تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     22-05-2017

تکوین وتشریع

یہ کائنات اللہ تعالیٰ کے تکوینی امر سے پیدا ہوئی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے(1): ''(اللہ) زمینوں اور آسمانوں کو ابتداء ً پیدا فرمانے والا ہے اور جب وہ کسی چیزکا فیصلہ کرتا ہے،تو وہ اُس کے لیے صرف یہ فرماتا ہے:''ہوجا‘‘، تو وہ چیز ہوجاتی ہے (یعنی وجود میں آجاتی ہے) ، (البقرہ:117)‘‘۔(2)''اُس کی شان توبس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرلے تو اُس سے فرماتا ہے:''ہوجا‘‘، تو وہ (فوراً) ہوجاتی ہے،(یس:82)‘‘۔اس آیت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حکم جاری کرنا ہوتا ہے ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جونہی وہ کسی چیز کے وجودمیں لانے کا ارادہ فرماتا ہے ،تو وہ فوراً موجود ہوجاتی ہے،یعنی '' أَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ‘‘سے مراد اُس کے ارادے کی تعبیر یا اظہار ہے ۔ الغرض اس کائنات میں تمام چیزیں جو عقل اور ارادے کی مالک نہیں ہیں، وہ اضطراری یا اجباری طور پریعنی طوعاً وکرھاً(خواستہ وناخواستہ) قانونِ قدرت کی تعمیل کر رہی ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے(3): ''پھر اُس نے آسمان کی طرف قصد فرمایا اور وہ اُس وقت دھواں تھا ، پھر اُس نے آسمان اور زمین سے فرمایا: تم دونوں حاضر ہوجائو ،خواہ خوشی سے یا ناخوشی سے ،دونوں نے کہا: ہم دونوں بخوشی حاضر ہیں ،تو اُس نے دو دن میں اُن کو پورے سات آسمان بنادیا اور ہر آسمان میں اُسی کے متعلق احکام بھیجے اور ہم نے آسمانِ دنیا کوچراغوں سے مزیّن فرمادیا اور حفاظت کے لیے یہ بے حد علم والے (خَلّاقِ عالَم کا)مقرر کیا ہوا نظام ہے ،(حم السجدہ:11-12)‘‘ اسی طرح فرمایا(4): ''سورج اور چاند ایک حساب کے مطابق (رواں دواں )ہیںاور( زمین پر پھیلا ہوا )سبزہ اور درخت سجدہ ریز ہیں ،(الرحمن:13-14)‘‘۔ (5):''اور سورج اپنی مقررہ منزل تک چلتا رہتا ہے ،یہ بہت غالب بے حد علم والے کا بنایا ہوا نظام ہے اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کی ہیں یہاں تک کہ( مہینے کے آخر میں ) لوٹ کر وہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہوجاتا ہے ،سورج کی مجال نہیں کہ وہ (چلتے چلتے) چاند کو جا پہنچے اور نہ ہی رات دن پر سبقت کرنے والی ہے اور ہر ایک (سیّارہ) اپنے مدار میں تیر رہا ہے ، (یٰس:38-40)‘‘۔
حدیث پاک میں ہے:نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی کویہ دعا تعلیم فرمائی :''جب تم صبح کرو تو یہ دعا کرو:''سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہ مَا شَاء َ اللّٰہُ، کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُن‘‘،کیونکہ جو شخص صبح کے وقت یہ دعا کرے گا،وہ شام تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا اورجوشام کے وقت یہ دعاکرے گا،وہ صبح تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا،(ابودائود:5075)‘‘۔اس دعا کا ترجمہ یہ ہے:''اللہ کی ذات ہر عیب اورنَقص سے پاک ہے ،ہر قسم کی تعریف کا (حقیقی) حق دار وہی ہے ،کسی کو (خیر کی )کوئی طاقت نہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق وعطا سے ،وہ جو چاہے ہوجاتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ،(کبھی) نہیں ہوسکتا‘‘۔
نظامِ بادوباراں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(1): ''کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ بادلوں کو چلاتا ہے ،پھر اُن کو (آپس میں)جوڑ دیتا ہے ،پھر اُن کو تہ بہ تہ کردیتا ہے، پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اُن کے درمیان سے بارش ہوتی ہے اوروہ آسمان سے (برف کے ) پہاڑوں سے اولے نازل کرتا ہے ،پھر وہ جس پر چاہتا ہے اولے برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اُن کو پھیر دیتا ہے ، قریب ہے کہ بجلی کی چمک آنکھوں کو بینائی کو سلب کرلے ،اللہ دن اور رات کوادل بدل فرماتا رہتا ہے ،بے شک اس میں غور کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے،(النور:43-44)‘‘۔اور فرمایا(2):''اور وہی ہے کہ اپنی (بارانِ) رحمت سے پہلے خوشخبری دیتی ہوئی ہوائیں بھیجتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ (ہوائیں )بھاری بادل کو اٹھا لاتی ہیں ،تو ہم اُس بادل کو کسی غیر آباد زمین کی طرف چلاتے ہیں، پھرہم اُس سے پانی برساتے ہیں، پھر ہم اُس سے ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں ، اسی طرح ہم (قیامت کے دن) مُردوں کو(قبروں سے) نکالیں گے شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو،(الاعراف:57)‘‘۔
الغرض پوری کائنات کا نظام اللہ تعالیٰ کے تکوینی امر کے تابع چل رہا ہے ،اس میں اِن مظاہرِ کائنات کا اپنا کوئی دخل نہیں ہے کہ (معاذ اللہ!) چاہیں تو حکم کو مان لیں اور چاہیں تو رد کردیں ،اسی اِجباری اطاعت کو طوعاً وکرھاً سے تعبیر کیا گیا ہے ۔خود انسان کی ذات اپنے مادّہ ٔ تخلیق سے لے کر جسمانی وذہنی تکمیل تک اِسی تکوینی نظام کے تابع ہے ، رحمِ مادر سے لے کر انسان کی نشوونما،صورت ، قامت وجسامت ، رنگ روپ، جسمانی وذہنی استعداد،الغرض کسی بھی چیز میں اُس کے اپنے اختیار اورپسند وناپسند کا کوئی دخل نہیں ہوتا ، یہی وجہ ہے کہ آخرت میں نجات کا مدار اُن امور پر نہیں ہوگا جو انسان کے اختیار میں نہیں ہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کے ان تشریعی احکام کی بنا پر ہوگا ، جن کو قبول یا رد کرنا انسان کے اختیار میں ہے اور جن کا ظہور اعمال خیر وشر کی صورت میں ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''وہ ذات نہایت بابرکت ہے جس کے ہاتھ میں (تمام دنیا کی )سلطنت ہے اور وہ ہرچیز پر قادر ہے، جس نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے ، (الملک:1-2)‘‘۔مزید فرمایا: ''اللہ تعالیٰ کسی شخص پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ،وہ اپنے ہر نیک عمل کی جزا اور برے عمل کی سزا پائے گا،(البقرہ:286)‘‘۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں گروی ہے ، (المدّثر:38)‘‘۔
قرآنِ مجید نے اہلِ جنت کے بارے میں فرمایا: ''بے شک متقین جنتوں اور نعمتوں میں (سرشار) ہوں گے ،اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں سے شاداں (وفرحاں) ہوں گے اور اُن کا رب انہیں دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا،(اُن سے کہا جائے گا:) خوشی سے کھائو اور پیو ،یہ تمہارے کیے ہوئے نیک کاموں کی جزا ہے ،وہ صف بہ صف مَسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے ،ہم اُن کا نکاح کشادہ چشم گوری عورتوں سے کردیں گے اورایمان والوں اور اُن کی اولاد کوجنہوںنے ایمان لانے میں اُن کی پیروی کی ،ہم اُن کے ساتھ ملا دیں گے ،ہم ایمان والوں کے عمل میں کوئی کمی نہیں کریں گے ،ہر شخص اپنے اعمال کے عوض گروی ہے، (الطور: 17-21)‘‘۔
اصولی طور پر تو عمل کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا ،لیکن عمل چونکہ نیت اور ارادے سے وجود میں آتا ہے ،اس لیے بعض صورتوں میں کچھ لوگوں کے ایسے اعمال رد کردیے جائیں گے جوظاہری صورت میں حسین اور پرکشش ہوں گے ،لیکن اُن کے پیچھے جو نیت کارفرما ہے ، وہ اخلاص پر مبنی نہیں ہوگی ۔نبی کریم ﷺ کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین اشخاص کو اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا،اُن میں سے ایک میدانِ جنگ کا سورما ہوگا ،دوسرا قاریِ قرآن اور عالم اور تیسرا جو سخی داتا مشہور ہوگا۔یہ تینوں حیرت میں ڈوبے اپنے اپنے کارنامے بیان کریں گے ،اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جواب ملے گا:تم نے یہ سب کچھ دنیا میں ناموری اور شہرت پانے کے لیے کیا تھا ،سو وہ صلہ تمہیں مل گیا ، اب یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں ہے،تمہارے لِلّٰہیّت کے دعوے جھوٹے اور باطل ہیں ، یہ صحیح مسلم :1905کی طویل حدیث کا خلاصہ ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور تمہیں فقط اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ یکسو ہوکر دین کو اللہ کے لیے خالص کردو، (البیّنہ:5)‘‘۔چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے:''اعمال (کی جزا )کا مدار نیّتوں پر ہے اور انسان کو (عمل کا)وہی ثمر ملے گا ، جس کی اُس نے نیت کی ،سو جس کی ہجرت خالصۃًاللہ اور اُس کے رسول کے لیے ہے ،تو اُس کی ہجرت اُسی مقصد کے لیے متصور ہو گی اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مقصد کو پانے کے لیے ہے یا کسی عورت سے نکاح کے لیے ہے ،تو اُس کی ہجرت انہی مقاصد کے لیے متصوَّر ہوگی (اور آخرت میں وہ اس پر کسی جزا کا حقدار نہیں ہوگا)،(بخاری:1)‘‘۔ اسی لیے محدثین کرام نے نیت کو فعلِ قلب قرار دیا ہے اورقلب پر وارد ہونے والے خیالات کو کئی درجات میں تقسیم کیا ہے :پہلا درجہ ''ہاجِس‘‘ ہے ،یعنی اچانک کوئی خیال آیا اور دل ودماغ سے محو ہوگیا۔دوسرا درجہ'' خاطر‘‘ہے کہ بار بار خیال آئے لیکن دل اُس کی طرف مائل نہ ہو ۔تیسرا درجہ'' حدیثِ نفس‘‘ ہے کہ دل میں خیال آئے ،ذہن اُس کی طرف راغب بھی ہو اور اُس کے حصول کا منصوبہ بنالے۔چوتھا درجہ ''ھَمّ‘‘ ہے کہ اُس چیز کو حاصل کرنے کی خواہش غالب ہو، لیکن کسی خدشے کے پیشِ نظر مغلوب سا خیال یہ بھی ہو کہ اِسے ترک کردیا جائے ، اس کی بابت حدیثِ پاک میں ہے : ''جس نے کسی نیکی کا ''ھَمّ‘‘ (ارادہ ) کیا، لیکن (کسی وجہ سے )اُس پر عمل نہ کرپایاتو اُس کے لیے ایک نیکی ہے ، (صحیح مسلم: 130)‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ فعلِ قلب پر بھی جزا ہے اور بدی کے ارادے پر عمل نہ کرنا بھی نیکی ہے ۔
قلب وذہن پر وارد ہونے والے اِن ابتدائی چار مراحل پر اُخروی مواخذہ نہیں ہے ،لیکن اس کے بعد جو پانچواں مرحلہ آتا ہے،وہ ''عزم ‘‘ کا ہے ،یعنی انسان کسی چیز کے حاصل کرنے کا پختہ ارادہ کرلے، اِس فعلِ قلب پر مواخذہ ہے اور اسی کی بابت حدیثِ پاک میں فرمایا:''اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ''حدیثِ نفس ‘‘کو معاف فرمادیا ہے ، سوا اس کے کہ اُس کے مطابق کلام کرے (یعنی اُس کی منصوبہ بندی کرے اور اُس پر عمل کرے) ،(صحیح مسلم:127)‘‘۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved