تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     29-04-2017

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور پاکستان میں برداشت کے رویّے

مقبوضہ کشمیر میں جبر اور تشدد کوئی نئی بات نہیں۔ یہ سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے۔ کشمیری بھارتی تسلط سے تنگ آ چکے ہیں، اور بھارتی فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے کشمیری عوام کے جذبۂ حریت کو کچلنے کے لیے تشدد سے لے کر ہلاکتوں تک، ہر وحشیانہ طریقہ اختیار کرکے دیکھ لیا ہے۔ تاہم آج کل جس پیمانے پر وحشت و بربریت کا کھیل جاری ہے، اس نے سابق سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک کشمیریوں کے مصائب سے بڑی حد تک بیگانہ رہنے کے بعد اب اچانک دنیا کی آنکھیں کھل گئی ہیں‘ یا شاید یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بھارتی سفاکیت کے سامنے کشمیری مزاحمت، اور کشمیر کے زمینی حقائق کے بارے میں دنیا کو کسی حد تک آگاہ کرنے کی سوشل میڈیا کی صلاحیت اب کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کر رہی ہے۔
چند دن پہلے نیویارک ٹائمز کے پہلے صفحے پر مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کے بارے میں ایک کشمیری لکھاری کا مضمون شائع ہوا تھا۔ کچھ دیگر نیوز ایجنسیوں نے بھی کشمیرکے بارے میں بہت عمدہ رپورٹنگ پر مبنی کہانیاں شائع کی ہیں۔ پہلے ایسا کم کم ہوتا تھا‘ لیکن سوشل میڈیا کی بدولت جو تصاویر اور امیج دنیا کی نظروں سے اوجھل رہتے تھے، اب آسانی سے دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ اب ناظرین کی ایک بڑی تعداد اُنہیں دیکھ سکتی ہے۔ اس میں حیرت کی بات نہیں کہ بھارتی حکام سوشل میڈیا، جیسا کہ فیس بک، کو بلاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایسا کب تک ہو گا؟ 
کشمیر میں دلچسپی لینے والے تین فریق ہیں۔ ایک تو خود کشمیری، دوسرا بھارت ہے جس کا وہاں تسلط ہے اور جو کشمیری بے چینی کو آہنی ہاتھوں سے کچل دینے کی پالیسی پرگامزن ہے ، اور تیسرا فریق تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی قربت رکھنے والا پاکستان ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے آنے والی چشم کشا کہانیاں بیرونی ہاتھوں سے تحریر کی جا رہی ہیں۔ انسانی ڈھال کے طور پر جیپ سے بندھے ایک کشمیری نوجوان کی تصویر سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ مجھے ذاتی طور پر یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ ایسے واقعات پر پاکستان میں جو اشتعال پیدا ہونا چاہیے، وہ دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم کچھ جذبات کا اظہار کرتے ہیں، فارن آفس کی طرف سے ایک آدھ بیان آ جاتا ہے۔ بس اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ 
ہمارے غم و غصے کو بھی حقیقی ہونا چاہیے کیونکہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کوئی فسانہ طرازی نہیں، لیکن ہمارے رہنما مہر بلب، جبکہ وزیرِ اعظم اور اُن کی پارٹی‘ دونوں پاناما کیس کی مشکلات میں الجھے ہوئے ہیں۔ جہاں تک ہماری مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے تو وہ اُخروی نجات اور فرضی یا حقیقی توہین کے واقعات پر نعرہ زن رہتی ہیں‘ لیکن آپ کو شاید ہی کوئی عالمِ دین ملا ہو‘ جو کشمیریوں کی ابتلا کا درد محسوس کرتا ہو۔ جب گفتار کے غازی جذبات کے گھوڑوں پر سوار ہوں تو کشمیر کے بارے میں فصاحت کے دریا بہا دیتے ہیں کہ یہ تقسیمِ ہند کا ادھورا باب ہے، یا کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ ایسا نہیں کہ ہم جنگ کے ترانے بجائیں یا جنگ کی طرف قدم رکھیں، ایسا ہرگز نہیں۔ لیکن یہاں ہمارے سامنے ایک حقیقی صورتِ حال ہے، جو پاکستانی پروپیگنڈے یا آئی ایس آئی کی پلاننگ کا نتیجہ نہیں۔ یہ صورتِ حال بھارتی جبر اور اس کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کے حیران کر دینے والے حوصلے کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک انقلابی تحریک ہے، اور پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ بے معانی شور شرابا اپنی جگہ پر لیکن ہم اس سے تعجب خیز، بلکہ افسوسناک طریقے سے لاتعلق ہیں۔
ہمارے ہونٹ حرکت کرتے ہوں گے، لیکن کیا ہمارے دل بھی کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں؟ کیا ہم قومی سطح پر، یا سیاسی قیادت کی سطح پر کشمیریوں کا دکھ محسوس کرتے ہیں؟ اگر کسی پر توہین کا الزام لگا دیا جائے، فرض کریں کسی تعلیمی ادارے میں، کسی گائوں یا کسی محلے میں تو پھر ہمارے جذبات کے منہ زور سیلاب کے سامنے عقل و استدلال خس و خاشاک کی طرح بہہ نکلتے ہیں۔ دوسری طرف کشمیری نوجوان، عورتیں اور بچے بھارتی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، اُن پر ایسا ایسا ظلم ڈھایا جا رہا ہے جس کا اپنے مقبوضہ علاقوں میں ارتکاب کرنے سے اسرائیلی بھی ہچکچاتے ہیں، لیکن ہمارے رہنما خاموش، ''جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ‘‘، اور ہمارے مذہبی رہنمائوں کا دیگر مبہم معاملات پر شعلہ بار جوش برف کی طرح سرد۔ 
بے معانی نعروںکی بجائے ہمیں کشمیری عوام کے ساتھ حقیقی اظہار یک جہتی دکھانی چاہیے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے کشمیری عوام کا درد تو اپنے دل میں محسوس کریں۔ اس کے بعد ہی ہمارے الفاظ میں وزن پیدا ہو سکتا ہے، اور جب ہم بھارتی فوج اور دیگر ایجنسیوںکے ڈھائے جانے والے مظالم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائیں گے تو ہماری بات میں وزن ہو گا۔ جو بات دل سے نکلتی ہے، وہی اثر رکھتی ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ مسئلہ کیا ہے، یا کم از کم اس کا جزوی علم ضرور رکھتے ہیں۔ بدعنوانی کے الزامات کی دلدل میں دھنسا ایک وزیرِ اعظم کس طرح غیر ملکی رہنمائوں کے سامنے کشمیر یا کسی دوسرے ایشو پر بات کر سکتا ہے؟ اُس کے دل میں دیگر مسائل جاگزیں ہیں، اُس کے ذہن پر دوسری سوچوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ اچھا ہوتا اگر عمران خان آگے بڑھ کر یہ ذمہ داری اٹھاتے۔ بہت اچھا ہوتا اگر وہ خالصتاً کشمیر میں بھارتی مظالم کے حوالے سے ایک ریلی نکالتے۔ اس سے وہ یہ بھی اجاگر کر سکتے تھے کہ بدعنوانی کے الزامات میں گھری ہوئی قومی قیادت دنیا کے سامنے کشمیر کا کیس پیش کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جب دنیا کشمیر کے بارے میں زیادہ جاننے لگی ہے، اپنے تمام تر جذباتی نعروں اور ہمدردی کے دعووں کے باوجود پاکستان اس سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ 
اس دوران ہمیں ایک وسیع تر معاملے کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب پاکستان اقلیتوں کے لیے عدم برداشت رکھتے ہوئے ایک غیر محفوظ ملک دکھائی دے، جب کسی لاچار مسیحی مرد یا عورت پر توہین کا جھوٹا کیس بنا دیا جائے، جب ایک مسیحی جوڑے کو توہین کے بے بنیاد الزام میں آگ میں زندہ جلا دیا جائے، جب ایک امن پسند احمدی کو محض اُس کے عقیدے کی بنیاد پر گولی مار دی جائے، جب مشال خان جیسے طالبِ علم کو طلبہ کا جنونی ہجوم تشدد کرکے ہلاک کر دے تو پھر اس جنونیت کے ہاتھوں اس کا شکار بننے والے افراد کو ہی نقصان نہیں پہنچتا، پاکستان کا امیج بھی مسخ ہوتا ہے اور اُس کی آواز اور قد کاٹھ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تو چلیں اپنے لیے نہ سہی، اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے لیے ہی ہمیں اپنے وطن سے خوف، مذہبی عصبیت اور جنونیت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے۔ اس توجہ کا ارتکاز مشال خان یا توہین کے بے بنیاد کیسز سے برہم نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان کی عالمی ساکھ کو زک پہنچانے یا اس کے امیج کو مسخ کرنے والی ہر چیز، انتہاپسندی، تنگ نظری اور عدم برداشت یا نفرت کا پرچار کرنے والا بلاگ یا فیس بُک پیغام اور غیر معقول رویّے نہ صرف پاکستان کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اسے کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتے۔ 
ہمیں اس بات کا احساس کب ہو گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved