تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     02-04-2017

ایک اہم معاشرتی مسئلہ

ہمارا سماج کئی اعتبار سے قابل تعریف ہے۔ اس میں تاحال رشتوں کا احترام اور محبت موجود ہے۔ خونی رشتے تکلیف دہ لمحات اور خوشی کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ مادہ پرستی اور خودغرضی کی وجہ سے رشتوں کے جڑاؤ میں پہلے کے مقابلے میں کمزوری واقعہ ہو چکی ہے لیکن اس کے باوجود تاحال مغربی معاشروں کی طرح اکثر گھرانوں میں مکمل لاتعلقی دیکھنے میں نہیں آتی۔ دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے کام آنے والے خاندان ابھی تک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ تاہم ہمارے معاشرے میں بہت سے گھرانوں کو ایک اہم مسئلہ درپیش ہے۔ کئی گھروں میں‘ جن میں سے اکثر خوشحال ہیں‘ بیٹا شادی کے بعد رفتہ رفتہ اپنے والدین سے لاتعلقی اختیار کر لیتا ہے اور کئی مرتبہ ان کی حد سے زیادہ حق تلفی پر اتر آتا ہے۔ اپنی تمام تر توجہ اور جملہ وسائل کو اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پورا کرنے اور ان کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے استعمال کرتا ہے لیکن اپنے والدین کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے سے بھی احتراز کرتا ہے۔ اپنے وقت کا معمولی سا حصہ بھی اپنے والدین کے ساتھ گزارنے پر آمادہ و تیار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کئی ایسے گھرانے بھی ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق معاشی اعتبار سے غریب یا متوسط طبقے سے ہے‘ جہاں بہو اور بیوی کے ساتھ نامناسب سلوک کیا جاتا ہے۔ بیوی کو گھر کا رکن سمجھنے کی بجائے گھریلو ملازمہ کا حیثیت دی جاتی ہے اور بہو کو بیٹی سمجھنے کی بجائے کام کرنے والی عورت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ وقفے وقفے سے شوہر اپنی بیوی کے ساتھ قطع کلامی کرنے کے ساتھ ساتھ مار پیٹ سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ستم بالا ستم یہ کہ کئی مرتبہ سسرال والے بھی اس مار کٹائی میں اپنے بیٹے کا ہاتھ بٹاتے نظر آتے ہیں۔ کئی مرتبہ غیر معینہ مدت کے لیے بیوی کو اس کے والدین کے گھر بھیج دیا جاتا ہے اور بات بڑھتے بڑھتے طلاق پر منتج ہوتی ہے۔ عورت کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور وہ کئی مرتبہ اپنی ذاتی ضروریات اور دو وقت کے کھانے کے لیے بھی ترستی رہتی ہے۔ عورت اپنے بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی محتاج بن جاتی ہے۔ یہ دونوں رویے کسی بھی اعتبار سے قابل قبول نہیں ہیں۔ 
ہمارے معاشرے میں گو ایک معقول تعداد میں متوازن گھرانے بھی موجود ہیں لیکن عدم توازن کا شکار گھرانوں کو معاشرتی الجھاؤ سے باہر نکالنے کے لیے دینی تعلیم وتربیت اور مناسب شعور اور آگہی کی زبردست ضرورت ہے۔ اسلام اس اعتبار سے ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں کامل رہنمائی کی ہے۔ اسلام نے انسانوں کو والدین کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ بیوی اور اولاد کے حقوق کا بھی تعین کیا ہے۔ قرآن مجید کے متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ احسان پر مبنی رویہ عدل سے ایک درجہ بڑھ کر ہوتا ہے اور یہ انسان سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ انسان ماپ تول کر بھلائی کرنے کی بجائے اپنی استعداد اور وسعت کے لحاظ سے ہر ممکن طریقے سے خیر و بھلائی کے کاموں کو انجام دیتا رہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 23 میں ارشاد فرمایا ''اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔‘‘ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیشہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ آپ نے ایک تنازعے میں ایک باپ کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے بیٹے کو یہ کہا کہ تو اور تیرا مال اپنے باپ کا ہے۔ مغربی معاشروں نے سائنسی اور سماجی اعتبار سے تو بہت ترقی کی لیکن والدین کی قدروقیمت کو پہچاننے سے قاصر رہے۔ بوڑھے والدین کو جب اپنی اولاد کی خدمت کی ضرورت ہوتی ہے اور جب اولاد اپنے بچپنے کی احسانات کا بدلہ کسی حد تک چکانے کے قابل ہوتی ہے تو ان کو بوجھ سمجھ کر اولڈ ہومز میں چھوڑ آتی ہے۔ والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنی اولاد کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ان کے کھانے پینے، تعلیم و تربیت، لباس اور بنیادی سہولیات کو پورا کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ بچوں کو بھی چاہیے کہ پیرانہ سالی کے عالم میں ان کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کی جملہ ضروریات کو احسن انداز میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔ کئی مرتبہ والدین معاشی طور پر تو خوشحال ہوتے ہیں لیکن جذباتی اعتبار سے تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے والدین کو اپنی اولاد کی خصوصی شفقت، توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے اور ان کی بے رخی اور عدم توجہی کی وجہ سے والدین بڑھاپے میں غم، اداسی اور چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ وہ اپنے دل کی بات اپنے لبوں تک لے آتے ہیں اور کئی مرتبہ احساس تنہائی کی وجہ سے اندر ہی اندر گھلتے رہتے اور مختلف قسم کے نفسیاتی اور جسمانی عارضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بوڑھے والدین کو غیر ضروری سمجھنے کی بجائے ان کے نفسیاتی تقاضوں کا خیال کرنا چاہیے اور ان کی جملہ ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے وقت اور وسائل میں سے ہر صورت ان کا حصہ بھی نکالنا چاہیے۔ 
قرآن و سنت کی تعلیمات بیوی کے حقوق کے حوالے سے بھی بالکل واضح ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ نسا کی آیت نمبر19 میں ارشاد فرمایا ''اور ان ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو۔‘‘ اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت نمبر 228 میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ''عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں اچھائی کے ساتھ۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بھی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل خانہ سے بہترین سلوک کرنے والا ہو اور میں اپنے اہل خانہ سے بہترین سلوک کرنے والا ہوں۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ بہترین معاملہ فرماتے رہے۔ زندگی کے طویل روز و شب میں آپ نے کبھی ان کے ساتھ سختی والا معاملہ نہیں کیا۔ جسمانی اذیت تو بڑی دور کی بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ان کی اہانت اور استہزا بھی نہیں کی۔ 
قرآن و سنت کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بداخلاقی، بے حیائی اور بے راہ روی کے سوا عورت کے ساتھ کسی بھی طور پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔ ایسی عورت جو اپنے شوہر کی تابع فرمان ہو اور اس کی ضروریات اور سہولیات کا خیال کرنے والی ہو‘ اس کے ساتھ ہمہ وقت نیکی اور بھلائی والا معاملہ کرنا چاہیے۔ اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ لڑکے کے والدین کو بھی اپنی بہو کو غیر عورت سمجھنے کی بجائے اپنی بیٹی کا مقام دینا چاہیے۔ اگر گھریلو سطح پر متوازن اور عادلانہ رویہ اپنایا جائے اور ہر ایک کو اس کا جائز مقام دیا جائے والدین کا ادب اور احترام کیا جائے اور بیوی کے ساتھ پیار اور محبت والا معاملہ کیا جائے‘ اسی طرح سسرال والے اپنی بہو کو اپنی بیٹی اور بہو اپنے سسرال والوں کو اپنے والدین کا مقام دے تو ہمارے گھر مثالی گھر بن سکتے ہیں۔ اور ہمارے گھروں میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی طرف سے سکینت کا نزول ہو سکتا ہے۔ اس معاشرتی بیگاڑ کو دور کرنے کے لیے معاشرے کے تمام ذمہ داران کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ علما اور اساتذہ پر اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خطبات اور لیکچرز میں ان معاملات کی اہمیت کو اجاگر کریں اور جہاں کہیں بھی افراط و تفریط ہو اس کی نشاندہی کرکے اس کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ طلبہ اور عوام کو بھی علما اور اساتذہ کرام کی نصیحتوں کو توجہ کے ساتھ سننا چاہیے۔ اگر ہمارا معاشرہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو اس معاشرتی بیگاڑ پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved