تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     19-03-2017

ہمارے رشتے(2)‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌

ماں
ماںکے قدموں تلے جنت ضرور ہوتی ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے کا موقع بچوں کو کم ہی ملتا ہے۔ ہمسایہ ماں جایا وہ ہوتا ہے جو آپ کا پانی بند کر دے اور بار بار حملوں کے ذریعے چھیڑ خانی بھی کرتا رہے۔ سوتیلی ماں نہ ہونے سے ہزار درجے بہتر ہے۔ یہ بتیس دھاریں کسی بیٹے بیٹی کو کم ہی بخشتی ہے۔ سر پر ماں کا سایہ آسیب کے سائے سے کافی مختلف چیز ہے۔ سوتیلی ماں کو گئو ماتا بھی کہہ سکتے ہیں۔ مصیبت کے وقت ماں نہیں‘ نانی یاد آتی ہے حالانکہ ماں یاد آنی چاہیے ۔ بوڑھی ہو جانے پر مائی کہلاتی ہے۔ قبض کو اُمّ الخبائث کہتے ہیں‘ یعنی خباثتوں کی ماں۔ ان کا باپ کون ہے‘ اس پر تاحال ریسرچ جا رہی ہے ۔ فارسی میں اسے مادر کہتے ہیں۔ گالی دینے میں یہ لفظ زیادہ کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
باپ
وہ ہستی ہے جس کا نام روشن کرنے کے لیے اس کی اولاد ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے لیکن ناکام رہتی ہے کیونکہ اکثر اوقات اندھیرا ہی اتنا ہوتا ہے کہ نام روشن کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ بوڑھا ہو جائے تو اسے ڈیوڑھی الاٹ کر دی جاتی ہے کہ یہاں کھانستے اور پڑے مزے لیتے رہو۔ یا اسے اولڈ پیپلز ہوم میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ منقول ہے کہ اولڈ پیپلز ہوم میں داخل ایک بوڑھا جب بیمار ہو کر آخری دموں پر تھا تو اس نے آخری ملاقات کے لیے اپنے بیٹے کو بلا بھیجا۔ بیٹا آیا تو بڑے میاں نے کہا کہ کمرے میں پنکھا نہیں ہے‘ تم انتظامیہ سے کہہ سن کر پنکھا لگوا دو۔ بیٹے نے کہا کہ آپ تو کوئی دم کے مہمان ہیں‘ پنکھے کے بارے میں اتنے فکر مند کیوں ہیں تو باپ بولا کہ اپنے لیے نہیں‘ میں تمہارے لیے کہہ رہا ہوں کہ ایک دن تمہیں بھی یہیں آنا ہے۔ انگریزی میں اسے فادر کہتے ہیں۔ گاڈ فادر بھی یہی چیز ہے۔ بعض بیٹے ناخلف ہو جاتے ہیں۔ شاید کچھ باپ بھی ہوتے ہوں۔ بیٹے کی پیدائش پر خوشی منائی جاتی ہے جبکہ یہ پتا نہیں ہوتا کہ اس نے بڑے ہو کر ماں باپ کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔
بیٹا
اس کے زیادہ تر خواص اوپر بیان کر دیے گئے ہیں۔ ایک شعر نما کہاوت ہے:
ماں پر پوت پتا پر گھوڑا
بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا
یعنی بیٹا ماں پر جاتا ہے اور گھوڑا باپ پر۔ لیکن یہ کوئی حتمی رائے نہیں ہے یعنی اگر بیٹا باپ پر چلا جائے تو ہم آپ کیا کر لیں گے۔ بڑے بیٹے کو ولی عہد کہتے ہیں بیشک وہ کسی گداگر کے ہاں پیدا ہوا ہو۔ کہتے ہیں کہ بیٹا پنگھوڑے سے ہی پہچانا جاتا ہے‘ یعنی بیٹے کو پہچاننے میں آسانی رہتی ہے ۔ماں کا لاڈلا ہوتا ہے چاہے کتنا ہی نافرمان کیوں نہ ہو۔ نالائق اور گستاخ بیٹے کو عاق کر دیا جاتا ہے حالات اس ذیل میں کئی باپ بھی آ سکتے ہیں ۔ہم نے کئی ایسے باپ خود دیکھے ہیں۔ پنجابی اور ہندی میں اسے پُتر کہتے ہیں‘ ذرا بڑا ہو جائے تو برہم پُتر کہلاتا ہے۔
ساس
کنہیا لال کپور ایک دوست کو لکھتے ہیں کہ تمہارا خط ملا تھا‘ جواب دینے میں تاخیر اس لیے ہو گئی کہ میں پونا چلا گیا تھا جہاں میری ساس مر گئی تھی‘ اور تمہیں معلوم ہے کہ ساسیں کمبخت روز روز تو نہیں مرا کرتیں۔ ایک انگریز خاتون لکھتی ہیں کہ اپنی ساس کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے رہے لیکن اس کے بعد ہماری ملاقات ہو گئی!ہلری کلنٹن کچھ عرصہ پہلے پاکستان آئیں تو ایک صحافی نے ان سے کہا کہ امریکہ یعنی آپ پاکستان کے ساتھ ساسوں جیسا سلوک کر رہی ہیں تو وہ بہت ہنسیں‘ شاید انہیں اپنی بہو یاد آ گئی تھی۔ بیوی کی ماں ہوتی ہے اور اتنی ہی خوفناک۔ ایک خاتون کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر گئیں تو اپنے شوہر کو تاکید کی کہ میری والدہ کا خیال رکھنا۔ پانچ سات روز کے بعد اس نے حال احوال پوچھا تو وہ بولا کہ تمہاری بلی مر گئی ہے۔ وہ بہت ناراض ہو گئی کہ موت کی اطلاع اس طرح دیتے ہیں؟ پہلے تمہیں کہنا چاہیے تھا کہ وہ چھت پر کھیل رہی تھی کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ دوسرے فون پر یہ کہنا چاہیے تھا کہ چھت سے گر کر وہ اس قدر زخمی ہو گئی تھی کہ اس کا انتقال ہو گیا۔ خیر‘ چھوڑو‘ یہ بتائو کہ میری والدہ کیسی ہیں تو شوہر بولا کہ وہ چھت پر کھیل رہی ہیں!
دادا
گھر کی بزرگ ترین ہستی جس کے منہ میں دانت ہوتے ہیں نہ پیٹ میں آنت ۔ پوتے نے ایک بار کہا‘ دادا جان‘ شہر میں بہت اچھی سرکس آئی ہوئی ہے‘ آپ ہمیں دکھا لائیں! دادا جان نے کہا‘ نہیں بیٹے میری کوئی عمر ہے سرکس دیکھنے کی ‘ کسی اور کو ساتھ لے جائو۔ پوتا بولا‘ دادا جان‘ اس میں سُنہری بالوں والی ایک حسینہ سفید گھوڑے پر ڈانس بھی کرتی ہے‘ جس پر دادا جان بولے‘ اچھا‘ تم کہتے ہو تو چلا جاتا ہوں‘ مجھے بھی سفید گھوڑا دیکھے ایک زمانہ ہو گیا ہے۔ مزید منقول ہے کہ بچے نے پوچھا‘ دادا جان دنیا کا سب سے بڑا دریا کون سا ہے۔دادا جان نے کہا‘ نہیں بیٹے‘ مجھے معلوم نہیں۔ بچے نے پھر پوچھا‘ دادا جان ‘ دنیا کا سب سے بڑا سمندر کون سا ہے؟ دادا جان نے پھر کہا کہ مجھے معلوم نہیں۔ اسی طرح اس نے متعدد سوال پوچھے اور وہی جواب پایا۔ آخر وہ بولا‘ دادا جان وہ... خیر رہنے دیں‘ جس پر دادا جان بولے‘ پوچھو بیٹا‘ پوچھو‘ اگر پوچھو گے نہیں تو تمہارے علم میں اضافہ کیسے ہو گا؟ منقول ہے کہ ایک انگریز کی 80ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی کہ ایک صحافی نے اس سے پوچھا کہ اس عمر میں آپ کی اتنی اچھی صحت کا کیا راز ہے؟
''میں نے عمر بھر شراب کو ہاتھ نہیں لگایا‘‘ بڑے میاں نے جواب دیا۔
اتنے میں ساتھ والے کمرے سے برتن توڑنے اور مغلظات بکنے کی آوازیں آنا شروع ہوئیں تو صحافی نے حیران ہو کر پوچھا‘
''یہ کیا ہے؟‘‘
''یہ میرے والد صاحب ہیں جو شراب پی کر یہی کچھ کیا کرتے ہیں‘‘ بڑے میاں نے جواب دیا۔
آج کا مطلع
دل کی گہرائی سے پکار مجھے
پھر اسی خواب سے گزار مجھے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved