تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     02-02-2017

ماس ٹرانزٹ کا ڈیلی سرکس

حکومتوں یا انتظامیہ میں ایک بہت بُری خصلت یہ بھی پائی جاتی ہے کہ پہلے تو مسائل پیدا کرکے عوام کو پریشان کرتی ہیں‘{ جب مسائل کے حوالے سے عوام شِکوہ کناں ہوتے ہیں تو سُننے پر آمادہ نہیں ہوتیں اور پھر جب عوام سگریٹ پان وغیرہ کی طرح اُن مسائل کے عادی ہو جاتے ہیں تو اُنہیں حل کرنے کی تدبیر کی جانے لگتی ہے! جب ایسا ہوتا ہے تو عوام سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ع 
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا! 
اِس وقت کراچی میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ گرین لائن بس منصوبے پر کام خاصی تیزی سے جاری ہے جس کے باعث جگہ جگہ ریڈ لائن کِھنچی ہوئی ہے۔ متعدد مقامات پر بس کے روٹ کی تعمیر کے لیے کھدائی کی جا رہی ہے۔ کئی علاقوں کا نقشہ ایک بار پھر تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اِس وقت بھی کیفیت یہ ہے کہ بہت سے علاقوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث دوسرے علاقوں کے رہنے والے کچھ سمجھ ہی نہیں پاتے۔ جانا ہوتا ہے کہیں اور مگر جا نکلتے ہیں کہیں اور! گویا ع 
پاؤں رکھتا ہوں کہیں اور کہیں پڑتا ہے! 
کراچی کے کئی علاقوں میں ایک عشرے کے دوران مکمل کیے جانے والے ترقیاتی کاموں نے حلیہ اور نقشہ سبھی کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ بعض علاقے تو اس قدر بدل گئے ہیں کہ ع 
... پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی! 
گرین لائن بس منصوبہ وزیر اعظم کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ ہم نے تو سُنا ہے کہ وزیر اعظم بہت زندہ دل واقع ہوئے ہیں۔ تو پھر اُنہیں کیا ہوا کہ کراچی کی رونق کا ایک بڑا حصہ مِٹانے پر تُل گئے! ایک زمانے سے دُہائی دی جا رہی ہے کہ کراچی میں ماس ٹرانزٹ کا مسئلہ حل کیا جائے یعنی لوگوں کو روزانہ کام پر جانے اور واپس آنے کی بہتر سہولت فراہم کی جائے۔ ہم نے بھی یہ مطالبہ کرنے والوں کی ہم نوائی کی ہے مگر سچ یہ ہے کہ کراچی میں اچھا خاصا رونق میلہ اِس یومیہ معمول ہی کے دم سے تو ہے۔ کراچی میں کام پر جانا اور واپس آنا بجائے خود ایک کام کا درجہ رکھتا ہے۔ 
کسی نے بتایا کہ ایک گورا کراچی آیا۔ میزبان نے شہر کی سیر کرائی۔ گورے نے صبح کے وقت بھی سفر کیا اور شام کے وقت بھی۔ لوگوں کو بسوں، ویگنوں اور کوچوں میں سفر کرتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔ یہ سب اُس کے لیے بالکل نیا تھا۔ اُس نے میزبان سے پوچھا کہ اِن لوگوں کو کتنے پیسے ملتے ہیں۔ میزبان نے بتایا کہ سب کو انفرادی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ اُس نے پوچھا چھت والوں کے تو زیادہ ہوں گے۔ میزبان کچھ سمجھ نہ پایا۔ وضاحت چاہی تو معلوم ہوا کہ وہ گورا بس کے اندر اور چھت پر سفر کو بھی کام سمجھ رہا تھا! جب اُسے بتایا گیا کہ یہ لوگ کام پر جا رہے ہیں تو وہ سَر پیٹ کر رہ گیا۔
کراچی میں کام پر جانا ایک باضابطہ مصروفیت اور پختہ معمول ہے۔ بہت سے لوگ اس معمول کے اِس قدر عادی ہیں کہ اُنہیں اِس کا نشئی بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ خریداری بھی بس کے اندر ہی کرتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی کون سی چیز ہے جو کراچی کی بسوں میں دستیاب نہیں؟ جس طرح بہت سے لوگ ٹھیلے پر سامان لاد کر گلی گلی گھومتے ہیں بالکل اُسی طرح بہت سے لوگ اپنے جسم پر سامان لاد کر یا سجا کر بس میں چڑھتے ہیں اور آپ کو ضرورت کی ہر چیز آپ کی سیٹ تک پہنچاتے ہیں۔ نیل کٹر، زخم پر لگانے والی پٹی، غبارے، سیٹی، باجا، کھولنے، سیفٹی پن، کنگھی، بام، مرہم، منجن، رومال، گلے کی خراش دور کرنے والی گولیاں، سوئی دھاگا، قینچی... کون سی چیز ہے جو آپ کو بس میں سفر کے دوران دستیاب نہیں؟ 
جب چنچی اور سی این جی رکشے آئے تب یہ معمول تھوڑا متاثر ہوا۔ ابتدا میں چنچی رکشوں کی اپنی ہی بہار تھی۔ تیز رفتار کوچ، ویگن اور بس کا سفر جھیلنے والوں کے لیے چنچی کی رفتار بہت دل فریب تھی ؎ 
معطّر معطّر، خراماں خراماں 
نسیم آ رہی ہے کہ وہ آ رہے ہیں! 
بہت سوں کی تو سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ اِس ننھی سی جان یعنی چنچی کا کریں کیا۔ اِسے دیکھ کر محظوظ ہوتے رہیں یا اِس میں سفر بھی کریں ع 
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں! 
لوگ یہ دیکھ کر بھی حیران رہ جاتے تھے کہ چنچی کا ڈرائیور اِس ننھی سی جان میں بٹھانے کے نام پر کتنوں کو اور کس طرح فِٹ کرتا ہے اور اِس تماشے کا کوئی ٹکٹ نہیں تھا! ایسے میں چند منٹ کا سفر بھی جسم و جاں کے لیے عذاب کی شکل اختیار کر جاتا تھا۔ لوگ سوچا کرتے تھے ع 
سمجھ میں کچھ نہیں آتا سُکوں پانے کہاں جائیں 
چنچی کی طرح سی این جی رکشے میں بھی مال بیچنے کی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ سچ تو یہ ہے کہ اِن دونوں سواریوں میں بیٹھنے والے خود کو برائے فروخت محسوس کرتے ہیں! 
کراچی کے شہریوں کی ایک معقول تعداد بسوں میں خریداری کی عادی اور شوقین ہے۔ روزمرہ استعمال کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا بھی بسوں اور ویگنوں میں دستیاب ہیں۔ کراچی کے موجودہ نام نہاد ماس ٹرانزٹ سسٹم سے اور بھی بہت سی رونقیں جُڑی ہوئی ہیں۔ اگر خیرات دینی ہے تو کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ بس میں سفر کیجیے، مانگنے والے آپ کے پاس آ کھڑے ہوں گے۔ مسجد یا مدرسے کو کچھ عطیہ کرنا ہے تو اُن کے نمائندے بس میں خود آپ تک پہنچ جائیں گے۔ اگر پند و نصائح سُننے کا شوق ہے تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ بسوں میں ایسی شخصیات بھی سفر کرتی ہیں جو دورانِ سفر خاموش رہنے کے بجائے آپ کے اخلاق درست کرنے پر توجہ دینا زیادہ ضروری سمجھتی ہیں۔ مطالعے کے شوقین چاہتے ہیں کہ جو کچھ پڑھا ہے وہ بس میں سفر کے دوران ساتھ بیٹھے ہوئے افراد تک بھی پہنچایا جائے۔ اس روش پر گامزن رہنے کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ نصف گھنٹے کے سفر میں بھی بس کا ایک حصہ ٹی وی سٹوڈیو کا منظر پیش کرتا رہتا ہے گویا کرنٹ افیئر پر ٹاک شو چل رہا ہو! کچھ منچلے تو ایسے ''بس چھاپ‘‘ ٹاک شو کا مزا لینے ہی کے لیے بسوں میں سفر کرتے ہیں! 
گرین لائن بس منصوبہ بہت خوش آئند سہی مگر اِس کی تکمیل سے کراچی کی شناخت کا ایک اہم جُز، ایک اہم معمول ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ بڑی بسوں اور ویگنوں میں سفر کی صورت میں ایک ڈیلی سرکس دستیاب ہے۔ روایتی سرکس کے برعکس فرق صرف اتنا ہے کہ نام نہاد ماس ٹرانزٹ سسٹم کے نام پر قائم و دائم ڈیلی سرکس میں تماش بینوں کو پرفامر کا کردار بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ 
آج بھی کراچی میں لوگوں کے لیے کام پر جانا خاصا جاں گُسل مرحلہ ہے۔ بس میں چڑھنا اور اُترنا ریاضت اور مہارت کا طالب ہے۔ گویا ع 
اِک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے 
شور اور ہنگامہ نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا؟ محترم ناصرؔ زیدی کہتے ہیں ؎ 
کوئی ہنگامہ چاہیے ناصرؔ 
کیسے گزرے گی زندگی خاموش 
ماس ٹرانزٹ کے نام پر کراچی میں روزانہ لاکھوں افراد کی نقل و حرکت بہت حد تک نقل و حمل کا بھی درجہ رکھتی ہے! یہ ہنگامہ ہے تو کچھ رونق ہے۔ دیکھیے، یہ ہنگامہ بھی کب تک ہے؟ ہمیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ گرین لائن بس جیسے منصوبے کراچی کی شناخت کے بنیادی اجزائے ترکیبی کو جڑ سے اکھاڑ کر ہی سُکون کا سانس لیں گے! جب تک گرین لائن بس نہیں آ جاتی، اچھا ہے ہم بس کے سفر کا مزا کچھ اور لُوٹ لیں تاکہ وقت گزر جانے پر دل میں کوئی حسرت نہ رہے! 
٭٭٭ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved