تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     23-05-2017

اسلامی تحریکوں کی پُرامن جدوجہد…(3)

میں نے کہا: ''بھائی گاڑی میں پٹرول ختم ہو گیا ہے اور دور دور تک کسی آبادی کا نام و نشان نہیں‘‘۔اس نے گرم جوشی سے کہا:''کوئی بات نہیں،ابھی مسئلہ حل ہوجاتا ہے‘‘۔ اس نے میری گاڑی سے ربڑ کا گول ہارن اتارا اور اپنی گاڑی کی ٹینکی کھول کر اس میں سے کئی مرتبہ اسے بھر کر میری گاڑی کی ٹینکی میں انڈیلا۔پھر مجھے کہا:''گاڑی سٹارٹ کرو‘‘۔گاڑی اسٹارٹ ہوگئی تو مجھے کہا: ''ہم ابھی انتظار کرتے ہیں کہ آپ کی گاڑی میں کہیں کوئی اور نقص بھی نہ ہو۔ آپ روانہ ہو جائیں گے تو آپ کے پیچھے ہم چلیں گے۔‘‘ یوں وہ چاق و چوبند گاڑی سے باہر سڑک پر کھڑا رہا اور اس کا ساتھی گاڑی میں اس کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے فرشتہ خصال محسن سے اس کا تعارف پوچھا توفرمایا: ''حسن البنا من الاخوان المسلمین‘‘۔ پس میں سمجھ گیا کہ یہی وہ عظیم انسان ہے جس کا تذکرہ مصرکے ہر محل اور جھونپڑے میں،ہر محفل اور چوپال میں،ہر مسجد اور بازار میںہوتا ہے۔ کہیں محبت وعقیدت کے ساتھ، کہیں نفرت اور عناد کے ساتھ!‘‘(حسن البناؒ،استاذ الجیل ازعمر تلمسانیؒ، ص۱۰۲۔۱۰۳)
سید عمر تلمسانی اور دیگر اخوانی راہ نمائوں البہی الخولی، محمدالغزالی، استاذ صالح العشماوی وغیرہ نے مرشد عام کے ساتھ دیہاتی سفر کی روداد میں کئی دل چسپ واقعات بیان کیے ہیں۔امام حسن البنا اپنے طے شدہ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے ہی کی نہیں بلکہ اسے مثمر و کامیاب بنانے کی بھی حد سے زیادہ کوشش کیا کرتے تھے اور اس میں ہمیشہ کامیاب رہے۔کسی عذر کو پروگرام ملتوی کرنے میںحتی الوسع آڑے نہ آنے دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے پروگراموں میں لوگ جوق در جوق بروقت حاضر ہوا کرتے تھے۔ 
سعید رمضان امام کی شہادت کے وقت پاکستان میں مقیم تھے۔انھوںنے کراچی سے جو مضمون لکھا تھا،اس میں ایک واقعہ وہ یوں بیان کرتے ہیں:''میں اس عظیم انسان کو کبھی نہیں بھول سکتا۔اس کے دن اور راتیں،سفروحضر،غم اور خوشی سبھی کا محور غلبۂ اسلام اور دعوت اسلامی کی اشاعت تھا۔میں نے اس عظیم مربی کے ساتھ کئی بار سفر کا شرف حاصل کیا۔ ضلع شرقیہ اور دہقیلہ کا یادگار سفر تو آج بھی دل و دماغ میں تازہ ہے۔وہ دن بھر کم از کم پانچ مختلف قصبات و دیہات کا دورہ کرتے اور ہر جگہ پُرمغز خطاب فرماتے۔یہ ہرروز کا معمول تھا۔پھر رات کو کسی مرکزی اور بڑے قصبے یا شہر میں بڑا جلسۂ عام ہوا کرتا تھا،جس میں بلا مبالغہ ہزاروں افراد شریک ہوتے تھے۔ امام اس جلسے میں حسب حال دو گھنٹے اور کبھی تین گھنٹے خطاب فرمایا کرتے تھے۔ آخر وقت تک مجمع بڑھتا ہی رہتا تھا،کبھی اس میں کمی واقع نہ ہوتی تھی۔مسلسل دو ہفتے کا یہ سفر جاری رہا،حسن البناکی نیند تین چار گھنٹے تھی یا دوران سفر گاڑی یا ٹرین میں بیٹھے بیٹھے تھوڑا سااونگھ لیا کرتے تھے۔
اس طویل سفر کے بعد جب ہم قاہرہ پہنچے تو میں مرشدِ عام کی اجازت سے اپنے گھر طنطا چلا گیا۔اگلے دن گھر میں مجھے یہ چونکا دینے والی خبر ملی کہ امام کے جسم میں ایک زہریلا اور خطرناک پھوڑا تھا جس کے آپریشن کے لیے انھیں فوری طور پر ہسپتال داخل کرادیاگیاہے۔ میں ساری مصروفیات چھوڑ کر واپس قاہرہ کی جانب بھاگا۔ہسپتال میں آپریشن ہو چکا تھا اورڈاکٹروں کی راے میں یہ پھوڑا بہت مہلک ثابت ہو سکتا تھا۔مجھے تعجب اور افسوس ہو رہا تھا کہ اس قدر شدید علالت اور تکلیف کا امام نے ہم سے کیوں کبھی تذکرہ تک نہ کیا۔میں تو سفر کے دوران ان کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رات کو قیام بھی کیا کرتا تھا۔میں نے سوچا کہ یہ سوال کروں مگر آپ حیران ہوں گے کہ جوںہی میں مرشدِ عام کے بستر کے قریب پہنچاتو گویا وہ سوال کو پہلے ہی جان چکے تھے۔ان کے چہرے کی شادابی جو مردہ دلوں کو زندگی کا پیغام دیا کرتی تھی اور تبسم جس میں امید و رجا رچی بسی ہوتی تھی بدستور قائم تھا۔مجھے دیکھتے ہی پیار بھرے لہجے میں استقبال کیا اورمیرے سوال کے اظہار سے پہلے یوں مسکت جواب دیا: ''اے سعید! خدا تجھے خوش رکھے،اسی صبر کی برکت ہے کہ ہمارا دعوتی دورہ ہماری توقعات سے زیادہ کامیاب رہا۔ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور تو نے بھی میرے ساتھ یہ مشاہدہ کیا تھا۔‘‘
راہ خدا میں عزیمت اور مصائب پر صبر کے موضوع پر ضخیم کتابیں بھی مجھے پڑھنے کو ملتیں تو اتنا واضح، صاف اور دل کو یقین کی دولت سے مالا مال کردینے والا سبق حاصل نہ ہوسکتا تھا۔ یوں قدم قدم پر امام نے ہماری تربیت کا حق ادا کیا تھا‘‘۔ (سعید رمضان ''خواطر فی الامام الشھید‘‘ انور الجندی، ص۲۴۳۔۲۴۴)۔
''جماعت التکفیروالھجرہ‘‘ کے حوالے سے بھی اخوان کو گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے کہ وہ انھی کی فکر کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن نوجوانوںنے حالات سے مایوس ہو کر کفر کے فتوے اور ہتھیار اٹھانے کی روش اپنائی تھی اخوان کے پُرامن اور جمہوری نظام میں ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔ وہ اخوان کے بھی اتنے ہی مخالف تھے جتنے دیگر مسلم طبقات کے۔ انھوں نے اپنا الگ تشخص قائم کیا جس سے اخوان نے بھی برأت کا اظہار کیا اور انھوں نے بھی اخوان سے اپنی لاتعلقی اور نفرت کا مؤقف پیش کیا۔ یہ تنظیم تو الٹا اس بات کا بیّن ثبوت پیش کرتی ہے کہ اخوان کے نظام میں تشدد کے لیے ادنیٰ سی بھی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے ہی عناصرکے جواب میں اخوان کے دوسرے مرشدِ عام جناب حسن الہضیبیؒ نے اپنی کتاب لکھی جس کا نام ہے دعاۃ لاقضاۃیعنی ہمارا کام دعوت دینا ہے یہ فیصلے اور فتوے جاری کرنا نہیں کہ کون مومن ہے اور کون کافر۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ داعی کا منصبِ حقیقی کے نام سے ادارہ معارف اسلامی نے چھاپا ہے جو اس موضوع پر مخالفین کا مسکت جواب ہے۔ 
جو لوگ مسلمانوں کے ارتکاب گناہ پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں یا انھیں واجب القتل قرار دیتے ہیں ان کے جواب میں امام الہضیبی تحریر فرماتے ہیں:
''اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ لوگوں کی عملی زندگی ایسی ہے کہ وہ اپنی معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں ایسے طریقوں پر چلتے ہیں جو شریعت کے مطابق نہیں ہوتے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ بات درست ہے۔ یقینا اکثر لوگوں کی حالت یہی ہے اور اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہو جاتے ہیں۔ لیکن ا س سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ ان کے عقیدے میں فساد آگیا اور اس کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہو گئے، اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اللہ کے حکم سے خروج خود تم نے اختیار کرلیا کہ لوگوں کے بارے میں اللہ کے حکم کے بجائے اپنا حکم دے دیا۔ لوگوں کا عقیدہ خراب ہونے کے بارے میں آپ کا استدلال جو انھیں اسلام سے خارج کرتاہے، ایک ایسا گمان ہے جو یقین کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِنَّ الظَّنَّ لَایُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا۔(النجم۳۵:۸۲) اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ 
رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''گمان سے بچ کر رہو، کیوں کہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ ‘‘ (المحلّٰی۱۱:۳۳۱)
ہاں، البتہ اگر آپ کو متعین طور پر معلوم ہوجائے کہ فلاں شخص نے کوئی ایسا عمل کیاہے یا کوئی ایسی بات کہی ہے جس کے بارے میں شریعت کا قطعی حکم ہو کہ وہ اسلام سے نکالنے والاہے تو پھر اس کے کفر کاحکم دیا جاسکتاہے۔ علانیہ طور پر گناہ کاکام کرنایا وہ عمومی ظاہری باتیں، جن کی طرف عام لوگوں کا میلان پایا جاتاہے، اللہ کے قانون میں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ لوگ ان کی بنیاد پر اکثر لوگوں کے بارے میں دائرہ اسلام سے خارج ہونے اور دائرہ کفر میں داخل ہونے کا حکم لگالیاکریں یا یہ فتویٰ جاری کریں کہ وہ کلمہ شہادت کا اقرار کرنے کے باوجوددائرہ اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے۔ ‘‘ (داعی کا منصب حقیقی از الشیخ حسن الہضیبی، ص:۸۰،مطبوعہ ادارہ معارف اسلامی، لاہور)
مولانا مودودیؒ کو بھی بعض شرپسند عناصر تشدد کا علمبردار ثابت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ مولانا نے مسلح اور خفیہ تحریکوں کا راستہ اختیار کرنے کی ہمیشہ کھل کر مخالفت کی۔ آپ کی یہ تحریر ملاحظہ فرمائیں:
''اس سلسلے میں اسلامی تحریکوں کے کارکنوں کو میری آخری نصیحت یہ ہے کہ انھیں خفیہ تحریکیں چلانے اور اسلحے کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کی کوشش نہ کرنی چاہیے۔ یہ بھی اصل بے صبری اور جلد بازی ہی کی ایک صورت ہے اور نتائج کے اعتبار سے دوسری صورتوں کی بہ نسبت زیادہ خراب ہے۔ ایک صحیح انقلاب ہمیشہ عوامی تحریک ہی کے ذریعے سے برپا ہوتا ہے۔ کھلے بندوں عام دعوت پھیلائیے۔ بڑے پیمانے پر اذہان اور افکار کی اصلاح کیجیے۔ لوگوںکے خیالات بدلیے۔ اخلاق کے ہتھیاروں سے دلوں کو مسخر کیجیے۔ اس طرح بتدریج جو انقلاب برپا ہو گا وہ ایسا پائیدار اور مستحکم ہو گا جسے مخالف طاقتوں کے ہوائی طوفان محو نہ کر سکیں گے۔ جلد بازی سے کام لے کر مصنوعی طریقوں سے اگر کوئی انقلاب رونما ہو بھی جائے تو جس راستے سے وہ آئے گا اسی راستے سے وہ مٹایا بھی جا سکے گا۔‘‘ (تفہیمات،جلد سوم۔ ص:۳۱۵۔۳۱۶)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved