تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     22-05-2017

ٹوٹے

الوداع؟
ہمارے ایک سینئر اور نہایت ہی پیارے کالم نگار نے پاناما کیس کو یہ کہتے ہوئے الوداع کہہ دیا ہے کہ اس کا ڈنک نکل چکا ہے۔ مزید یہ کہ جے آئی ٹی کے اکثر ارکان نوازشریف کے ماتحت ہیں اور ان کی اکثریت کی وجہ سے فوجی ارکان اپنی بات نہیں منوا سکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سوال صرف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا اعلان ہے کہ یہ فیصلہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا اور اگر الزام علیہان نے ایسے ہی چھوٹ جانا ہے تو یہ فیصلہ یادگار کیسے ہو گا۔ اس ٹیم کی یہ شکایت بھی منظرعام پر آئی ہے کہ انہیں بعض اداروں کی طرف سے معلومات فراہم کرنے میں بہت تاخیر کی جا رہی ہے اور وہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے مسلسل یہ کہنا کہ کرپشن ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور ایک سرطان کی طرح پھیلی ہوئی ہے‘ اس کے بعد بھی اگر الزام علیہان صاف بری ہو جاتے ہیں تو یہ اس لحاظ سے بھی ایک یادگار فیصلہ ہو گا اور اسے صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ نیز نوازشریف اگر یہاں سے بھی بچ نکلتے ہیں تو اُن کے شیر ہونے میں کیا شک رہ جائے گا؟
غیر سیاسی...؟
کل بھوشن کے معاملہ پر پریس میں اتنا کچھ آ چکا ہے کہ اسے دہرانا محض وقت کا ضیاع ہے۔ اس میں لُطف کی بات یہ ہے کہ جو کچھ اور جس طرح سے ہونے جا رہا ہے اس پر عوام مکمل طور پر خاموش ہیں اور ان کا خاموش رہنا سمجھ میں آتا ہے اور وہ اس لیے کہ حکومت نے اپنے ساتھ ساتھ عوام کو بھی غیر سیاسی کر دیا ہے‘ یہاں تک کہ اس سے بھی بڑے معاملات پر عوام سڑکوں پر نہیں نکلتے‘ حتیٰ کہ وہ اپنے آلام و مصائب کے خلاف بھی باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے سیاستدان یعنی وہ جو بار بار اقتدار میں آتے ہیں‘ سیاست سے ان کا تعلق اتنا ہی ہے کہ اقتدار وہ صرف اور صرف مال بنانے کے لیے حاصل کرتے ہیں اور پھر سارا زور اسے قائم رکھنے پر لگا دیتے ہیں‘ اس لیے ہم مکمل طور پر ایک بے حس قوم کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور ایسی قوموں کا جو حشر ہوا کرتا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لیے سائنس دان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
درد سر!
کلبھوشن کو دہشت گردی وغیرہ کے جُرم میں فوج نے ٹرائی بھی کیا اور سزا بھی دی‘ حتیٰ کہ عالمی عدالت میں اس کا مقدمہ لڑنے کے لیے وکیل بھی فوج ہی نے مہیا کیا جس پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ سراسر فوج ہی کا درد سر ہے‘ حکومت کا نہیں۔ اس حوالے سے جو حکومتی روّیہ ہے‘ وہ صاف ظاہر ہے اور اسے اس نے چھپانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی بلکہ لگتا یہی ہے کہ وہ خم ٹھونک کر اس معاملے میں مقابل آ گئی ہے اگرچہ وہ ایسا ظاہر نہیں ہونے دے رہی اور اس کی جو مجبوریاں ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ یہ ملکی سلامتی کا مسئلہ ہے اس لیے جو کچھ کرنا ہے فوج ہی نے کرنا ہے۔ حکومت نے تو جو کرنا تھا کر دیا‘ تاہم اس سلسلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت پُوری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے!
ایک امکان
آصف علی زرداری جو اگلے الیکشن کے نتائج کے حوالے سے بڑھ چڑھ کر بیان دے رہے ہیں تو شاید اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو ان کی ضرورت بہرحال پڑے گی۔ اس بات میں تو کوئی شک و شبہ ہے ہی نہیں کہ ہمارے ہاں الیکشن وہی پارٹی جیتتی ہے جسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہو۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دوسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی ہی ہے۔ اگر پاناما کا فیصلہ حکومت کے خلاف آتا ہے تو اس پارٹی کے لیے مزید آسانی پیدا ہو جائے گی جبکہ حکومت نے اس ادارے کو خاصی حد تک اپنے خلاف کر لیا ہے اور جو معاملات حال ہی میں کھل کر سامنے آئے ہیں اُن کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عمران خان کی پارٹی ابھی اتنی بالغ نہیں ہوئی کہ اس پر اعتبار کیا جا سکے‘ اس لیے آصف علی زرداری کی باتوں اور دعووں کو ہوا میں نہیں اُڑایا جا سکتا۔
کارگزاری
نواز لیگ والوں کا زور اس بات پر ہے کہ اگلے الیکشن میں ووٹ کارکردگی ہی کی بنیاد پر ملیں گے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ حکومت نے اگر اس حوالے سے بے انتہا پبلسٹی کر ڈالی ہے تو اس کا اثر بھی بہرحال ہوا ہے۔ حکمرانوں نے اگر مال بنایا ہے تو کام بھی کیا ہے جو نظر بھی آ رہا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی بھی اپنی کارکردگی کی چند مثالیں پیش کر سکتی ہے جبکہ تحریک انصاف اپنے صوبے میں وہ کچھ نہیں کر سکی، جس کے اس نے دعوے کئے تھے اور جو کچھ وہ کر سکتی تھی اور جہاں تک کرپشن کے خلاف نعرے کا تعلق ہے تو عامتہ الناس اس پر کوئی خاص توجہ دینے کو تیار نظر نہیں آتے کیونکہ یہ ایک روٹین معاملے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے بلکہ ہمارے ہاں یہ ایک طرز حیات بن چکی ہے‘ حکومت اگر کھاتی ہے تو کچھ اور لوگوں کو کھلاتی بھی ہے اور اسی بہانے اس نے کچھ کر کے بھی دکھایا ہے۔ اس لیے لگتا یہی ہے کہ مقابلہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی ہی کے درمیان ہو گا۔
آج کا مقطع
وہ ابر اب بھی گرجتا ہے میرے سر میں‘ ظفر
لہو میں اب بھی وہ بجلی کہیں چمکتی ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved