تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     01-04-2017

کرپشن‘ کرپشن اور کرپشن ؟

اچانک دھماکہ ہوا اور دکان کی بجلی بند ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ ابھی ابھی لگایا گیا میٹر جل چکاہے۔ دکاندار سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ پہلے ہی نہ جانے کتنے '' چکروں‘‘ کے بعد میٹر لگوایا تھا ۔ اسی وقت لیسکو کے دفتر پہچا تو اس کی شکایت سننے کے بعد کہا گیاآپ درخواست دے دیں، نئے میٹرآ ئیں گے توآپ کا میٹر تبدیل کر دیا جائے گا۔ ہاں سے مایوس ہو کر اس نے دو تین بڑے افسران کے پاس اپنی فریاد پہنچائی تو ایک ہی جواب ملتا رہا کہ آپ درخواست دے دیں ۔ اس نے سب کی منت سماجت شروع کر دی، ایک اہلکار نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا اگر فوری کام چاہتے ہو تو خرچہ کرو تمہارا کام ابھی ہو جائے گا اور معاملہ بیس ہزار روپے میں طے پا گیا۔۔۔۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد اہلکار نئے میٹر سمیت آ پہنچا۔ میٹر کی تنصیب اور تاروں کی درستگی کے بعد اپنا طے شدہ '' نذرانہ‘‘ جیب میں ڈالا اور یہ جا وہ جا۔ دکاندار کی یہ داستان سننے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ دکاندار کو لیسکو کی غلطی سے جلنے والے میٹر کو تبدیل کرانے کیلئے رشوت کیوں دینی پڑی۔ بجلی کے میٹرخریدنے والوں سے لے کر انہیں مختلف سب ڈویژنز میں تقسیم کرنے والے ایک ایک فرد کو اگر احتساب کا خوف ہو تاتو کسی بھی جگہ میٹر ختم ہونے کے بہانے نہ بنائے جاتے۔ بجلی یا کسی بھی عوامی بھلائی سے متعلق ادارے کے صارفین کو یقین ہو جائے کہ کسی بھی حکومتی اہلکار کی سفارش یا رشوت کی بجائے ان کے کام میرٹ پر ہو ں گے‘اہل کاروں کی پوسٹنگ، ٹرانسفر، اقربا پروری اور پسند ناپسند یا حصہ بقدر جثہ دینے کی بجائے صرف قابلیت اور اہلیت پر کی جائے گی‘ جب وہ چاروں جانب سفارش ،رشوت اور کمیشن کے ڈھیر لگانے کے باوجود ناکامی سے دو چار ہوکر جان جائیں گے کہ اب سب کچھ میرٹ پر ہو گا تو پھر نہ تو بجلی، گیس پانی کے میٹر جلیں گے اور نہ ہی میٹر ختم ہونے کی باتیں کی جائیں گی اور نہ ہی صاحب کے دفاتر کے باہر سائل دھکے کھاتے نظر آئیں گے !! 
تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی ہر میڈیا ٹاک، پریس کانفرنس اور جلسوں میں سوائے کرپشن کے اور کوئی موضوع ہی نہیں ہوتا۔ ان کی یہ بات مجھے پسند آتی ہے لیکن جب سنا کہ لوگ اب کہے لگے ہیں کہ اسے کہو کہ اس موضوع کو اب بدل ہی دے، ہر وقت کرپشن کرپشن اور دھاندلی کی گردان سن سن کر لوگوں کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے کارکنوں کے کان بھی پکنے لگ گئے ہیں۔ وہ پارٹی قائدین سے بھی کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ خان کو چاہئے کہ کرپشن کی بجائے اب وہ غربت، بے روزگاری ، انصاف اور ملک کو اندرونی و بیرونی طور پر درپیش خطرات پر بات کیا کریں۔
موقع ملتے ہی ایک دن انہیں پکڑ لیا کہ جناب والا ٹھیک ہے کہ اس وقت کرپشن اور دھاندلی پاکستان کے بہت بڑے مسائل ہیں۔۔۔ لیکن عوام کو عزت اور روزگار بھی چاہئے، انہیں صاف پانی اور سستا ترین انصاف چاہئے، ملک بھر کے ہسپتالوں میں صحت کی بہتر سہولتوں سمیت بچوں کو معیاری تعلیم چاہئے ،سرکاری دفاتر میں شہریوں کو جاتے ہوئے عزت نفس چاہئے، انہیں بجلی پانی اور گیس کے بوگس بل نہ بھجوائے جائیں ان کے گھروں، دکانوں اور کاروباری جگہوں کی دس دس گھنٹے بجلی بند نہ رکھی جائے ان پر انکم ٹیکس اور سیلز بچانے کے حربے نہ آزمائے جائیں انہیں کہیں آنے جانے کیلئے کسٹم، منشیات اور ایف آئی اے سمیت امیگریشن کی چال بازیوں سے بچایا جائے، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کیلئے عورتوں اور بوڑھوں کو دانت بجاتی سردیوں اور آگ برساتی گرمیوں میں اہل کاروں اور ان کے ایجنٹوں سے مک مکا نہ کرنے پر گھنٹوں قطاروں میں نہ لگنا پڑے۔ کسانوں کو جعلی ادویات اورمہنگی بجلی، بیج اور کھاد سے بچایا جائے ‘خان صاحب غریب مزدور اور چھوٹے کسان کودھاندلی اور کرپشن سے کیا لینا دینا؟۔ آپ انہیں فصلوں کیلئے پانی اور پٹواری کے رگڑے سے بچائیں‘ سکولوں کی حالت بہتر بنانے کی بات کریں‘ صرف لاہور کراچی سمیت بڑے بڑے شہروں کے سکولوں کی باتیں نہ کریں‘ ان بچوں کا سوچیں جو پاکستان کے نیم شہری اور دیہی علا قوں میں خانہ بدوشوں کی طرح تعلیم حاصل کرتے ہیں، پولیس تھانوں اور اس کے متعلقہ دفاتر میں غریب کی عزت تو دور کی بات ظلم میں ہی کچھ کمی کرا دیں۔۔۔۔ ۔ کانو ں سے نکالے جانے والے پتھروں سے ہیرے تراشنے ہیں تو اس کیلئے ماہر کاریگروں کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ پتھر توڑنے والوں کی!! پاکستان قائم ہونے کے دس پندرہ برس تک ہمیں جو بھی پرائمری اور ہائی سکولوں کے اساتذہ ملے وہ اپنی مثال آپ تھے اس کے بعد سفارش اور تجارت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور حکمرانوں سمیت معاشرہ بالکل ہی بھول گیا ،کسی بھی بچے کیلئے پرائمری کی تعلیم کیلئے ایک پائیدار بنیاد کیلئے ماہر کاریگر اور راج مزدور کی ضرورت ہوتی ہے پاکستانیوں کی بد قسمتی دیکھئے کہ ان کی بنیادوں میں کچی اینٹوں اور گارے کا استعمال شروع کر دیا گیا اور نتیجے میں پرائمری سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک ہمارا معاشرہ ، تعلیمی معیار راتوں رات کروڑ پتی بننے کی اجتماعی سوچ اور شعور سب کے سامنے ہے۔
آپ نے دھاندلی اورکرپشن کی باتیں بہت کر لیں۔ اب عوامی مسائل کی طرف توجہ دیں۔ نہ جانے میں کیا کچھ کہتا رہا اور وہ خاموشی سے سب کچھ سنتے رہے۔ میں نے بات ختم کرتے ہوئے کہا‘ سچی بات پوچھیں تو لوگ اب ٹی وی چینلز پر آپ کی کرپشن کرپشن کی گردان سے ناکوں ناک تنگ آئے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خان سے کہو کہ بہت ہو گیا اب وہ اپنا مو ضوع بدلیں۔ عمران خان ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہنے لگے اگر کرپشن کرنے والے کو اس بات کا پختہ یقین ہو جائے کہ اسے کسی بھی سفارش اور دبائو کی پروا کئے بغیر پکڑ لیا جائے گا۔۔۔اسے یقین ہو جائے کہ اس کی جانب سے پولیس کو پیش کئے جانے والے نوٹوں کی بھر مار کو ٹھوکروں پر رکھتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ تیار کیا جائے گااور انصاف کی کرسی پر بیٹھے ہوئے جج کو ہر وقت خوف رہے کہ انصاف کو بیچنے پر اسے اسی عدالت کے کٹہرے اور ساتھ ہی بنے ہوئے بخشی خانے کی حبس زدہ گرمی میں رہنا پڑے گا ، پی آئی اے، ریلوے، گیس، بجلی پانی، ایف آئی اے، ایف بی آر والے کرپشن کی سزائوں سے لرزنے لگیں کہ جیل میں سخت قید کے علا وہ ان سے کرپشن سے بنائی جانے والی تمام جائداد بھی بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔۔۔تو بتائیں کون سا محکمہ کرپشن کی ہمت کرے گا ؟۔۔۔ اگر کرپشن کو جڑوں سے اکھا ڑ دیا گیا ۔پھر نہ تو انتخابی عملہ اور نہ ہی بقول آصف زرداری کے ریٹرننگ افسران خریدے جاسکیں گے اور نہ ہی ووٹروں کو تھانہ کچہری اور بجلی گیس والوں کا خوف دلایا جا سکے گا۔۔۔۔اور جب کرپشن پر بیس تیس سال کی بغیر کسی تفریق کے سزا ہو گی تو پھر پانچ سے دس اور پندرہ سے تیس کروڑ کمانے کیلئے کوئی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے گا ۔۔۔ پھر سڑکیں پل، ہر عمارت اور پراجیکٹ کے اخراجات نصف رہ جائیں گے... ہزاروں کی تعداد میں نئے بہترین قسم کے سکول بنیں گے اور پانچ گنا نئے ہسپتال بنیں گے جہاں کا ماحول صاف ستھرا اور ہر قسم کی اصلی ادویات مریضوں کو عزت و احترام سے مفت مہیا ہوں گی ۔۔!! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved