تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     01-02-2017

پاکستان اور بھارت نے ایٹمی ہتھیار بنا لئے‘ اب کیا کریں؟

''نیشنل انٹرسٹ ‘‘ کے حالیہ شمار ے میں مائیکل کریپون کا ایک تجزیہ شائع ہوا ہے۔اسے پڑھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ برصغیر کا امن‘ کیسے ایک پل کی پلک پر اٹکا ہوا ہے؟یہ دونوں ملک ایٹمی طاقت توبن گئے لیکن یہی ایٹمی طاقت‘ امن کے پائوں پر بندھے پتھر کی طرح بوجھ بنی ہوئی ہے۔ یہ دونوں ملک دیرینہ دشمنی کے باوجود‘ کسی جنگی معرکے میں کودنے سے گریزاں ہیں۔محاذوں پر آگ بھڑکی ہو تو کسی کے اختیار میں نہیں رہتا کہ اس کی حدود کا تعین کر سکے۔ یہی وہ خوف ہے جو شدید کشیدگی کے باوجود‘سر اٹھا لیتا ہے کہ اگر جنگ ہاتھ سے نکل گئی تو اسے ایٹمی دائرے میں داخل ہونے سے روکنا‘ دونوں ممالک کے لئے دشوار ہو جائے گا۔
''دنیا کے جن پانچ خطوںمیں ایٹمی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے‘ ان میں جنوبی ایشیا پر دنیا کی توجہ بہت کم ہے ۔ بھارت کو سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان میں محفوظ ٹھکانے رکھنے والے انتہا پسندوں سے کیسے نمٹاجائے ؟ اپنی سرزمین پر ہونے والے حملوں کے بعد‘ بھار ت کا موڈیہی دکھائی دیتا ہے کہ رد ِعمل میں کچھ نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی قسم کی جنگ کی منصوبہ بندی کی جائے ۔ ایک تیسرا آپشن کمانڈوز کی برق رفتار کارروائی ہے ‘ جس پر اب کچھ عمل دیکھنے میں آرہاہے ۔سات عشروں کو محیط کشیدہ تعلقات کی تاریخ رکھنے والے اس خطے میں‘ بھارت کی جنگی پلاننگ بڑی جنگیں لڑنے سے شروع ہو کر‘ محدود روایتی جنگیں لڑنے تک آگئی ۔ موجودہ حالات میں محدود روایتی جنگوں کی جگہ ‘برق رفتار کمانڈو ایکشن نے لے لی ۔ ناقدین اسے معروضی حالات میں درست اقدام قرار دیتے ہیں لیکن یہ تزویراتی تبدیلی بھی زیادہ سودمند نہیں ‘خاص طور سے جب کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں حالات قابو سے باہر ہو جانے کا خدشہ‘ اپنی جگہ پر موجود ہو اور کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں ایٹمی ہتھیاروں کا مہیب عکس دکھائی دینے لگے ۔ پاکستان کے خلاف بھارت کا عسکری پلان‘ فورسز کے بھرپور استعمال سے دومحاذوں کو محیط بڑے پیمانے پر دیر تک جاری رہنے والی جنگ ہے ۔ لیکن جس پلان نے ''Twin Peak‘‘بحران‘ جو 2001 ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا‘ کوئی مدد نہ کی تو بھارت نے سرحدوں پر بہت بڑی تعداد میں فوج لگادی لیکن پاکستان نے قدرے تاخیر کے بعد‘فورسز کو تیز ی سے متحرک کردیا۔ یہاں تک کہ بر ِ صغیر پرجنگ اور ایٹمی تصادم کے سائے منڈلانے لگے ۔ حجم اور آبادی کی وجہ سے‘ ایٹمی تصادم کی راہ بھارت کے لیے ناقابل ِ برداشت ‘ خارج ازامکان ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگی پلان ختم نہیں ہوتے ‘ ان کی شکل اور جہت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس کے بعد بھارتی فوج نے برق رفتار‘ سرجیکل سٹرائیکس اور کئی ایک مقامات‘ جہاں پاکستان کے دستے تعینات نہیںتھے‘سے سرایت کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس کے جواب میں راولپنڈی نے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا لیے جنہیں دشمن کی فوج کوتباہ کرنے کے لیے ‘ میدان ِ جنگ میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس وقت تک بھارتی فوج کا ''کولڈاسٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کتابوں میں ہی ملتا ہے ۔ اس پر عمل پیرا ہونے میں بیرونی مسائل کے علاوہ اندرونی خلفشار بھی رکاوٹ ہے۔اس کا تعلق سول ملٹری تعلقات میں تنائو‘ دفاعی خریداری او ر جوائنٹ ملٹری آپریشن سے ہے ۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ ایک محدود پیمانے پر شروع کی جانے والی روایتی جنگ میں چاہے کتنی ہی احتیاط کیوں نہ برتی جائے‘ کے بارے میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کب ہاتھ سے نکل جائے۔ اس پر بھارتی فوج کا جوبھی پلان ہو لیکن سیاسی قیادت اس کی حمایت نہیں کر تی۔ یہی وجہ ہے کہ 2008 ء کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت کوئی بڑی کارروائی نہیں کرسکا۔ 
اس کے بعد یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی نے بھارت کی نسبت پاکستان کو زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ لیکن چونکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کا تعلق خود پاکستانی سرزمین سے ہے اور اُنہوںنے بھارتی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا اس لیے ان کی دہشت گردی بر ِ صغیر میں جنگ کا باعث نہیں بن سکتی ۔ جنگ کا خطرہ تب پیدا ہوتا ہے جب پاکستانی سرزمین سے تعلق رکھنے والے گروہ ‘بھارتی سرزمین پر کارروائی کریں۔ تاہم ایسے حملے اُس وقت دیکھنے میں آتے ہیں جب نئی دہلی ‘پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں وزیر ِاعظم ‘ نریندر مودی نے تین کوششیں کیں۔ اُ نہوںنے وزیر ِاعظم ‘ نواز شریف کومئی 2014 ء کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔ جولائی 2015ء کو اُنہوںنے تمام دیرینہ حل طلب مسائل پر جامع مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد مودی کرسمس پر اچانک لاہور آئے اور شریف فیملی کی ایک شادی اور برتھ ڈے کی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے خیر سگالی کا پیغام دیا۔ تاہم ان تینوں مواقع کے بعد بھارتی اہداف پر حملے کیے گئے۔ افغانستان میں بھارتی قونصل خانے اور گزشتہ ستمبر کو اُڑی بیس پر ہونے والے حملے کے بعد‘ نریندر مودی نے بہت سخت موقف اختیار کرلیا ۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کی بازگشت سنائی دی۔ ساتھ ہی پاکستان کی دکھتی رگ‘ بلوچستان اور سندھ طاس معاہدے کو چھیڑا گیا۔ اب پاک بھارت تعلقات انتہائی نچلی سطح پر ہیں اوران میں مستقبل قریب میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے ۔ دوطرفہ سفارت کاری کی تمام کوششیں ‘کشمیر کی وادی میں آکر دم توڑ جاتی ہیں۔ یہاں بھارتی سکیورٹی فورسز نے لاک ڈائون کررکھا ہے جبکہ لائن آف کنٹرول کے آر پار دونوں فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ ان جھڑپوں میں ہلکے ہتھیاروں سے لے کر ‘توپ خانے تک کا استعمال دیکھنے میں آتا ہے ۔ 
راولپنڈی کی تحریک ِ طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی غالباً کبھی ختم نہیں ہوگی لیکن اس وقت وہ شدت دکھائی نہیں دے رہی ۔ عالمی برادری پاکستان سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے‘ اگلے مرحلے کی طرف بڑھنے کا مطالبہ کررہی ہے ۔فی الحال پاکستان کی طرف سے اس ضمن میں کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن عالمی برادری چاہتی ہے کہ پاکستان اورافغانستان‘ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی کرے ۔ تاہم اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایساکرنے سے کابل پر بھارت کااثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ پاکستان کبھی بھی اپنے ہاتھ سے یہ پتے نہیں پھینکے گا۔ یہ پرتشدد فرقہ وارانہ گروہ‘ جو بھارت مخالف بھی ہیں‘ پاکستان کے لیے بھی بہت بڑا مسئلہ ہیں۔ ان گروہوں کی زیادہ ترموجودگی‘ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہے ۔ لیکن جس دوران مودی‘ پاکستان کے لیے سخت گیر موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اورکشمیر میں بھارتی فورسز کا لاک ڈائون جاری ہے‘ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کا کوئی امکان نہیں۔ اس طرح برِصغیر کی قسمت ‘اچانک ہونے والے کسی حملے کے ہاتھوں میںیرغمال رکھی جاچکی ہے ۔ 
داخلی سیاست اور بھڑک دار سوشل اور ٹیلی ویژن میڈیا‘کسی بھی حملے کے بعد ‘بھارت پر فوری کارروائی کرنے پر زور دیتا ہے ۔ دوسری طرف انتہا پسندوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ بھارتی اہداف پر حملے کرنے سے ‘خود پاکستان کی علاقائی اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے ۔ نئی دہلی نے اگر اس کا جواب دینا ہو تو وہ اس کا چرچا نہیں کرتا ۔ اس دوران پاکستان کی سفارت کاری‘ عالمی سطح پر اپنی ساکھ کھو چکی ہے ۔ اب اس کی بات پر اعتبار نہیں کیا جاتا کہ وہ اچھے اور برے دہشت گردوں کے درمیان کوئی فرق روا نہیں رکھتا ہے ۔ اسی طرح اُس کی طرف سے مذاکرات شروع کرنے اور تمام امور پر بات کرنے کامطالبہ بھی وزن نہیں رکھتا کیونکہ جب تک اس کی سرزمین پر انتہا پسند موجود ہیں اور رہیں گے‘ وہ کبھی بھی قیام ِامن کی کوششوں کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے ۔ چنانچہ جب تک پاکستان ان گروہوں کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں کرتا‘ اس کی جائز شکایات پر بھی کوئی ملک کان نہیں دھرے گا‘‘۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved