تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     01-04-2017

تاریخی موقع… تمام نگاہیں منتظر ہیں!

پاکستان کا اہم ترین مسئلہ، ام المسائل، بدعنوان اور نااہل قیادت ہے۔ دیگر ممالک میں بھی بدعنوانی ہے۔ اپنے چینی دوستوں کی طرف دیکھ لیں، اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر شی جن پنگ بدعنوان پارٹی افسران کے خلاف مسلسل مہم چلائے ہوئے ہیں، لیکن ہم چینیوں پر نااہلی کا الزام نہیں لگا سکتے۔ اُن کے ہاں بدعنوانی ہے، لیکن اس دوران اُنھوں نے اپنے ملک کو ایک عالمی طاقت اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت بنا دیا ہے۔ 
دوسری طرف پاکستان ایک طرفہ تماشا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اس کا حکمران طبقہ بدعنوان ہے۔ اقتدار اور اتھارٹی رکھنے والے افراد اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے دولت سمیٹتے ہیں۔ اس ملک، جسے ہم دوٹوک اور واضح لہجے میں اسلام کا قلعہ قرار دیتے نہیں تھکتے، میں یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ لیکن اگر ہمارے رہنما اس ملک کو خوشحال بنا رہے ہوتے، اگر وہ پسماندگی دور کرتے ہوئے اسے ایک جدید اور ترقی پسند ریاست بنا رہے ہوتے تو اُن کی بدعنوانی (اور اس میں کوئی شک نہیںکہ اُنھوں نے ملکی دولت لوٹ کر اپنی جیب بھری ہے) سے صرف نظر کیا جا سکتا تھا۔
لیکن پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کے حکمران صرف بدعنوان ہی نہیں، اُن کا شمار دنیا کے نااہل ترین افراد میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہتر تبدیلی لانا تو درکنار، اُنھوں نے بہترین امکانات سے مالا مال اس ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ اگر ہم کشکول بدست نہ ہوں تو ہم اپنے قومی کھاتے بھی بیلنس نہیں کر سکتے۔ ہمارا تمام تر ترقیاتی بجٹ غیر ملکی قرضہ جات پر انحصار کرتا ہے۔ ہمارا قومی قرضہ پہلے ہی ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے، اس کے باوجود ہم مہنگی شرح پر قرض لیے جا رہے ہیں کیونکہ اس کے بغیر ہم اپنے بلوں کی ادائیگی نہیں کر سکتے۔
اپنی تخلیق کے وقت یہ ملک روشن مستقبل کے امکانات رکھتا تھا۔ اسے بہت سے تحائف ورثے میں ملے تھے، جیسا کہ انفراسٹرکچر، سول سروس، فعال عدلیہ اور بظاہر دکھائی دینے والا جمہوری نظام۔ ایشیا کے زیادہ تر ممالک ان اثاثوں سے محروم تھے۔ اُس وقت تک ملائیشیا وجود میں نہیں آیا تھا، سنگاپور کی کوئی حیثیت نہ تھی، ہانگ کانگ ایک بندرگاہ تھا، لیکن پھر کراچی بھی بندرگاہ تھا۔ 1950ء میں جزیرہ نما کوریا‘ شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان ہونے والی تباہ کن کشمکش کا شکار تھا۔ چین میں 1949ء میں، پاکستان کی تخلیق کے دو سال بعد، کمیونسٹوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، اور اگلے ہی سال وہ کورین جنگ کا حصہ بن گئے۔ اس جنگ میں چین کو چار لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اس کا ذکر میں اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ بات سمجھنی آسان ہو جائے کہ اُنہیں اس جنگ اور انقلاب کے خونی اثرات سے نکلنے میں طویل عرصہ لگنا تھا۔ 
اگر پاکستان کو قدرے بہتر لیڈر نصیب ہوتے تو یہ بہت سی کامیابیاں سمیٹ سکتا تھا۔ چلیں اگر یہ اپنے قیام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا، تو بھی یہ کسی حد تک اپنے پہلے سالوں میں اچھی کارکردگی دکھا رہا تھا، لیکن پھر وہ بدقسمت گھڑی آنی تھی‘ جب حکمران طبقہ پے در پے غلط اندازے لگاتے ہوئے بھارت کے ساتھ 1965ء کی جنگ میں الجھ گیا۔ میدانِ جنگ میں پیش آنے والے واقعات ایک طرف، اس جنگ کے نفسیاتی نتائج بہت دور رس تھے۔ اس سے پہلے بھی ہمارے بھارت کے ساتھ مسائل تھے، خاص طور پر وہ جن کی جڑیں تقسیمِ ہند میں گڑی ہوئی تھیں، لیکن 1965ء کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دیواریں بلند ہونے لگیں اور ان کے تعلقات پر دشمنی اور ایک دوسرے سے خوف کے سائے گہرے ہونے لگے، لیکن پھر بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر ابتدائی دور کے اُن رہنمائوں کو ہم یاد کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ وہ بہت سے معاملات میں سطحی دانش کے مالک تھے، لیکن وہ کم از کم آج کے رہنمائوں کی طرح بدعنوان نہ تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کا بیٹا اپنے باپ کے عہدے سے فائدہ اٹھا کر صنعت کار بن گیا‘ لیکن یہ بات ایوب خان کے
بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اُنھوں نے اپنے لیے فیکٹریاں نہیں لگائیں اور جہاں تک دستیاب معلومات کہتی ہیں، اُن کی سمندر پار کوئی جائیداد نہ تھی، اور نہ ہی لندن جیسی کسی جگہ پر کوئی فلیٹ تھا۔ 
جنرل یحییٰ خان شراب و شباب کا شغف رکھتے تھے، بلکہ بے حد دلدادہ تھے، اور یہ کوئی ڈھکا چھپا راز نہ تھا، لیکن وہ مالی معاملات میں بدعنوان نہ تھے۔ جب اسلام آباد کی بنیاد رکھی گئی تو ذوالفقار علی بھٹو وزیرِ خارجہ تھے، لیکن اُن کا دارالحکومت میں کوئی گھر یا پلاٹ نہ تھا۔ اُن کی لاہور میں بھی کوئی جائیداد نہ تھی۔ یقینا اُن کے مہنگے شوق تھے، جیسا کہ وہ عمدہ ترین وسکی نوش کرتے، نفیس ترین لباس زیب تن کرتے، لیکن ترقیاتی منصوبوں پر کمیشن۔۔۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ جب اُنھوں نے سرکاری خرچے پر اپنی رہائش گاہ، 70 کلفٹن کراچی کو ایئرکنڈیشنڈ کرایا تو اس کے لیے معمول کا طریقِ کار اختیار کرتے ہوئے بعد میں اس کی ادائیگی اپنی جیب سے کی۔ ایوب اور یحییٰ فوجی آمر، جبکہ بھٹو درحقیقت سویلین آمر تھے، لیکن وہ تمام اپنے مالی معاملات میں شفاف تھے۔ کہیں کہیں کوئی بے ضابطگیاں ضرور ہوں گی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اُس وقت ملک میں ایسی بدعنوانی اور دولت جمع کرنے کی روش نہ تھی جو آج کے پاکستان میں روزمرہ کا ایک معمول بن گیا ہے۔ 
تاہم جنرل ضیا کے آنے سے تمام منظر تبدیل ہو گیا۔ اُس وقت جنرلوں اور ایئر مارشلوں (اور شاید ایڈمرلوں) کے راتوں رات امیر ہونے کی کہانیاں سامنے آنے لگیں۔ ایک وقت تھا جب سینئر فوجی افسران آرام دہ، لیکن سادہ زندگی بسر کرتے تھے، لیکن اس نئے دور میں رواج پانے والے طرزِ زندگی میں سینئر افسران کی زندگی چکاچوند ہو گئی۔ بات صرف اُن تک ہی محدود نہ تھی، فوجی حکومت کے کچھ سویلین حامیوں، جیسا کہ نواز شریف فیملی، جو درمیانے درجے کے بزنس مین یا صنعت کار تھے، نے اقتدار کیا حاصل کیا، دھن دولت کی گنگا ان کی طرف بہنا شروع ہو گئی۔ کبھی شریف فیملی کا لاہور میں ایک صنعتی یونٹ تھا، لیکن جب نواز شریف 1981ء میں پنجاب کے وزیر خزانہ اور 1985ء میں وزیر اعلیٰ بنے تو ان کی صنعتی سلطنت کی حدود پھیلتی چلی گئیں۔ 
پی پی پی کی قیادت بھی اس دوڑ میں پیچھے نہ تھی۔ جب بے نظیر بھٹو 1988ء میں وزیرِ اعظم بنیں، اُن کے شوہر، آصف علی زرداری ''مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ کہلائے۔ اس استعارے کا مطلب تھا کہ کوئی ڈیل اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی تھی جب تک اُن کا حصہ نہ نکالا جاتا۔ ذرا تصور کریں، پانچ دس برس سے نہیں، 1980ء کی دہائی سے یہ کچھ ہو رہا ہے۔ شریف اور زرداری حکومتیں باری باری اپنے عقربی سرمائے میں مزید اضافہ کرتی اور عوام کو بدعنوانی اور نااہلی کی وراثت عطا کرتی رہی ہیں۔ عوام آصف زرداری کو پہلے ہی مسٹر ٹین پرسنٹ سمجھتے تھے۔ پاناما انکشافات کی اہمیت یہ ہے کہ اس کیس نے شریف فیملی کے کارناموں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کیس کا جو بھی فیصلہ ہو، اس خاندان کی اصلیت بے نقاب ہو چکی۔ اس کا مطلب ہے کہ عوام کی نگاہوں میں دونوں جماعتیں یکساں طور پر بدعنوان اور آلودہ ہیں۔ اب شریف برادران کے لیے زرداری کی بدعنوانی کی طرف اُنگشت نمائی کرنا اور اپنی پارسائی کا دعویٰ کرنا ممکن نہ ہو گا۔ 
اس کا زیادہ تر کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔ اُنھوں نے پاناما انکشافات کے بعد دبائو برقرار رکھا اور معاملے کو سپریم کورٹ میں لے گئے۔ مخالفین میں یہ تاثر ہے کہ شریف برادران ججوں پر اثر انداز ہوتے ہیں‘ لیکن اپنے طویل سیاسی سفر کے دوران انہیں پہلی مرتبہ ایک عدالتی امتحان کا سامنا ہے ؛ چنانچہ اس کیس نے قوم کو سیاسی گند صاف کرتے ہوئے نئے دور کی طرف آغاز کرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ چونکہ اس کیس کے نتیجے پر بہت سی چیزوں کا دارومدار ہے، اس لیے اس کا جس بے تابی سے انتظار کیا جا رہا ہے، پاکستان کی حالیہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved