تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     01-02-2017

امریکہ، پاکستان اور ریڈیکل اسلام

ٹرمپ عہد کا آغازہو چکا۔پاک امریکہ تعلقات بھی اب تفہیمِ نو کا تقاضا کر رہے ہیں۔
ایک حل تو وہ ہے جو عمران خان تجویز کر رہے ہیں۔اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں اگر ہم اپنے پیکرِ خاکی میں جان پیدا کر سکیں۔لیکن ہم جا نتے ہیں کہ کم از کم لمحہ ء موجود میںاس کا کوئی امکان نہیں۔قوموں کی زندگی میں تبدیلی اچانک نہیں آتی۔ خود انحصاری کا سفر اگر آج سے شروع ہو تو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لیے کئی برس کی ضرورت ہو گی۔راستہ ہمیشہ امکانات کی دنیا میں تلاش کیا جا تا ہے۔
بنیادی سوال تین ہیں:عالمی سیاست ومعیشت میںامریکہ کی حیثیت کیا ہے؟پاکستان کیا امریکہ سے بے نیاز ہو سکتا ہے؟پاکستان کے پاس متبادل کیا ہے؟ان سب سوالات پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کیا ماضی کی حکومتوں سے مختلف ہوگی؟
صدرٹرمپ کے بارے میں یہ بات تو معلوم ہے کہ وہ سیاست کے آ دمی نہیں ہیں۔وہ 'پاپولزم‘ کا نتیجہ ہیں۔پاپولزم معاملات کو دو اور چار کی طرح دیکھنا اور بیان کر نا ہے۔ سیاست کے معاملات سادہ نہیں ہوتے۔ سیاست انسانی تاریخ میں کبھی آسان کام نہیں رہا۔یہ ایک پیچیدہ اورہمہ جہتی عمل ہے۔ٹرمپ اس سے واقف نہیں۔ان کے ابتدائی اقدامات بتا رہے ہیں کہ وہ معاملات کو ضرورت سے زیادہ سادہ سمجھ رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے داخلی اور خارجی مسائل کو اسی نظر سے دیکھا ہے اور وہ اسے سادہ طریقے سے حل کر نا چاہتے ہیں۔
اس کی ایک مثال'اسلامک ریڈیکل ازم‘ کے معاملے میں ان کا نقطہ نظر ہے۔اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے اس کو اپناہدف بتایا ہے۔انتخابی مہم کے دوران میں وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ داعش اصل چیلنج ہے اور اس کے لیے روس اور بشار الاسد سے بھی تعاون کیا جا سکتا ہے۔امریکہ کی سابقہ انتظامیہ بھی ایسا ہی سمجھتی تھی لیکن اس کو یہ خیال تھا کہ داعش کے خاتمے کے ساتھ ،مشرقِ وسطیٰ پر امریکی تسلط کوبھی بر قرار رکھنا ہے۔بشار الاسدکو مضبوط کرنے کے دور رس نتائج امریکہ کے حق میں نہیں ہیں۔یوں وہ ان گروہوں کو مکمل ختم نہیں کر نا چاہتاجو ہیں تو جہادی لیکن بشار الاسد کے خلاف ہیں۔اس طرح وہ ایک سطح پر ریڈیکل اسلام کی حمایت پر بھی مجبور ہے۔اس تضاد کو کیسے نبھایا جا ئے؟ یہ وہ سوال ہے جو امریکہ کی انتظامیہ کو درپیش ہے۔
ٹرمپ مزاجاً اتنی پیچیدگی میں پڑنے والے نہیں۔وہ ایک اقدام کے مضمرات کو موضوع نہیں بناتے بلکہ ناک کی سیدھ میں دیکھتے ہیں۔کچھ ایسا ہی رویہ وہ پاکستان کے بارے میں روا رکھنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ کرے اور ریڈیکل اسلام کے ہر مظہر سے لاتعلق ہو جا ئے جن میںجماعۃ الدعوہ بھی ہے۔یہ مطالبہ اوباما انتظامیہ کابھی تھا لیکن وہ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھتی تھی کہ جنوبی ایشیا میں توازن قائم رکھنے کے لیے ایک حد سے زیادہ پاکستان پر دباؤنہیں ڈالا سکتا۔اس کا ایک نتیجہ یہ ہو سکتاہے کہ پاکستان چین اور روس کی طرف اس طرح جھک جا ئے کہ افغانستان میں اس کی معاونت سے انکار کر دے۔جہاں بانی اسی توازن کو قائم رکھنے کا نام ہے۔
پاکستان کے لیے اب مسئلہ یہ ہو گا کہ اس ذہن کے ساتھ کیسے معاملات کیے جا ئیں؟اسی سے متصل سوالات وہ ہیں جن کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا ہے۔پاکستان اس وقت امریکہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ہماری معیشت اور دفاع کا بڑا انحصار امریکہ پر ہے۔پاکستان کے پاس امریکہ کا کوئی متبادل ، کم ازکم اس وقت مو جود نہیں۔چین امریکہ کا متبادل نہیں۔ چین خود امریکہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے اوراس نے ابھی تک اپنے آپ کو امریکہ کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کیا۔روس کا معاملہ بھی یہ ہے کہ اس کی معیشت ابھی شدید دباؤ میں ہے۔امریکہ بدستور معیشت اور سیاست میں عالمی قائد ہے۔ہمیں ان سب عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے،پاک امریکہ تعلقات کو دیکھنا ہوگا۔
پاکستان اور امریکہ میں اس وقت دو امور پر اختلاف ہے۔ ایک افغانستان اور دوسرا ریڈیکل اسلام کی علم بردار تنظیموں کی مبینہ سر پرستی۔امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں قیام ِ امن کے راستے میں طالبان حائل ہیں۔طالبان کی مزاحمتی قوت کے پیچھے پاکستان ہے۔اگر پاکستان ان کی حمایت ترک کر دے توافغانستان میں امن آ سکتا ہے۔پاکستان کا موقف یہ ہے کہ امریکہ وہ کردار اب بھارت کو سونپنا چاہتا ہے جو ماضی میں پاکستان ادا کرتا رہا ہے۔اگر پاکستان افغانستان میں اپنے حامی گروہوں کو کھو دے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ مشرقی اور مغربی محاذوں پر بھارت کے رحم وکرم پر ہے۔یہ بات اس کی سلامتی کے خلاف ہے۔ 
جہاں تک ریڈیکل اسلام کی حمایت کا سوال ہے توامریکہ کو سب سے زیادہ شکایت جماعۃ الدعوہ سے ہے۔امریکہ کا خیال ہے کہ یہ لشکر طیبہ ہی ہے جس نے اپنا نام بدل لیا ہے اور اسے پاکستانی ریاست کی سرپرستی حاصل ہے۔سلامتی کونسل کی قرارداد کے باجود پاکستان میں یہ گروہ کیوں متحرک ہیں؟پاکستان اس کا کوئی تسلی بخش جواب امریکہ کو فراہم نہیں کر سکا۔ واقعہ یہ کہ ان دونوں امور پر امریکہ کے لیے پاکستان کا موقف قابلِ قبول نہیں۔یہ موقف اوباما انتظامیہ کے لیے بھی ناقابلِ قبول تھالیکن وہ سیاسی لوگ تھے۔انہوں نے پاکستان پر دباؤ تو رکھا لیکن ایسا نہیں کہ پاکستان دیوار کے ساتھ لگ جائے۔اب لگتا یہ ہے کہ' ایسے نہیں چلے گا‘۔
میرااندازہ ہے کہ پاکستان کی حکومت کو ایک حد تک اس کااحساس ہے۔ اس کا ایک مظہر جماعۃ الدعوۃ کے خلاف ابتدائی اقدامات ہیں۔اگر ٹرمپ کے مزاج کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات یہاں رکنے والی نہیں۔اب 'ڈو مور‘ کا مطالبہ ہوگا اور اس پر ہمیں دوٹوک موقف اختیار کرنا ہو گا۔اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہم نے افغانستان اورجہادی تنظیموں کے باب میں جو حکمتِ علمی اختیار کیے رکھی ہے،کیا اس کے نتائج پاکستان کے حق میں نکلے ہیں؟اسی سے یہ طے ہو گا کہ ہم صدرٹرمپ کے مطالبات کہاں تک پورا کر سکیں گے۔ 
ٹرمپ کی آمد نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کا ایک بار پھر جائزہ لیں۔ہمیں اس حوالے سے چین سے بھی مشاورت کی ضرورت ہے۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ افغانستان اور جہادی تنظیموں کے باب میںچین کا مشورہ کیا ہے؟ٹرمپ کہاں تک اپنے تضادات کو نباہ پائیں گے،اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں کچھ وقت انتظار کرنا ہوگا۔تاہم اس میں شبہ نہیں کہ اگلے چند ماہ میں پاکستان پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔اسی دوران میں ہمیں اپنی حکمتِ عملی کو واضح کر نا ہے۔
پاکستان کے لیے امکانات کی ایک نئی دنیا ابھر رہی ہے۔اس کے لیے ایک پر امن پاکستان ضروری ہے۔اگر ہم اپنی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کریں اورٹرمپ انتظامیہ سے دو اور دو چار کی طرح معاملہ کریں تو میرے خیال ہے کہ اس صورتِ حال میں بھی خیر کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔سٹریٹیجک ڈیپتھ کے بعد ہمیں اب ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے۔کیا معلوم ٹرمپ کی آمد اس کے لیے راہ کھول دے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved