی جاتی ہے جس میں علاج اور تعلیم کی طرح آمدورفت کو منافع خوری کو ایک بڑا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر لوگوں میں موٹر سائیکل یا گاڑی خریدنے کی سکت نہیں ہے تو پھر کیا ہوا!حکمرانوں کی کریڈٹ فنانسنگ کی پالیسی جو موجودہے۔ قرضے پر گاڑیاں لے کر اپنی کمائی سے بینکوں کے سود ادا کرتے رہیں گے۔ اس سودی قرضے کی جکڑ میں اپنے مسائل کے حل کے لیے کوئی تگ دو کرنے یا کسی طبقاتی کشمکش کے سیاسی عمل میں داخل ہونے کی بجائے وہ اپنی سوچ اور توانائیاں اس سودی نظام کے آگے گروی رکھ دیں گے۔پھر ٹریفک جاموںمیں پھنس کرتلخ بھی ہونگے، 
دھوئیں سے بیماریاں بھی پیدا ہونگی اور مزید تکلیف میں مزید کمزور ہونگے۔پھر ایک سماجی خوف بھی ہے جس کے لباس میں عدمِ تحفظ سے لے کر توہماتی رجحانات میں غرق کرنے کا ایک خاموش مگر زہریلاکھلواڑ بھی جاری ہے۔ہر کسی کو ملکیت کی نفسیات میں جنون اور وحشت کی حد تک الجھا دیا گیا ہے۔ گاڑیوں سے لے کر گھروں اور مکانات کے حصول کے لیے جہاں خونی رشتے دست وگریباں ہیں وہاں عمومی شعورمیں لطافت خوشی اور جمالیاتی حسیں مجروح کرکے رکھ دی گئی ہیں۔ جہاں گاڑیوں کا سڑک سے تضاد بڑھ رہا ہے وہاں دولت کا بھی انسانی محنت سے تضاد، تصادم کی جانب بڑھ رہا ہے۔ نظام زر کی اس سود خوری کی یلغار کو روکنے کے لیے اس کو بہتر منڈی کی معیشت تو نہیں بنایاجاسکتا۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا تقریباً خاتمہ کردیا گیا ہے۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں میٹرو بس سروس شہر کے زیادہ سے زیادہ ایک فی صد کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ باقی آبادی کو دوسرے خود غرضی کے لالچوں کی طرح ذاتی ٹرانسپورٹ کی ہوس میںالجھا دیا گیا ہے۔ 1960ء اور70 ء کی دہائیوں تک ڈبل ڈیکر بسیںہوتی تھیں۔ عوام گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کی بسوں کو شہروں کے اندر اور دوسرے علاقوں تک سفر کے لیے ترجیح دیتے تھے۔ ریلوے آج سے کہیں بہتر تھی۔ سفر کافی حد تک وسیلہ ظفر تھا۔ لیکن اب کاسفر ایک ''Suffer‘‘ بن گیا ہے۔ کیا پچھلی 4 دہائیوں میںاس نظام نے یہ ترقی کی ہے؟لیکن حکمران اوریہ نظام اس سلسلے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ وہ پٹرول ٹرانسپورٹ پر بھاری ٹیکس عائد کرکے ان کے استعمال کو کم یا ختم کرسکتے ہیں۔ 
ان بھاری رقوم اور اس انفرادی ٹرانسپورٹ میں جو اربوں کھربوں کا ضیاع ہورہا ہے اس سے اعلیٰ ریلوں،زیر زمین میٹرو، ٹراموں اور معیاری بسوں کی مفت یا بہت کم اخراجات والی ٹرانسپورٹ عوام کو فراہم کرسکتے ہیں۔اس سے لوگوں کو ایک دوسرے کو جاننے کے مواقع مل سکتے ہیں، ایک سماجی واقفیت اور اپنائیت کا احساس ان کے خوف اوربیگانگی کو ختم کرسکتا ہے۔ڈرائیونگ کی الجھن اور تنائوسے چھٹکارا حاصل ہوسکتاہے۔ زندگی کی آمدورفت میںبہت سی تلخیوں کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن پھر امیر گھرانوں کے بدتمیز بچے اورنوجوان گاڑیوں کی شوبازی کیسے کریں گے؟ چمکیلے موٹر سائیکلوں کی نمائش کرکے اپنے ہم عصروں کو للچائیں گے کیسے؟اس بوسیدہ اور تاریخی طور پر متروک نظام کو اپنے وجود کو برقرار اور اپنے جبر کے تسلسل کے لیے عوام کی اجتماعیت کا سب سے بڑا خوف وخطرہ لاحق رہتا ہے۔ جہاں وہ ذہنی طور پر لوگوں کو مذہبی فرقہ واریت سے لے کر برادری ازم کی منافرتوں میں الجھائے رکھتے ہیں ۔ وہاں وہ زندگی کی ضروریات کو بھی مقابلہ بازی کا ایک ذریعہ بنا کر انسانوں کے درمیان تنائو اور حسد کو جاری رکھوانے کی واردات کرتے جارہے ہیں۔ اس نظام میں تو ایسا ہی ہورہا ہے اور مزید ہوگا۔عام لوگ نہ صرف ضروریات کی قلت میں ترستے ہی پیدا ہوتے ہیں اور ترستے ہی ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔ محرومی اور ضروریات کے حصول کی جستجو کی زنجیروں میں عوام کو جکڑے رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس نظام کی زنجیریں اتنی طاقت ور نہیں ہیں کہ محنت کشوں اورنوجوانوں کو سداایسے ہی جکڑے رکھیں گی۔ یہ بکھرا ہوا شعور مجتمع بھی ہوگا۔ اور جب یہ احساس جاگ اٹھا تو انہی انسانوں کی رگوں اور شریانوں میں جو بغاوت گردش کرے گی وہ پھٹ کر اس نظام کو ہی پاش پاش کرکے زندگی کو سہل اور مانگ کا خاتمہ کرسکے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved