تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     19-04-2017

لنگڑی جمہوریت اور…!

میرا خیال ایک دفعہ پھر غلط نکلا۔
سوموار کو قومی اسمبلی ویسے خالی تھی جیسے پچھلی دفعہ چھوڑ آیا تھا ۔ اتنا بڑا سانحہ ہوگیا اور قومی اسمبلی کے ہائوس میں تین سو بیالیس ممبران میں سے چھیاسی بھی موجود نہ تھے کہ ہائوس کی کارروائی چل سکتی۔ اگر مخصوص نشستوںپر آنے والی بیگمات ہی ہائوس میں موجود ہوتیں تو بھی اجلاس چل جاتا اور اسے اس لیے ختم نہ کرنا پڑتا کہ ممبران موجود نہیں ہیں۔ 
اس پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لیے نواز شریف نے کتنے جتن نہیں کیے اور آج وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ ان کے اور وزراء کے اس رویہ کے خلاف رضا ربانی تک نے سینیٹ چھوڑنے کی دھمکی دی اور گھرچلے گئے۔ نواز شریف کی بلا سے کوئی جیے یا مرے ان کا پارلیمنٹ میں کیا کام ۔ سینیٹ میں یہ خبر گرم تھی کہ رضاربانی کا استقبال کرنے کے لیے وزیراعظم سینیٹ میں تشریف لائیں گے‘ یہ خبر بھی جلد دم توڑ گئی۔ 
ہمارا خیال تھا شاید وہ سینیٹ نہیں آسکیں گے کیونکہ قومی اسمبلی میں وہ مشال خان کے افسوسناک واقعے پر بات کریں گے اور قوم کو ایک نیا بیانہ دینے کی کوشش کریں گے۔ جتنی بے توقیری پارلیمنٹ کی موجودہ دور میں ہوئی ہے وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی۔ یہ بات وہ سب رپورٹر کہیں گے جو 2002ء کے بعد پارلیمنٹ کو کور کرتے رہے ہیں اور جانتے ہیں جنرل مشرف دور میں بھی اس پارلیمنٹ کی کچھ عزت تھی جہاں نواز شریف کے بچے کھچے چند ارکان قومی اسمبلی دھواں دھار تقریریں جمہوریت کے حق میں کر کے ہمیں رلاتے تھے کہ اگر ان کا جلاوطن لیڈر جدہ سے دوبارہ قومی اسمبلی لوٹ آیا تو پھر دیکھئے گا آسمان بھی ہماری ترقی پر رشک کرے گا ۔ اب وہی پارلیمنٹ نواز شریف کی دید کے لئے ترستی رہتی ہے۔ 
یوسف رضا گیلانی کو کچھ بھی کہہ لیں لیکن تقریباً وہ ہر روز ہائوس میں ملتے تھے۔ وقفہ سوالات میں بھی پائے جاتے تھے اور کبھی کبھار کوئی وزیر سوال کا جواب نہ دے پاتا تو وہ خود جواب دے دیتے۔ ان کے دور میں یہ تجویر بھی آئی تھی کہ برطانوی طرز حکومت پر وزیراعظم ہر اجلاس کے پہلے بدھ کو وقفہ سوالات میں سب سوالات کا جواب دیا کریں گے۔ ابھی پچھلے دنوں اس طرح کی تجویز دوبارہ نواز شریف کے لیے بل کی شکل میں پیش کی گئی وہ بھی برطانوی وزیراعظم کی طرز پر سوالات کے جوابات دیا کریں گے۔ اس پارلیمنٹ کے ارکان نے اس بل کو مسترد کردیا کہ وزیراعظم کو کیوں تکلیف دیتے ہیں ۔ ہم نے سوالات پوچھ کر کیا کرنا ہے۔ یہ بھی اپنی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ پارلیمنٹیرینز فرما رہے ہوں ہمیں یہ طاقت مت دیں کہ ہم وزیراعظم سے ایک گھنٹہ سوال و جواب کر سکیں۔ اسی وجہ سے نواز شریف پارلیمنٹ میں آٹھ آٹھ ماہ تک نہیں آتے۔ سینیٹ میں نواز شریف چار سالوں میں صرف دو دفعہ گئے ہیں وہ بھی جب ایوان بالا میں قوانین تک میں تبدیلی کی گئی کہ پندرہ روز بعد وزیراعظم کو وہاں آنا چاہیے‘ وہ پھر بھی نہیں جاتے۔ 
اب مشال خان کے بھیانک قتل کے بعد بھی اگر ملک کا وزیراعظم پارلیمنٹ نہ جائے، وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نہ جائے، اپنے آپ کو مستقبل کا وزیراعظم کہلوانے کے شوقین عمران خان جس کے صوبے میںیہ واقعہ ہوا ہو وہ بھی پارلیمنٹ میں نہ جائے تو پھر اس پارلیمنٹ کا ہم نے کیا کرنا ہے؟ مشال خان جیسا بڑا واقعہ بھی اگر موجودہ اور مستقبل کے وزیراعظم کو پارلیمنٹ کا رخ کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ وزیراعظم کو خود دو روز بعد خیال آیا کہ اس واقعے کی مذمت کی جائے۔ پہلے وہ بھی انتظار کرتے رہے کہ عوام کا کیا موڈ ہے۔اب عوام کا موڈ بنا ہے تو بھی وہ پارلیمنٹ جا کر بات کرنے کو تیار نہیں ۔ ویسے داد دینی پڑے گی شیریں مزاری کو جنہوں نے ہائوس میں کھڑے ہو کر مطالبہ کیا توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ 
عمران خان ہر اہم موقع پر پارلیمنٹ سے غائب پائے جاتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے عمران خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے یہی پوچھا وہ پارلیمنٹ کو اتنا غیرسنجیدہ کیوں لیتے ہیں؟ کہنے لگے وہاں کرنے کو کچھ نہیں ۔ حکومت جو چاہتی ہے وہ کرالیتی ہے۔ وہ لوگ تقریریں کرتے رہ جاتے ہیں۔ پھر ایسی تقریروں کا پارلیمنٹ میں کیا فائدہ؟ میں نے اپنے تئیں بڑا سیانا بن کرپارلیمانی علم جھاڑنے کی کوشش کی اور کہا ان کے پاس اکثریت نہیں ہے۔ ان کے کہنے پر پارلیمنٹ میں کوئی کام نہیں ہوگا ۔ کوئی بل ان کی مرضی کا پاس نہیں ہوگا کیونکہ وہ اس ملک کے وزیراعظم نہیں ‘ وہ اپوزیشن لیڈر ہیں۔ ان کا کام حکومت کے کاموں میں غلطیاں نکال کر پارلیمنٹ میں سامنے لانا ہے اور میڈیا کا کام آپ کی سامنے لائی ان غلطیوں کو رپورٹ کر کے عوام کے سامنے لا کر حکومت وقت کی ساکھ خراب کرنا ہوتا ہے تاکہ اگلے الیکشن میں لوگ آپ کو ووٹ دیں۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کہ یہ حکومت نااہل ہے جہاں چھیاسی لوگ بھی پارلیمنٹ نہیں آتے اور اجلاس ختم کرنا پڑتا ہے۔ درجنوں سکینڈلز آئے مگر آپ ان پر حکومت کو پارلیمنٹ میںٹف ٹائم نہ دے سکے۔ یہ تو ایسی پارلیمنٹ ہے جس میں وزیراعظم نواز شریف تک نہیں آتے۔
عمران خان بولے یہی تو میرا پوائنٹ ہے۔ میں نے کہا خان صاحب ‘نواز شریف نے عوام کے جذبات کو استعمال کر کے یا بیوقوف بنا کر وزیراعظم کی کرسی لے لی ہے اب ان کی بلا سے پارلیمنٹ میں کوئی آتا ہے یا نہیں۔ اجلاس ہوتا ہے یا نہیں، انہیں کوئی غرض نہیں رہی۔ لندن میں وہ ہر وقت آپ کی طرح باتیں کرتے تھے کہ جنرل مشرف کی پارلیمنٹ بے وقعت ہے، اس کی کیا اوقات ہے، جو جنرل مشرف چاہتا ہے وہ پارلیمنٹ سے پاس کرالیتا ہے۔ وہ لوگوں کو یہی تاثر دیتے رہے اگر وہ پارلیمنٹ میں ہوتے تو اس کی حالت بدل کر رکھ دیتے۔ وہ پاکستان کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر لے جاتے۔ لوگوں نے اعتبار کیا۔ اب دیکھ لیں نواز شریف پارلیمنٹ کا رخ نہیں کرتے۔ جو کام انہوں نے پارلیمنٹ سے لینا تھا وہ لے لیا‘ اب کاہے کی فکر۔ میں نے کہا خان صاحب فکر تو آپ کو کرنی چاہیے۔ آپ پارلیمنٹ کوسنجیدہ لیں تاکہ لوگ سمجھیں کہ انہوں نے نواز شریف کو وزیراعظم بنا کر غلطی کی جن کے لیے مشال خان جیسے قتل پر پارلیمنٹ میں کچھ کہنے کے لیے بھی ان کے پاس وقت نہیں ہے، لہٰذا عمران خان ٹھیک رہے گا جو پارلیمنٹ میں ان کی بات تو کرتا ہے، جو ہر وقت وہاں پایا جاتا ہے اور حکومت کی خامیوں کو ہمارے سامنے لاتا ہے اور ہمارے حقوق کے لیے لڑ رہا ہے۔
میں نے کہا خان صاحب آپ جتنا وقت ٹی وی پر دے رہے ہیں اب اس کا الٹا آپ کو نقصان ہورہا ہے۔ روزانہ آپ دو تین ٹی وی انٹرویوز دے رہے ہیں۔ اب آپ کی ریٹنگ وہ نہیں رہی کیونکہ آپ بار بار اپنی باتیںدہرا رہے ہیں ۔ آپ کو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر دوسروں کی باتیں بھی سننی چاہئیں اس طرح آپ کے پاس بھی بات کرنے کے نئے موضوعات ہوں گے۔ وقفہ سوالات میں بیٹھیں گے تو حکومت کی گورننس کا کچھ پتہ چلے گا ‘ کچھ بحث ہوگی‘ کچھ آپ سنائیں گے، کچھ وہ آپ کو سنائیں گے، آپ ویسے ہی خبروں میں رہیں گے۔ اب آپ کو ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے اپنی خبر بنانی پڑتی ہے‘ پھر پارلیمنٹ سے یہ سب ٹی وی آپ کی خبر بنائیں گے۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے‘ عمران خان کہنے لگے سرکاری بنچوں سے اکثر بات کی بجائے گالیاں دی جاتی ہیں۔ تو میں نے کہا پھر تو وہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہے ہیں گالی دے کر مخالف کو بھگا دو۔ 
کافی دیر بعد سوچ کر بولے چلیں اب کی دفعہ پارلیمنٹ ضرور جائوں گا ۔ 
اب کی دفعہ میں مشال خان کے واقعے پر پارلیمنٹ کا ردعمل دیکھنے گیا۔اور ایک دفعہ پھر سب غائب...نواز شریف غائب...عمران خان بھی غائب۔
ایک موقع پیدا ہوا تھا۔ پوری قوم کو احساس ہوا مذہبی جنونیت خطرناک سطح پر پہنچ چکی تھی اور تدارک ضروری تھا ۔ کچھ کرنے کا سوچا جائے گا ۔ کسی ماں کے بے گناہ بچے کے قتل کی مذمتی قرارداد لائی جائے گی۔ مگرمچھ کے ہی سہی لیکن آنسو بہائے جائیں گے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے گا ۔ یونیورسٹیوں میں پھیلتے تشدد پسند مائنڈ سیٹ پر بات کی جائے گی۔ سب سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔کہ اس جن کو کیسے قابو کیا جائے۔ ایک دوسرے کو تعاون کی پیشکش کی جائے گی ۔ لیکن سب غائب ۔!
نواز شریف ایک دن آتے ہیں اور پھر مہینوں غائب... شاید منہ دکھائی کے لیے اجلاس میں آج یا کل آجائیں اور پھر وہی لمبی جدائی۔ اور پارلیمنٹ سے سیدھے ایئرپورٹ اور بیرون ملک نیا دورہ شروع ۔ یہ حالت ہے اس معذور پارلیمنٹ اور لنگڑی جمہوریت کی ۔ جہاں ایک سیاستدان لندن سے پارلیمنٹ میں صرف وزیراعظم بننے آیا تھا اور دوسرا یہ سوچ کر بنی گالہ بیٹھا ہوا ہے کہ وہ اس دن پارلیمنٹ جائے گا جس دن اس نے وہاں سے وزیراعظم کا ووٹ لینا ہوگا ۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved