تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     30-01-2017

اس پہ پھر کبھی

پراچہ کے اجداد‘ افغانستان کی ایک وادی سے آئے تھے۔ نسلاً وہ اعوانوں کے عم زاد ہیں‘ یعنی خالص عرب۔ ہجرت پہ ہجرت وہ کیوں کرتے رہے؟ انشاء اللہ اس پہ پھر کبھی۔ 
27 ؍ دسمبر 1979ء کو سوویت یونین کی سفاک سرخ سپاہ افغانستان میں داخل ہوئی تو ایک عجیب کیفیت دل پہ گزر گئی۔ عمر بھر کبھی نظم لکھی تھی اور نہ کہانی ۔اس کے بعد کہانیاں لکھیں اور نظمیں بھی۔ اس عہد کے ساتھ ہی یہ قصہ تمام ہو گیا۔ جولائی 1992ء میںکابل کا قصد کیا تو گلبدین حکمت یار سے ملاقات کا ارادہ بھی تھا۔ تین دن انٹرکانٹی ننٹل میں ٹھہرے‘ جس کی منقش چھتیں اور جس سے منسلک باغِ بالا میں انگور کی بیلیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ حکمت یار سے ملاقات نہ ہو سکی۔ واپس آ کر لکھنا چاہا تو ڈھنگ کی کوئی چیز لکھی نہ جا سکی۔ دل ویران تھا اور ذہن خالی۔ 
قرآن کریم کی یہ آیت بہت بعد میں سنی کہ ہر ذی روح کو اللہ نے اس کے ماتھے سے تھام رکھا ہے۔ فکر رسارکھنے والے ذہن کو جو پیشانی کے پیچھے ہے۔ یہ خیال‘ بہت بعد میں‘ لگ بھگ تین چار برس کے بعد سوجھا کہ انسان شاید سوچتا نہیں ۔ غالبؔ نے شاعری نہ کی تھی‘ حقیقت واقعہ بیان کی تھی۔ جینئس کے دماغ نے ایک ازلی حقیقت کو پا لیا تھا ؎
غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
اس زمانے میں سرکار ختم المرسلینؐ کا ایک ارشاد سنا : ایک فرشتہ آدمی کی طرف وحی کرتا ہے اور ایک شیطان بھی۔ مزید ایک عشرہ گزر جانے کے بعد پروفیسر احمد رفیق اختر کو وہ شاہکار لیکچر دینا تھا‘ جس کا عنوان یہ تھا ''کیا انسان سوچتا ہے؟‘‘ 
جی نہیں‘ یہ میرا خیال ہرگزنہ تھا۔ بالکل برعکس‘ ایک شب اچانک انہوں نے سوال کیا : آپ کے خیال میں انسان کیا غوروفکرپہ قدرت رکھتا ہے۔ عالی مرتبت کے قولِ مبارک کا حوالہ دیا۔ گزارش یہ کی کہ میرے خیال میں تو ہرگز نہیں۔ دلیل اس کی یہ ہے کبھی ایسا تصور آدمی کے ذہن میں جاگ اٹھتا ہے‘ جو اس کے تمام تر تجربے سے بڑااور مختلف ہوتا ہے۔ آدمی کو اس پر یقین بھی آ جاتا ہے اور کبھی بہت گہرا یقین۔ وہ درست بھی ثابت ہوتا ہے۔ خطرہ مول نہ لینے والا خطرہ مول لیتا ہے۔ فیصلہ نہ کرنے والا فیصلہ صادر کرتا ہے۔ 
شہرِ لبِ دریا‘ چنیوٹ کی شیخ برادری کے بارے میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی تازہ کتاب میں سینکڑوں ایسے واقعات رقم ہیں۔ آج یہ کتاب لے کر ازراہ کرم وہ میرے پاس تشریف لائے۔ عرض کیا : میں پڑھ چکا ہوں‘ اس کا دو تہائی ۔ باقی اوراق پڑھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی‘ جو کچھ آپ کہنا چاہتے تھے‘ محسوس ہوا کہ واضح ہو چکا۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ یہ کتاب نوجوانوں کے لیے لکھی ہے‘ جو نوکریوں کی تلاش میں رہتے اور زندگیاں رائیگاں کرتے ہیں۔ اب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو رحمتہ للعالمینؐ کا فرمان ذہن میں گونج اٹھا ہے : رزق کے دس میں سے نو حصّے تجارت میں ہوتے ہیں۔
اس کتاب کا خیال ڈاکٹر صاحب کو کیسے سوجھا۔ چنیوٹ کی شیخ برادری سے ان کا کوئی تعلق ہے اور نہ کاروبار سے۔ چنیوٹ سے رشتہ یہ ہے کہ عہد شباب میں اسسٹنٹ کمشنر کے منصب پر وہاں فائز رہے۔ بے شک ڈاکٹر صاحب ایک رومان پسند آدمی ہیں۔ دل و جان نچھاور کرنے والے۔ اس قدیم شہر کی الفت میں ان کے مبتلا ہونے پر کوئی تعجب نہیں۔ حیرت انگیز یہ ہے کہ ایسا معروف آدمی درجنوں صنعت کاروں اور تاجروں کے انٹرویو کرے‘ کراچی سے چنیوٹ تک اس دیار کی تاریخ کھنگالے۔ ایک ایک خاندان کی تین تین نسلوں کے احوال کریدے۔ آخر کیوں؟ ممکن ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے چند درجن یا چند سو نوجوانوں کا رزق کشادہ ہو۔ زندگیاں ان کی سرسبز ہو جائیں۔ ممکن ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا ایک خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے کہ چنیوٹ یا کسی اور دیار میں Business Management کا ایک ادارہ تعمیر ہو سکے۔ فیصل آباد میں نینو ٹیکنالوجی پر ان کا قائم کردہ کالج بلوغت کے عہد میں داخل ہو چکا۔ لاہور شہر سے 40 منٹ کی مسافت پر یونیورسٹی کی عمارت زیر تعمیر ہے۔ اوّل اوّل کالج‘ پھر وہ جامعہ میں ڈھل جائے گی۔ اس کتاب کا کم از کم نتیجہ یہ ہو گا کہ چنیوٹ کے کاروباری خاندان ایثار کی طرف زیادہ مائل ہوں ؎
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
اس نکتے کو ڈاکٹر صاحب نے خوب آشکار کر دیا کہ نئی دنیائیں وہ تخلیق کرتے ہیں‘ جو خطرہ مول لے سکیں۔ مستقل مزاجی کے ساتھ ڈٹے رہیں۔ اللہ کے بندوں کی خدمت کریں اور مایوس ہونے سے انکار کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا‘ اب تو چند ایک میں بگاڑ بھی ہے‘ تین چار نسلیں قبل‘ افلاس کے مارے چنیوٹ سے جن لوگوں نے کلکتہ اور کراچی کا قصد کیا‘ وہ سب کے سب دیانت داری اور قربانی کے خوگر تھے۔
ایک چونکا دینے والا انکشاف انہوں نے یہ کیا کہ اخوت‘ ان کا ادارہ‘ اب ہر ماہ ڈیڑھ ارب کے غیر سودی قرضے دے رہا ہے۔ خیبر سے کراچی تک 17 لاکھ خاندان اس سے فیض پا چکے۔ تقریباً 85 لاکھ افراد۔ ہر کنبہ اوسطاً پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ ہر چھٹے پاکستانی شہری نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر اخوت سے فیض پایا ہے۔ عطیات دینے والوں کو شامل کر لیجئے تو یہ تعداد کچھ اور بڑھ جائے گی۔'' صرف ہمارے ملازمین کی تعداد چار ہزار پر مشتمل ہے‘‘ ۔انہوں نے بتایا اور اصرار کیا کہ اس ناچیز کو ایک بار پھر نواح لاہور میں قائم ان کے کالج کو جانا چاہیے۔ ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ بیت چکا۔ ملک بھر سے جمع کیے گئے قابلِ رشک طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ پورا دن قلب و نظر میں روشنی سی رہی۔ خیال آتا ہے تو حدّ نظرِ تک روشنی پھیل جاتی ہے۔ جس ملک میں ڈاکٹر امجد ثاقب اور ادیب رضوی ایسے لوگ موجود ہوں‘ اس کے باب میں مایوسی کا کیا سوال۔ کہا : یونیورسٹی بھی آپ کو لے جائوں گا مگر ابھی نہیں۔ ابھی اس کی دیواروں کو بلند ہونے دیجئے۔
دیواریں اٹھیں گی‘ قدآدم‘ پھر ان سے سوا۔ چھتیں ان پر ڈال دی جائیں گی۔ کھڑکیاں‘ دروازے نصب کر دئیے جائیں گے۔ رنگ و روغن سے دیواریں چمک اٹھیں گی۔ پالش سے لکڑی کے بے جان ٹکڑے جی اٹھیں گے۔ شجر گاڑ دیئے جائیں گے۔ پھر بڑھتے‘ پھیلتے رہیں گے‘ حتیٰ کہ تناور ہو جائیں گے۔ شاخیں پھیلتی چلی جائیں گی۔ پھر ان پر اللہ کی حمد گانے والے پرندے اتریں گے۔ ابھی نہیں‘ ابھی آدم زاد کو نمودار ہونا ہے۔ اس کرّہِ خاک کا تمام تر حسن ابن ِآدم سے وابستہ ہے۔ اس کے بیدار ذہنوں میں پوشیدہ امکانات پر۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کو کیوں سوجھتی ہے؟ ادیب رضوی کو کیوں؟ کچھ خاص لوگ ہی کیوں تھے‘ فروغ تعلیم کے لیے جنہیں سٹی سکول‘ غزالی فائونڈیشن‘ تعمیر ملت فائونڈیشن اور ریڈ فائونڈیشن بنانے کا خیال آیا۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی ہی کاروان علم کیوں تشکیل دے سکے۔ دوسرے لوگ زیادہ وسائل‘ زیادہ رسوخ کے حامل تھے۔ عقل راہ دکھاتی ہے مگر ہمیشہ نہیں۔ اکثر وہ سوئی رہتی ہے‘ معلوم نہیں کیوں؟ فرمان یہ ہے : نتیجے کا انحصار نیت پر ہو تا ہے۔ 
بات سمجھ میں آتی نہیں‘ گرہ نہیں کھلتی۔ سری لنکا کے چھوٹے سے شہر گال میں سمندر نیلا ہے۔ سہولت کچھ زیادہ نہیں‘ لیکن سیاح ٹوٹ پڑتے ہیں‘ ہزاروں اور لاکھوں۔ دیکھنے کو کچھ زیادہ نہیں۔ ایک بہت چھوٹا سا عجائب گھر‘ بہت چھوٹا‘ ہاں مگر ایک قلعے کے آثار ہیں۔ چار سو سال قبل پرتگالیوں نے تعمیر کیا تھا۔ ایک صدی پہلے کی مسجد ہے۔کبھی یہ فقط مسلمانوں کی آبادی تھی۔ اب تمام مذاہب کے لوگ ہیں۔ قلعہ اجڑ کر ہزاروں‘ لاکھوں کے رزق کا سامان کر گیا۔
ایک مینار سر اٹھائے کھڑا تھا۔ حیرت سے میں نے کہا : بے شک بہت خوبصورت ہے‘ لیکن اس کی تعمیر کا جواز کیا؟ شوکت پراچہ نے کہا یہ لائٹ ہائوس ہے‘ لائٹ ہائوس۔
پراچہ کے اجداد‘ افغانستان کی ایک وادی سے آئے تھے۔ نسلاً وہ اعوانوں کے عم زاد ہیں‘ یعنی خالص عرب۔ ہجرت پہ ہجرت وہ کیوں کرتے رہے؟ انشاء اللہ اس پہ پھر کبھی۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved