تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-02-2017

سُرخیاں‘ متن اور ٹوٹے

آئین ریاست کے تمام شہریوں کو برابر 
کے حقوق فراہم کرتا ہے۔نواز شریف
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''آئین ریاست کے شہریوں کو برابر کے حقوق فراہم کرتا ہے‘‘ مثلاً کسی کھلاڑی پر کرپشن کا الزام لگے تو اس کو معطل کر دیا جات ہے اور اگر کسی وزیر اعظم پر یہ الزام ہو تو اگر کسی میں ہمت ہو تو اسے معطل کر کے دیکھ لے کیونکہ وہ خود تو اپنے آپ کو معطل نہیں کر سکتا‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''الیکشن کمیشن خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن اور نمائندگی بڑھائے‘‘ تاکہ ہمیں یہ سب کچھ خود ہی کرنا نہ پڑے جبکہ ایک خاتون کا ووٹ کئی بار بھگتانا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ''سیاسی جماعتیں اہل خواتین ووٹرز کے اندراج پر توجہ دیں‘‘ اگرچہ ہمارے دوست مولانا فضل الرحمن اس کے حق میں نہیں ہیں بلکہ ایسے ہی کچھ حضرات تو عورتوں کے تعلیم حاصل کرنے کے بھی خلاف ہیں‘ تاہم مولانا صاحب کو قائل کرنا ہمیں خوب آتا ہے بلکہ اگر صحیح طریقہ اختیار کیا جائے تو وہ خود ہی قائل ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں جس کا ہمیں اور انہیں طویل تجربہ حاصل ہے آپ اگلے روز اسلام آباد میں اس موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔
سندھ میں چند مدارس ہمارے بچوں کو 
بھٹکا رہے ہیں۔ آصف علی زرداری
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''سندھ میں کچھ مدارس بچوں کو بھٹکا رہے ہیں‘‘ اور‘ اگر انہیں روکا نہ گیا تو وہ رفتہ رفتہ ہمیں بھی بھٹکانا شروع کر دیں گے۔ جبکہ ہمارے جیسے راست رو اشخاص کا بھٹکنا ایک قومی سانحہ سے کم نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم جانتے ہیں کہ سہولت کار کون ہیں‘‘ لیکن ہماری شرافت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کا نام نہیں لیتے جس طرح ہمیں بی بی شہید کے قاتلوں کا پتا تھا لیکن محض شریف آدمی ہونے کی وجہ سے نہ تو ہم نے ان کا نام ظاہر کیا اور نہ ہی ان کے خلاف کارروائی کی کیونکہ ہم اقتدار میں ایسے فروعی مسائل میں حصہ لینے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے آئے تھے جو ہم نے دونوں ہاتھوں سے کر کے بھی دکھا دی۔ انہوں نے کہا کہ ''کراچی میں سمارٹ سٹی منصوبہ بنانے کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں‘‘ کیونکہ ہم اگر خود اتنے سمارٹ ہیں کہ پروں پر پانی ہی نہیں پڑنے دیتے تو پورے کراچی ہی کو کیوں سمارٹ نہیں ہونا چاہیے۔ آپ اگلے روز کراچی میں سندھ حکومت کو ہدایات جاری کر رہے تھے۔
پنجاب میں کرپشن کرنے والوں 
کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ شہباز شریف
خادمِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''پنجاب میں کرپشن کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں‘‘ ماسوائے ان شرفاء کے جو پرانی عادت سے مجبور ہیں اور یہ تو سب کو معلوم ہے کہ عادتیں قبروں تک جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''قائد آباد میں کم آمدن والے خاندانوں کو پلاٹس کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیاں کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے‘‘ اور یہ معلوم کیا جائے ان الاٹمنٹوں میں کوئی دھیلے کی کرپشن تو نہیں ہوئی کیونکہ میں نے چیلنج کر رکھا ہے کہ کوئی دھیلے کی کرپشن بھی ثابت کر دے تو میں اپنا نام بدل لوں گا اور اگر کرپشن ثابت ہو جائے تو میرے لیے دس بیس اچھے اچھے نام بھی تجویز کیے جائیں کیونکہ یہ کام تو ہوتے ہی رہنا ہیں انہوں نے کہا کہ ''صحتِ عامہ کی معیاری سہولتوں کی کی فراہمی میری زندگی کا مشن ہے‘‘ جس میں پینے کا صاف پانی بطور خاص شامل ہے اور جب تک یہ کام پورا نہیں ہو جاتا ہمارے پیارے عوام اسی پانی پر گزارہ کریں جس میں گٹر کا پانی بھی شامل ہوتا ہے اول تو لوگ اس پانی کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ صاف پانی انہیں ہضم ہی نہیں ہو گا اور صاف پانی کے پلانٹ بند کرنا پڑیں گے۔ بلکہ زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ جلد ہی یہ پلانٹ خود ہی کام کرنا بند کر دیں گے آپ اگلے روز لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
حلقہ ہائے ارباب ذوق کا اتحاد
ایک اخباری رپورٹ میں یہ اطلاع دی گئی ہے کہ حلقۂ ارباب ذوق کے دونوں دھڑوں نے سارے اختلافات ختم کرتے ہوئے اتحاد کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد دونوں دھڑوں کا ایک ہی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا کرے گا۔ دونوں حلقوں کے جنرل سیکرٹری حضرات پروفیسر امجد طفیل اور حسین مجروح مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی کاوشوں سے یہ اتحاد وجود میں آیا۔ چنانچہ آنے والے الیکشن میں بھی یہ حلقہ ایک ہو کر انتخاب لڑیگا۔ سینئر شاعر اشرف جاوید جس کے لیے الیکشن آفیسر مقرر ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے ایک دھڑے کے ہفتہ وار اجلاس ٹی ہائوس اور دوسرے کے اقبال اکادمی میں ہوا کرتے تھے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ اب یہ اجلاس کہاں ہوا کرینگے۔ زیادہ امکان ٹی ہائوس ہی میں ہونے کا ہے کیونکہ اسے ادبی سرگرمیوں کے لیے پنجاب حکومت کی طرف سے بطور خاص رینو ویٹ کیا گیا تھا۔ یقین ہے کہ ادیبوں شاعروں کی طرف سے اس اتحاد کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
اپیل
انہی سطور میں، پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ عموماً تحریروں میں جو اشعار درج کیے جاتے ہیں ان کی صحت کا چنداں خیال نہیں رکھا جاتا۔ مثلاً ٹی وی پر چلنے والے ایک اشتہار میں یہ شعر اس طرح پڑھا جاتا ہے ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
جبکہ مصرعۂ ثانی بے وزن ہو کر رہ گیا ہے۔ اصل مصرع اس طرح سے ہے ع
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
ہمارے ایک بھائی نے اپنی ایک تحریر میں دو شعر اس طرح سے درج کیے ہیں ؎
گریز کشمکشِ زندگی سے مردوں کا
شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست
مصحفیؔ ہم تو سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
پہلے شعر کا دوسرا اور درست مصرع اس طرح ہے ع
اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست
جبکہ دوسرے شعر کا پہلا اور درست مصرع یوں ہے ع
مصحفی ؔہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم
ان دوستوں سے اپیل ہی کی جا سکتی ہے کہ شاعری پر اس قدر بے رحمی روا نہ رکھی جائے کیونکہ بے وزن شعر سے ایک تو شعر غلط ہو جاتا ہے دوسرے‘ پڑھنے والے غلط شعر کو بھی درست سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہر لکھاری کا عروض سے واقف ہونا ضروری نہیں ہوتا لیکن وہ کم از کم اتنا تو کر سکتا ہے کہ وہ اپنی تحریر کسی عروض جاننے والے کو ایک بار دکھا ہی لیا کرے!
آج کا مقطع
شہر میں تھے قابلِ دید اور بھی چہرے‘ ظفر
نام اُس کا صفحۂ جاں پر لکھا رہنے دیا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved