تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     04-05-2017

ماں بولی دی ویل

مطالبہ
مصطفے آباد (للیانی) میں منعقد ہونے والے سالانہ بیساکھی میلے میں شامل شاعروں‘ ادیبوں نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مردم شماری کے خانہ￿ مادری زبان میں پنجابی کو اپنی مادری زبان قرار دیں‘ یہ میلہ پنجابی کھوج گڑھ کے زیراہتمام منایا جاتا ہے جس کا سنگ بنیاد شاعر اقبال قیصر نے رکھا تھا جن کا تعلق للیانی سے تھا۔ اس میلے میں پنجابی گانوں‘ شاعری اور بھنگڑے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میلے میں شوکت علی‘ ڈاکٹر صغریٰ صدف‘ خاقان حیدر عباسی‘ ناصر بیراج‘ منیر مان‘ قدیر خان‘ عدیل برقی‘ سیما اختر اور بابا نجمی نے شرکت کی۔ شرکاء نے حکومت سے پنجابی زبان کی یہ کہتے ہوئے ترویج کا مطالبہ کیا کہ پنجابی ایک وسیع زبان ہے جو تمام ہم عصر علوم کو اپنے دامن میں جگہ دے سکتی ہے اور یہ کہ پنجابی کو تعلیمی اداروں کی ہر سطح پر ایک لازمی مضمون قرار دیا جائے۔
علاقائی زبانوں کی دو روزہ کانفرنس
اگلے روز اسلام آباد میں علاقائی زبانوں کے لیے منعقدہ دو روزہ کانفرنس کا انعقاد ہوا جس کا اہتمام علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے کیا تھا جس میں حکومت سے اس ضمن میں متعدد مطالبات پیش کئے گئے۔ اظہار خیال کرنے والوں میں افتخار عارف‘ پروفیسر فتح محمد ملک‘ ساجد میر‘ خورشید ندیم‘ حارث خلیق اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی شامل تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اعلان کیا کہ ان کا ادارہ بہت جلد پاکستانی زبانوں پر یک تحقیقی جریدہ شائع کرے گی جو پنجابی ادب کو بھی محیط ہو گا‘ جس میں محققین اپنی اپنی زبان میں اظہار خیال کیا کریں گے جس سے تحقیقی ثقافت کی ترویج ہو گی۔ اس کے علاوہ اگلے روز تنظیم پنجابی پرہیا کی طرف سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ ہر تعلیمی سطح پر پنجابی زبان کو ایک مضمون کے طور پر شامل کیا جائے۔ یاد رہے کہ ممتاز پنجابی ادیب اور دانشور‘ ورلڈ پنجابی کانفرنس کے مدار المہام فخر زمان نے ایک ایسی ہی کانفرنس میں چند سال پیشتر تمام علاقائی زبانوں کو قومی زبانیں قرار دیا تھا‘ یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ کچھ عرصہ پہلے پالاک کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغریٰ صدف نے اپنے ادارے کے زیراہتمام جشن بہاراںکے سلسلے میں ایک بہت بڑے مشاعرے کا اہتمام کیا تھا جس میں ہر علاقائی زبان کے شعراء نے شرکت کی تھی۔
رسالہ ''پیلوں‘‘
ملتان سے ڈاکٹر انوار احمد نکالتے ہیں جو اُردو‘ پنجابی اور سرائیکی زبان پر مشتمل ہے۔ مضامین پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد اور سعید شیخ کے قلم سے ہیں جبکہ ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے لیے گوشہ مخصوص کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری پر رشید امجد کا مضمون ہے اور ان کی دو نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ گوشۂ اعجاز میں بھی ایک مضمون ہے اور تین نظمیں شاعری کے شعبے میں افضل احسن رندھاوا نے افریقی نظموں کا ترجمہ کیا ہے‘ ایزد عزیز کی نظم اور خالد شبیر احمد کی غزل‘ سرائیکی حصے میں احمد خاں طارق کے لیے خصوصی گوشہ ہے جس میں مضامین ہیں اور منتخب کلام اور اب افضل احسن کی ترجمہ شدہ ایک نظم۔ یہ فیمی فاٹو بار (نائیجیریا) کی تخلیق ہے۔
ہتھ دی پُرانی کھڈی
(اِک ہور بال دی موت مگروں)
میری ماں دے لیڑے
(اوہدا دل نہیں)
درد دے نال پھٹے نیں
اوہدیاں اُڈدیا ںٹاکیاں
موت دے مشاناں وچ رجُھیاں نیں
کُجھ ٹاکیاں خُشی نوں دفن کرن لئی
کُجھ ٹاکیاں‘ ہاسیاں دے اتھُرو پونجھن لئی
وچھوڑیاں دے شگن
یہ شکیل احمد طاہری کے کلام کا مجموعہ ہے جو کوئی ساڑھے چھ سو صفحات پر مشتمل ہے‘ اسے سانجھ لاہور نے شائع کر کے قیمت 1100 روپے رکھی ہے۔ یہ نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نظمیں مختصر ہیں۔ ان کی ایک نظم دیکھیں۔
گورکن دی فکر
ایس طراں تے شہر دے اندر
سارے لوکی مر جاون گے
کم جیہڑے نیں ہوون والے
ہون تو پہلوں کر جاون گے
سوچناں واں اُس ویلے کیہڑا
میری خبر سُناوے گا
قبراں وچوں اُٹھ کے کیہڑا
میری قبر بناوے گا
اب ان کی غزلوں میں سے چند شعر :؎
اوہدے در تے شام سویرا اُنجے ای
اوس گلی توں باہر نہیرا اُنجے ای
ایناں وی کوئی دور تے نیئں یار شکیل
اوہ رستا اِس رستے نال لگدا اے
ایدھر تے کوئی شے نیئں دسدیِ یار شکیل
اوس طرف نوں چلیے کشُ تے ہو وے گا
بولیاں دل دا کنُڈا کھلدانئیں شکیل
اکھراں دی دیوار‘ ہٹائونی پیندی اے
اس کتاب میں شاعر کے یہ چار مجموعے شامل ہیں۔
سفر دے دُشمن
مٹی رنگے خواب
لیکھے پھُل بھلیکھے‘ اور
منظر نال دیاں سوچاں
اج دا مطلع
واء کِدّھر دی وگیّ
کوئی پتا نہ لگیّ

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved