تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     31-03-2017

اُلٹے بانس بریلی کو

ہندوستان کا صوبہ اترپردیش جسے اختصار کے ساتھ ''یوپی‘‘ کہا جاتا ہے۔ بریلی شہر اسی یوپی کا ایک اہم ترین شہر ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ اس لئے بھی اہم ترین ہے کہ سید احمد شہید بریلی ہی کے رہنے والے تھے جو بریلی سے چلے اور بالاکوٹ میں ایک معرکے میں شہید ہوئے۔ ان کی اور شاہ اسماعیل شہید کی قبریں آج بھی پاکستان کے صوبہ کے پی کے شہر بالاکوٹ میں جرأت و عزیمت کا پتہ دیتی ہیں۔ اسی بریلی کی اہم ترین شخصیت مولانا احمد رضا خان بریلوی بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شخصیات کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ اس بریلی شہر میں بانس کے جنگلات بھی بہت ہوا کرتے تھے، اس قدر کہ یہاں سے پورے ہندوستان میں جایا کرتے تھے، اسی وجہ سے اردو کا ایک مقولہ مشہور ہوا ''الٹے بانس بریلی کو‘‘ یعنی ان لوگوں کی بیوقوفی میں کیا شک ہو گا کہ جو ہندوستان کے کسی علاقے سے بانسوں کا ٹرک لے کر بریلی شہر میں بیچنے کو آ جائیں۔ لامحالہ یہ بیوقوف ہی کہلائیں گے اور اپنی تجارت میں گھاٹا بھی کھائیں گے۔ 
قارئین کرام! آج کل ہندوستان میں ''ہندتوا‘‘ کے علمبردار ''بی جے پی‘‘ سرکار کا کچھ ایسا ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جاہلانہ حال ہے کہ وہ حیوانوں کی محبت میں مسلم انسانوں کو آگ اور خون کی نذر کرنے لگ گئے ہیں۔ ہندتوا کے علمبردار اور بی جے پی کے دہشت گرد مسلمانوں کو گائے جانوروں کے حقوق کا سبق پڑھائیں تو اس موقع پر ہم یہی کہیں گے کہ ''الٹے بانس بریلی کو‘‘۔ 
''پاکستان‘‘ فارسی کا لفظ ہے جس کا معنی ''پاک جگہ‘‘ ہے۔ اسی طرح مدینہ منورہ کے بارے میں حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ''مدینہ کا نام طیبہ ہے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کا نام طیبہ رکھ دوں‘‘۔ (مسلم، طبرانی کبیر) طیبہ کا معنی بھی پاک ہے اور یہ لفظ عربی ہے۔ حضورؐ کی مبارک زبان سے ادا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مدینہ اور طیبہ کا ترجمہ فارسی میں کیا جائے تو وہ ''پاکستان‘‘ بن جائے گا اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے یہی بات فرمائی تھی کہ ہم پاکستان میں مدینے کی ریاست کا تجربہ کریں گے، یعنی لفظی اور معنوی اعتبار سے ریاست مدینہ اور پاکستان ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ 
حضرت عبداللہ بن جعفرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپؐ ایک مرتبہ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے۔ وہاں ایک اونٹ تھا۔ اس نے جونہی اللہ کے رسولؐ کو دیکھا تو دکھ بھری آواز نکالی اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے چھم چھم آنسو ٹپکنے لگے۔ اللہ کے رسولؐ اس کے پاس چلے گئے اس کے سر پر پُرشفقت ہاتھ پھیرا وہ خاموش ہو گیا... اب کے آپؐ نے پوچھا یہ اونٹ کس کا ہے؟ اتنے میں ایک انصاری جوان بھی آن پہنچا، کہنے لگا! جی یہ میرا ہے۔ اس پر آپؐ نے اسے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا! اللہ نے تجھے اس اونٹ کا مالک بنایا ہے تجھے اس حیوان کے بارے میں اللہ سے ڈر نہیں لگتا۔ اس نے ابھی میرے پاس شکوہ کیا ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے جبکہ مشقت پوری لیتا ہے اور اسے تھکاتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بتلاتے ہیں کہ حضور نبی کریمﷺ نے صحابہ کو تلقین کرتے ہوئے حکم دیا کہ ''جب تم سرسبز و شاداب علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو اور جب تم بنجر و ویران علاقوں سے گزرو تو چلنے میں جلدی کرو‘‘۔ (مسلم) مطلب یہ کہ شاداب علاقوں میں اونٹوں کو چرنے کے لئے چھوڑ دو، ساتھ یہ بھی تلقین کی کہ ''اس دوران ان کو کرسیاں نہ بنائو‘‘۔ (مسند احمد) یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کی پشت پر بنی ہوئی کرسی نما نشست پر ہی بیٹھے رہو کہ وہ سکون سے چارہ بھی نہ کھا سکیں گے ، لوگو! یہ آپؐ کی تعلیم ہی کا نتیجہ ہے کہ حضرت مسیّب بن دار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے خود دیکھا حضرت عمرؓ نے اونٹ کے مالک کو چھڑی سے ضرب لگائی اور فرمایا۔ ''تم اپنے اونٹ پر اس قدر سامان لادتے ہو کہ جو اونٹ کی ہمت سے زیادہ ہے‘‘۔ (طبقات ابن سعد)
سرکار مدینہ حضرت محمد کریمؐ طیبہ کے بازار سے گزر رہے ہیں کیا دیکھا ایک شخص نے بکری کی گردن پر پائوں رکھا ہوا ہے اور پتھر پر چھری کو تیز کر رہا ہے۔ بکری اپنی آنکھوں سے چھری کو تیز ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ اس پر حضورؐ نے (غصے کے ساتھ) مذکورہ شخص کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا! تم چاہتے ہو کہ اس کو ایک کی بجائے کئی موتوں سے دوچار کر دو۔ اس کو لٹانے سے پہلے تم نے چھری کو تیز کیوں نہ کیا؟(طبرانی کبیر و اوسط ، حاکم) اللہ اللہ! تمام جہانوں اور ان میں رہائش پذیر سب کیلئے رحمت بن کر آنے والے حضور نبی کریمؐ کا بکری کے ساتھ پررحمت انداز ملاحظہ ہو کہ تیز چھری کی طرف اس کا دیکھنا کئی موتوں سے دوچار ہونا ہے۔ ذبح کرنے والے کو جو حق دیا گیا ہے، وہ صرف ایک موت سے دوچار کرنے کا ہے کہ اسے دکھائے بغیر تیز چھری کے ساتھ اسے ذبح کر دے۔ چھری تیز نہ ہو تو یہ بھی فرمان نبیؐ کے مطابق ظلم ہے اور چھری دکھائی جائے تو یہ بھی متعدد موتوں سے دوچار کرنے والا ظلم ہے اور سرکار مدینہؐ کو طیبہ جیسی پاک سرزمین پر یہ ظلم گوارہ نہیں ہے۔ 
لوگو! میرے حضورؐ کی پررحمت تعلیم و تربیت ہی کا یہ اثر تھا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک چرواہے کو دیکھا کہ اپنی بکریوں کو کسی گندی اور غلیظ جگہ پر چرا رہا ہے جبکہ اس سے بہتر جگہ بھی موجود تھی۔ آپؓ کہنے لگے، ان بکریوں کو کسی اچھی جگہ لے جا کر چرائو، تجھ پر افسوس ہے اے چرواہے۔ یاد رکھ! میں نے حضورؐ کو فرماتے سنا ہے کہ ''ہر راعی سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا‘‘۔ (مسند احمد، صحیح) اللہ کے رسولؐ کے ایک معروف صحابی حضرت ابو درداؓ ہیں۔ ان کا ایک اونٹ تھا جس کا نام انہوں نے دمون رکھا ہوا تھا، جب حضرت ابو درداؓ پر موت کا ٹائم آیا تو اپنے اونٹ کو مخاطب کر کے کہنے لگے۔ اے دمون! قیامت کے دن میرے رب کریم کے ہاں مجھ سے مت جھگڑنا۔ میں نے تجھ پر تیری ہمت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا۔ (سلسلہ صحیحہ للالبانی) حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ جنہیں خلیفہ راشد کہا جاتا ہے۔ اپنے وقت کی مسلم سپر پاور کے حکمران تھے، مگر تنگی کے ساتھ گھریلو گزارہ کرتے تھے۔ ان کا ایک غلام تھا جو ان کی طرف سے ایک خچر کے ذریعے کمائی کرتا تھا۔ ہر روز وہ ایک درہم (چاندی کا سکہ) کما کر لاتا تھا۔ ایک دن وہ ڈیڑھ درہم لے آیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کمائی میں اضافے کا سبب پوچھا تو کہنے لگے، منڈی میں مزدوری تیز تھی۔ فرمایا نہیں، ایسا نہیں، مجھے محسوس ہو رہا ہے تو نے خچر کو تھکا مارا ہے۔ سنو! اب تین دن اس کو بازارمیں لے کرنہ جانا، اسے آرام دو، اس کی خدمت کرو۔ (سلسلہ صحیحہ للالبانی) 
قارئین کرام! میں اپنے پررحمت حضورؐ کی احادیث لایا ہوں، صحابہ اور تابعین کا اس پر عمل اور کردار لایا ہوں۔ آج بھی سچے مسلمانوں کایہی کردار ہے۔ گائے کی ہتیا کا بہانہ بنا کر بی جے پی کے لوگ مسلمانوں کے قتل کے پروگرام بنائیں تو میں کیوں نہ کہوں کہ لوگو! ہندتواکے علمبرداروں کا کردار ''الٹے بانس بریلی کو‘‘ ہے۔ جہاں مردہ خاوند کے ساتھ عورت کو بھی زندہ جلایا جائے۔ جہاں کالی دیوی کے خوفناک کالے بت کے سامنے معصوم بچوں اور بچیوں کو کلہاڑے سے مار دیا جائے۔ وہ لوگ گائے جیسے حیوان کے تقدس کے نام پر گجرات میں بچوں کے جھگڑے کا بہانہ بنا کر پانچ ہزار بلوائیوں کا جتھہ لے کر مسلمانوں کے گھروں کو جلا دیں۔ پندرہ سال پہلے مودی جب وزیراعلیٰ تھا تب یہاں دو ہزار سے زائد مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا تھا۔ اب پھر وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے تین سال بعد وہاں پھر آغاز کر دیں۔ یو پی میں ایک ہندو یوگی آدتیہ کو وزیراعلیٰ بنا دیں جو بندر کو ہنومان دیوتا کے طور پر جھولی میں بٹھائے اور واضح اعلان کرے کہ گائے کی ہتیا پر مسلمان قصابوں کی دکانیں بند کر دو۔ بے چارے قصاب پکڑے جائیں۔ ''لَو جہاد‘‘ کی اصطلاح اسی یوگی نے ایجاد کی تھی۔ اس نے اعلان کر دیا کہ جو مسلمان ہندو لڑکی سے (مسلمان کر کے) شادی کرے گا ہم مسلمانوں کی 100 لڑکیاں اٹھائیں گے۔ وزیراعلیٰ بننے پر وہ خصوصی ٹاسک فورس کو ہدف دے کہ بے مقصد گھومنے والوں کو گرفتار کرو۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں کے باہر دیکھو اگر کوئی مسلم لڑکا ہندو لڑکی کے قریب ہو تو اسے اٹھا لو۔ وہ یوگیوں کی ایک فوج بنا لے جس کے پاس بھالا یعنی بڑے خنجر ہوتے ہیں۔ وہ بریلی کے مسلمانوں کو خوفزدہ کریں، پمفلٹ گھر گھر پھینک دیں، دیوبند کا نام تبدیل کر کے دیوربند رکھنے کا اعلان کریں۔ گائے کے تحفظ کے نام پر یہ لوگ یو پی کے مسلمانوں پر گجرات کا تجربہ کرنے کی تیاری کریں۔ امریکہ اور یورپ پھر بھی پاکستان کا نام لے، انڈیا اس کو جمہوریہ نظر آئے۔ لوگو! ''الٹے بانس بریلی کو‘‘ کسے کہتے ہیں؟ دہشت گرد نام کی شے پھر بھی پاکستان میں ڈھونڈنے آتے ہیں حالانکہ یہ تو ہندوستان میں ہے، سرعام ہے اور وہاں حکمرانی کے اطوار میں ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ سب سے بھاری ذمہ داری پاکستان کے حکمرانوں کی ہے، نہرو لیاقت معاہدے کی رو سے ہندوستانی مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ذمہ داری ہے۔ آج ہم پر فرض ہے کہ ہم حضرت محمد کریمؐ کی سیرت کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنا کردار بھی دنیا کے سامنے رکھیں اور ہندوستان کے مظالم جو کشمیر میں ہیں، ہندوستان بھر میں ہیں، ان کی تصویر دنیا کو دکھلائیں اور بتائیں کہ پاکستان ویسا ہی ملک ہے، جیسا حضورؐ نے پرامن مدنی ملک بنایا تھا اور ہندوستان ایسا ملک ہے جو انسانیت کا دشمن ملک ہے۔ وہاں کے حکمران دہشت گردی کا سرعام پرچار کرتے ہیں اور عمل کر کے بھی دکھلاتے ہیں۔ لہٰذا اسے انسان بننے کو کہا جائے نہیں تو اسے انسانیت کی برادری سے خارج کیا جائے۔ یہ ہے وہ ذمہ داری جسے لیاقت علی خان مرحوم کے جانشینوں کو ادا کرنا ہو گی۔ اسی سے ہندوستان کے مظلوم انسانوں کا تحفظ ہو سکے گا۔ مسلمان ہوں یا مسیحی، سکھ ہوں یا کوئی اور ہندوستان کے ہر مظلوم کا پاسدار پاکستان کو بننا ہو گا۔ ہندوستان کے اس حیوان کو انسان بنانا ہو گا۔ تبھی خطے میں امن کا سائبان ملے گا۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved