تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-04-2017

سرخیاں ان کی‘ متن ہمارے

جے آئی ٹی میں بے گناہی ثابت کروں گا۔نواز شریف
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''جے آئی ٹی میں بے گناہی ثابت کروں گا ‘‘کیونکہ جے آئی ٹی میں بیٹھے اہل کار زیادہ وضع دار ہوں گے۔ جو ماشاء اللہ پہلے بھی مجھے بے گناہ ہی سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ فیصلے کے بعد جتنی مٹھائیاں تقسیم کی گئی ہیں اور جتنی آتش بازی کی گئی ہے‘ اس کا کیا مطلب ہے ‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''اللہ تعالیٰ نے سُرخرو کیا‘‘ اور‘ اب تو صرف رسمی کارروائی ہی باقی رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''فیصلے کا احترام ہے ‘‘ اور ‘ اُمید ہے کہ آخری فیصلے کا احترام کرنے کا بھی موقع ملے گا اور ایک بار پھر مٹھائی کھانے کا موقع بھی۔ اگر کچھ لوگ مجھے فکر مند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن میں فکر مندی سے اپنی صحت خراب کرنے کا قائل نہیں ہوں اور یہ اچھا ہوا ہے کہ بنچ توڑ دیا گیا ہے اور اب نیا بنچ بنے گا جس میں وہ دو جج صاحبان شامل نہیں ہوں گے جو کیس کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکے تھے۔ آپ اگلے روز فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ''میں اہلکاروں کے سامنے پیش ہونے سے نہیں گھبراتا ‘‘جو پہلے مجھے سلیوٹ ماریں گے اور اس کے بعد نہایت مؤدبانہ طریقے سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کریں گے اور ساتھ ساتھ معذرت اور اپنی مجبوری بھی ظاہر کرتے جائیں گے اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ ان سب کی ترقی بھی Dueہو گی جو اس کے بعد فوری طور پر کر دی جائے گی کیونکہ ہم کسی حقدار کا حق مارتے نہیں بلکہ فوری طور پر ادا کرتے ہیں چنانچہ ہمارے تمام کے تمام نچلے افسر اور اہل کار مستحقین میں شامل ہیں بلکہ وہ اگر چاہیں گے تو ان کے ساتھ کھڑا ہو کر تصویریں بھی بنوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کیونکہ اس موقع کو ہر طرح سے یاد گار بنایا جائے گا اور آپ بھی جانتے ہیں کہ ایسے موقع زندگی میں بار بار نہیں آتے۔
نواز شریف صادق اور امین نہیں 
رہے‘ تحقیقات تک استعفا دیں۔ عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خاں نے کہا ہے کہ ''نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے تحقیقات تک استعفا دیں‘‘ لیکن اس کی امید کم ہی ہے کیونکہ دھرنے کے دوران بھی میں نے استعفے کے لیے بہت زور مارا تھا اور امپائر کی انگلی کا بھی ڈراوا دیا تھا لیکن ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ''ن لیگ والے کس حیز کی مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں‘‘ اگرچہ یہ سوال ہم سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ ہم کس چیز کی مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں‘ مجھے تو مٹھائی کھائے ویسے بھی کافی عرصہ ہو گیا تھا یعنی اپنے نکاح پر ایک چھوہارہ ہی کھایا تھا‘ اس کے بعد میٹھے کا منہ ہی دیکھنا نصیب نہیں ہوا اور اس کے بعد بھی شاید چھوہارہ کھا کر ہی منہ میٹھا کرنا پڑے گا‘ اور ایسا لگتا ہے کہ میں منہ میٹھا کرنے کے ہی لیے شادی کرتا ہوں۔ آپ اگلے روز پانامہ کیس کے فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔
وزیر اعظم نااہل ہو چکے ہیں‘ اخلاقی طور 
پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ زرداری
سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''وزیر اعظم نا اہل ہو چکے ہیں ٗاخلاقی طور پر انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے‘‘ اگرچہ یہ بہت عجیب سی بات ہے کہ اخلاقیات کا درس انہیں ہم دے رہے ہیں‘ تاہم اچھا سبق کہیں سے بھی ملے پلّے باندھ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران خان ناتجربہ کار سیاستدان ہیں‘ جس نے نواز شریف کو فائدہ پہنچایا‘‘ اگرچہ ہم بھی موصوف کو بڑھ چڑھ کر فائدہ پہنچاتے رہے ہیں لیکن ہم تو میثاق جمہوریت کی وجہ سے مجبور ہیں‘ عمران خاں کو ایسی کیا مجبوری ہے انہوں نے کہا کہ ''مٹھائیاں تقسیم کرتے شرم آنی چاہیے‘‘ اگرچہ ڈاکٹر عاصم حسین بھی نواز شریف ہی کے پائے کے آدمی ہیں لیکن ان کے ضمانت پر رہا ہونے پر ہم نے مٹھائیاں تقسیم نہیں کیں حالانکہ انہوں نے پیشکش کی تھی کہ پانچ دس کروڑ لے لیں اور ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم کرا دیں لیکن وہ پیسے ہم نے کسی اور موقع کے لیے رکھ چھوڑے ہیں۔ آپ اگلے روز اسلام آبادمیں فیصلے پر تبصرہ کر رہے تھے۔
عدالت نے نواز شریف کی دیانتداری پر مہر
تصدیق ثبت کر دی۔آصف کرمانی
وزیر اعظم کے سیاسی امور کے مشیر سید آصف کرمانی نے کہا ہے کہ ''عدالت نے وزیر اعظم کی دیانتداری پر مہر تصدیق ثبت کر دی‘‘ اور جے آئی ٹی میں ان کی دیانت پر باقی مہریں بھی ثبت ہو جائیں گی کیونکہ صاحب موصوف کو ہر چیز تھوک کے حساب سے ہی مطلوب ہوتی ہے وہ کھانا ہو یا ''کچھ اور‘‘وہ امریکہ کی طرح ''ہل من مزید ‘‘ ہی کہتے رہتے ہیں۔ نیز اس سے بڑی سعادت کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کے حوالے گاڈ فادر جیسے بڑے ناول سے اقتباسات پیش کئے گئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں آج تک کسی بھی سیٹھ کے بارے میں ایسی مثال نہیں دی گئی جس سے ان کا بین الاقوامی سطح کے لیڈر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ عظیم ناول لکھا ہی نواز شریف کے حوالے سے گیا تھا اور اپوزیشن اگر اب بھی نواز شریف کی عظمت کو تسلیم نہیں کرتی تو یہ اس نالائقی ہے۔ آپ اگلے روز پانامہ لیکس کے عارضی فیصلے پر تبصرہ کر رہے تھے۔
آج کا مقطع
اب اس کی سوچ کے ساحل سے آ لگا ہوں ظفرؔ
کہ ایک عمر رہا ہوں بھنور کی صُحبت میں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved