تحریر : عرفان حسین تاریخ اشاعت     13-03-2017

شام میں عجیب وغریب اشتراک

پانچ برس قبل شام میں شروع ہونے اور پیہم الجھائو میں سے گزرنے والی خوں ریز خانہ جنگی ایک اور موڑ کاٹتی دکھائی دیتی ہے ۔ ان برسوں میں مبصرین نے اس لہورنگ سرزمین کے پس ِ منظر میں وجود میں آنے والے باغی گروہوں ، جو دمشق حکومت کی عملداری سے نکلنے والے علاقوں کے لیے لڑرہے ہیں، کے درمیان بننے والے اتحاد اور طے پانے والے طریق ِ کار کا مشاہدہ کیا ۔ سیکولر کارکنوں کی ابتدائی بغاوت، جسے صدر اسد کی سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا، کے بعد قریبی اور ہمسایہ ریاستیں اور جنگجو دستے قریب المرگ جسم کو نوچنے کے لیے منڈلانے والے گدھوں کی طرح اپنے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے لگے۔ خطے کی کئی ریاستوں نے بشارالاسد کی علوی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے لڑنے والے سنی گروہوں کی پشت پناہی کی۔ مختلف ذرائع سے آنے والی رقوم اور ہتھیار ترکی کے راستے شام کی طرف جانے لگے ۔ تاہم امریکہ نے بھاری ہتھیاروں کی رسد پر پابندی لگا دی مبادا طیارہ شکن اور ٹینک شکن میزائل جنگجوئوں کے ہاتھ لگ کر مغربی ریاستوں کے لیے خطرہ بن جائیں،جو مغربی ریاستیں ہرگز نہیں چاہیں گی۔
اس تمام کشمکش میںاسد کی حمایت کرنے میں ایران پیش پیش تھا۔ شام سے روابط رکھنے والے ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور لبنان کے گروپ حزب اﷲ نے اسد کو بچانے کے لیے سنی گروہوں کے خلاف جنگ شروع کر دی؛ تاہم جنگ کے ایک مرحلے پر دمشق حکومت کی گرفت کمزور ہوتی دکھائی دی تو روس نے اپنی طاقتور فضائیہ اور جدید ہتھیاروں کے ساتھ میدان میں قدم رکھ دیا۔ وہ بحیرہ روم میں اپنا واحد نیول بیس قائم رکھنے کے لے علاوہ جہادی تحریک کی کامیابی کا راستہ بھی روکنا چاہتا تھا ۔ اس کے بعد ترکی ، جو کبھی داعش کی در پردہ معاونت کر رہا تھا، نے بھی قدم پیچھے ہٹالیاکیونکہ داعش نے ترکی کے اندر نرم اہداف کو نشانہ بناکر سینکڑوں شہریوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس وقت ترکی کے فوجی دستے Manbij کے اطراف میں دیگر عرب اتحادیوں کے ساتھ داعش کے دارلحکومت رقہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کی دوسری طرف کر د فورسز ہیں جنہیں روس اور امریکہ کی عملی پشت پناہی حاصل ہے ۔ اس طرح شام میں عجیب وغریب قسم کی صورت ِحال ہے ۔ اس میں ایک طرف روس اورامریکہ کی حمایت سے لڑنے والی قوتیںہیں تو دوسری طرف ترکی اوردیگر ریاستوں کی معاونت سے لڑنے والے سنی جنگجووں کے دستے ۔ یہ تمام قوتیں اس کشمکش میں حلیف بھی ہیں اور حریف بھی۔ بڑی عجیب سی صورتحال ہے۔
اس عجیب و غریب صورت ِحال کی وجہ یہ ہے کرد فورسز داعش کے خلاف لڑرہی ہیں، اور ترکی بھی داعش کے خلاف ہے لیکن وہ کردوں کی فتح نہیں چاہتاکیونکہ شامی کردوں کی فتح ترک کردوں کی جماعت ''پی کے کے ‘‘ کو تقویت دے گی ۔ دوسری طرف امریکی جنرل کردوں کو ایک سیکولر گروہ سمجھتے ہیں۔ وہ ان کی جنگی استعداد سے بھی واقف ہیں۔ تاہم روس،جو کردوں کی حمایت کرتارہا ہے ، آج کل ترکی سے مشاورت کرکے کوئی طریقِ کار طے کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ داعش اور جہادیوں کے خلاف کوئی مشترکہ حکمتِ عملی
اپنائی جا سکے۔ اس مضمون کی اشاعت کے وقت ترک صدر طیب اردوان ماسکو میں صدر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کر رہے ہوں گے۔ ان کے مابین کچھ معاملات ضرور طے ہوں گے۔
امریکیوں نے بھی 900 میرین کمانڈوز اور بھاری توپ خانہ میدان میں اتاردیا ہے ۔ ان سب کا ہدف داعش کو رقہ سے نکالنا ہے۔ اس وقت وہ کردوں اور سنی عرب دستوں کے درمیان موجود ہیں۔ ترکی اور روس نے شام کی فوج کو بھی رقہ کی طرف پیش قدمی کرنے کی ''دعوت ‘‘ دی ہے ۔ اس طرح تمام قوتوں کا عجیب و غریب اشتراک داعش کے مضبوط گڑھ پر حملہ آور ہونے جارہا ہے ۔ یہ تمام صورت ِحال جنگجو گروہوں کے لیے سازگار ہے۔ کچھ جنگجوئوں کو ترکی اور کچھ کو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے؛ تاہم دونوں ریاستوں کا ہدف بشارالاسد کو تخت سے اتارنا بھی ہے۔ یہاں ایران اور روس ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ ترکی کی طرف سے روسی طیارہ گرانے کے لیے بعد پیدا ہونے والا تنائو اب کافی حد تک تحلیل ہوچکا ہے۔ پیوٹن اور اردوان کی ملاقات سے یہ تاثر تقویت پاتا ہے کہ وہ مشترکہ پالیسی سازی کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں حقیقی تبدیلی اس وقت آئی جب روس نے اعلان کیا کہ وہ شام کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے ۔ گو یا وہ اس میں کرد ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کرے گا۔ اس بیان نے ترکی کو خو ش کردیا ، کیونکہ اُنہیں خدشہ تھا کہ شام میں کرد ریاست اُن کے داخلی مسائل کو دوچند کردے گی۔ چنانچہ روس کی طرف سے حوصلہ افزا یقین دہانی کے بعد ترکی نے اس کی طرف ہاتھ بڑھادیا۔ اس نئے سمجھوتے کی ایک مثال ترکی کی خاموشی تھی جب ایرانی اور شامی فورسز نے روسی فضائیہ کی مدد سے حلب کے محاصرے کو توڑ کر اس شہر میں جمع ہونے والے گروہوں کا صفایا کر دیا۔ اس جنگ میں شہریوں کی بھی بڑی تعداد ہلاک ہوئی ، لیکن ترکی نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔ 
اب زمینی حالات بتاتے ہیں کہ داعش کا رقہ سے خاتمہ قریب ہے۔ اس سے پہلے یہ جہادی گروپ عراق میں موصل کا کنٹرول کم وبیش کھو چکا ہے۔ اس نے تدمر، جہاں سے پہلی مرتبہ قبضہ کرنے کے بعد بہت سے نوادارت کو تباہ کردیا تھا، پر دوبارہ قبضہ کیا ، لیکن اب اُسے وہاں سے بھی نکال دیا گیا ہے ۔ ایک مرتبہ جب شامی فورسز، پاسدارانِ انقلاب اور روسی فضائیہ رقہ سے داعش کا خاتمہ کرلے گی تو پھر ان کی توجہ شام کے مغربی علاقوں میں جمع ہونے والے دیگر گروہوں کی طرف ہو گی۔ اب جبکہ امریکہ اور ترکی اسد حکومت کے تسلسل کو تسلیم کر چکے ہیں، وہ باغی دستوں کو کمک نہیں پہنچائیں گے اور آخر کار جنگجوئوں کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا دیومالائی تصور شام کی لہورنگ ریت میں دفن ہوجائے گا۔ تاہم انتہاپسندی کا خاتمہ اور بات ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انتہا پسندی میڈیا اور آن لائن ذرائع سے دنیا کے دیگر حصوں میں پروان چڑھتی رہے اور نیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہے ، لیکن ان کی عسکری قوت کا ارتکاز بہرحال ختم ہونے جا رہا ہے۔ اس دوران ہمیں بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved