تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     29-01-2017

پاناما دھما چوکڑی

پاناما کیس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کم و بیش اسّی گھنٹے عدالت فریقین کے وکلا کو سن چکی ہے اور ابھی کتنے گھنٹے (یا دن) مزید صرف ہوں گے، اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں ہے۔ پانچ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے واضح کر دیا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مقدمہ سست روی کا شکار ہے۔ وہ جب تک مناسب سمجھیں گے، سماعت جاری رہے گی۔ فیصلہ (لوگوں کی) خواہشات پر نہیں قانون کے مطابق ہو گا۔ اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی تو انور ظہیر جمالی چیف جسٹس تھے، ان کی ریٹائرمنٹ کا دن آ گیا لیکن معاملہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ جب عدالت نے تحقیقاتی کمشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے تو تحریکِ انصاف نے اسے نامنظور کر دیا۔ اس کے وکیل نے عمران خان صاحب سے ہدایات حاصل کرکے بتایا کہ کمشن کا قیام ان کو منظور نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کی جو درخواست زیر سماعت تھی اس میں معاملے کی تحقیق کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کی استدعا بھی کی گئی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے یہ بیان دیا گیا کہ وہ اس معاملے میں کوئی قطعی رائے نہیں رکھتے‘ اسے عدالت کی صوابدید پر چھوڑ رہے ہیں‘ وہ چاہے تو کمیشن قائم کر دے اور چاہے تو خود سماعت جاری رکھے۔
چیف جسٹس جمالی چند روز میں ریٹائر ہونے والے تھے، اس لئے معاملہ آنے والے چیف پر چھوڑ دیا گیا اور سماعت کرنے والے بنچ نے آخری ہچکی لے لی۔ عدالتی روایت کے مطابق سربراہ تبدیل ہونے سے بنچ ٹوٹ جاتا ہے اور اسے نئے سرے سے تشکیل دینا پڑتا ہے۔ نئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے منصب سنبھالا تو سوشل میڈیا پر مہم چلا دی گئی کہ وہ تو نواز شریف کے ایک (سابق) دور حکومت میں سیکرٹری قانون کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ ان کی ایک جعلی تصویر بھی سرکولیٹ کر دی گئی، جس میں انہیں وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھے دکھایا گیا تھا۔ جس شخص کو جسٹس ثاقب نثار قرار دیا گیا وہ خیبر پختونخوا کے (اب) گورنر اقبال ظفر جھگڑا تھے جو مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی نواز شریف کی قربت سے لطف اندوز ہونے کا حق رکھتے تھے۔ جسٹس ثاقب نثار ایک زیرک اور معاملہ فہم فقیہہ ہیں۔ قانون کی کتابوں پر ان کی عالمانہ نظر ہے اور کئی یادگار فیصلے انہوں نے سپرد قلم کئے ہیں۔ ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رہا، لیکن معاملات کو الجھانے کی خواہش رکھنے والوں کی زبانوں کو لگام دینا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے دانش مندانہ فیصلہ یہ کیا کہ نئے بنچ سے اپنے آپ کو الگ کر لیا۔ اس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سونپ دی۔ بے لگام، بے زبان ہو کر رہ گئے اور معاملہ آگے چل پڑا۔
نئے بنچ نے از سر نو سماعت شروع کی۔ حامد خان تو عمران خان صاحب کی وکالت سے الگ ہوئے ہی تھے، وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے وکیل بھی تبدیل ہو گئے۔ وزیر اعظم کے وکیل سابق اٹارنی جنرل سلمان بٹ کے بجائے ایک دوسرے سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان قرار پائے۔ بٹ صاحب کا یہ جملہ مشہور ہو گیا کہ وزیر اعظم کا اسمبلی میں بیان سیاسی تھا (اس لئے اسے سیریس نہ لیا جائے) کہنا تو وہ یہ چاہتے ہوں گے کہ قومی اسمبلی میں دیا گیا کوئی بیان عدالتی نہیں ہوتا، اس لئے اسے جانچتے پرکھتے ہوئے قانونی مین میخ نہیں نکالی جا سکتی لیکن جو الفاظ انہوں نے چنے، انہوں نے اپوزیشن کے ہاتھ میں ایک نئی کمان دے دی۔ مجھ سے ممتاز کالم نگار ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے پوچھا کہ وزیر اعظم کے بیان کو سیاسی قرار دے کر، کیا سیاست اور خود وزیر اعظم کے ساتھ زیادتی نہیں کی گئی؟ میں نے جواباً عرض کیا تھا کہ جس طرح اخبار کے کالم اور اداریے میں فرق ہوتا ہے، اسی طرح اسمبلی اور عدالت کے بیان میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ ایک ہی شخص کالم لکھتے وقت ایک بات جس انداز میں بیان کرے گا، اسی موضوع پر اداریہ لکھتے ہوئے وہ دوسرا اسلوب اختیار کرنے پر مجبور ہو گا، اس لئے اگر اسمبلی کی تقریر اور عدالتی بیان کو دو مختلف اصناف قرار دیا جا رہا ہے تو واقعاتی طور پر اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔ معاملہ سچ اور جھوٹ کا نہیں انداز اور اسلوب کا ہے۔ برادرم اکرم شیخ وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل تھے، انہوں نے بھی رخصت طلب کر لی، (سابق) گورنر شاہد حامد اور سلمان اکرم راجہ علی الترتیب مریم نواز شریف اور ان کے بھائیوں کے وکیل مقرر ہو گئے۔ عمران خان صاحب کی وکالت نعیم بخاری کے حصے میں آئی، ڈاکٹر بابر اعوان سے یہ مقدمہ یا اس مقدمے سے ڈاکٹر صاحب محفوظ رہ گئے۔
جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا تو خیال یہی تھا کہ اب فریقین کو قدرے قرار آئے گا اور وہ کان اور آنکھیں سپریم کورٹ پر لگا کر بیٹھ جائیں گے۔ پاکستان کی عدالتی روایت یہی ہے کہ جب کوئی درخواست عدالت میں زیر سماعت ہوتی ہے تو پھر اس پر کسی بھی تبصرے سے گریز کیا جاتا ہے۔ فریقین اسے تقریر و تحریر کا موضوع بناتے ہیں نہ عدالت سے باہر آکر آستینیں چڑھاتے ہیں۔ میڈیا میں بھی اس طرح کے اظہار رائے سے گریز کیا جاتا ہے، جسے ججوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جائے لیکن اس مقدمے کا باوا آدم نرالا ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کے احاطے ہی میں مچان لگی ہوئی ہے۔ فریقین عدالتی کارروائی پر اپنا اپنا رنگ چڑھا کر بیان کرتے اور اپنی اپنی توقعات کا اظہار کرنے سے باز نہیں آتے۔ شیخ رشید عدالت سے تابوت برآمد کرنے کے دعوے کرتے ہیں تو ان کے حریف برّیت کا پروانہ برآمد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹی وی سکرینیں بھی اس مقدمے سے بھری پڑی ہیں۔ کئی اینکر حضرات اور ان کے مہمان کبھی جج بن جاتے ہیں، کبھی وکیل۔ دلائل تو کیا وکلا کے بھی بخیے ادھیڑے جاتے ہیں اور اپنی خواہشات کو قوم کی خواہشات بنا کر پیش کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش ہوتی ہے۔ جلسے، پریس کانفرنسیں، مظاہرے جاری ہیں۔ اور تو اور قومی اسمبلی میں بھی اس موضوع پر گالم گلوچ ہی نہیں، ہاتھا پائی بلکہ مارکٹائی تک کی نوبت آ پہنچی۔ وزیر اعظم کے خلاف تحریکِ استحقاق پیش کرنے کی کوشش میں ایک دوسرے کا منہ کالا کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی اور ان کے ہم نوائوں کا خیال تھا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں ''غلط بیانی‘‘ کرکے ان کا استحقاق مجروح کیا ہے، حالانکہ یہ طے ہونا باقی ہے کہ وزیر اعظم نے اسمبلی میں مکمل تفصیل نہ بیان کرکے ''غلط بیانی‘‘ کی ہے یا مختصر گوئی۔ اپوزیشن اور حکومت دونوں میں سے کسی کو شاباش نہیں دی جا سکتی کہ دونوں ہی نہلے پر دہلا ہیں۔ دونوں ہی کے حامی پُرجوش ہیں دونوں ہی کو اپنے اپنے نقطۂ نظر پر یقین کامل ہے۔ دونوں ہی سے گزارش کی جائے گی کہ اگر انہیں اپنا اپنا سچ منوانا تھا تو پھر عدالت کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت تھی؟ براہ کرم جذبات کو ٹھنڈا رکھیے اور جو کچھ کہنا ہے اپنے وکیلوں کے ذریعے عدالت سے کہیے، جو فیصلہ بھی آئے اس کی روشنی میں قدم آگے بڑھائیے۔ دھونس جمانے کا نام قانون کی حاکمیت نہیں ہے۔ عدالت سے بھی یہ گزارش بے جا نہیں ہو گی کہ وہ فریقین پر ڈسپلن نافذ کرے۔ دھماچوکڑی مچانے کی لَت انصاف کے تقاضوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ آگ بھڑک اٹھے تو اس سے صرف آگ لگانے والے ہی نہیں جلتے اور بہت کچھ بھی جل سکتا ہے۔
[یہ کالم روزنامہ ''دنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔]

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved