تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     25-05-2017

تازہ ترین صورتحال ‘کچھ اندازے

ہمارے دوست نجم سیٹھی نے بڑی پتے کی بات کی ہے کہ جب ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں ہی نہیں تو وہ ہمارے وزیراعظم کو تقریر کرنے کا موقع کیوں دیتا۔ ہم نے سعودی عرب کے مطالبے پر نہ وہاں اپنے فوجی بھیجے نہ پائلٹ دیئے‘ نہ ریٹائرڈ فوجی بھجوائے تو وہ ہمارے ساتھ گرمجوشی کا مظاہرہ کیسے کرتا۔ اُدھر ہم نے اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کی کمان کے لیے اپنا ایک ریٹائرڈ جرنیل ضرور بھیج دیا‘ جس کا مرکزی ہدف ہی ایران ہے اور اب ہم ٹرمپ کے سامنے اپنی سُبکی کا رونا رو رہے ہیں جس نے صاف کہہ دیا ہے کہ ایران کو ہر صورت تنہا کیا جائے۔ چنانچہ ہم نے ایران کو بھی ناراض کر لیا اور سعودی عرب بھی ہمارے ساتھ نہیں ہے جبکہ یہ اسی گناہ بے لذت کا شاخسانہ ہے کہ ہم'' اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے‘‘... اور اب چین کے علاوہ کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات ٹھیک نہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ ڈیڈ لاک بھی بدستور موجود ہے اور یہی ہماری خارجہ پالیسی کا کمال بھی ہے۔ کل کو ایران اور شام وغیرہ کے خلاف یہ مشترکہ فوج اعلان جنگ کرتی ہے تو اس کا سپہ سالار ہمارا ہی ایک ریٹائرڈ جرنیل ہو گا۔ اُدھر امریکہ میں بھارتی لابی پہلے ہی ہماری دال نہیں گلنے دے رہی اور امریکہ ڈومور کے مطالبے پر بدستور ڈٹا ہوا ہے اور سب سے پُرلطف بات یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کسی وزیر خارجہ کے بغیر ہی چل رہی ہے اور جس طرح چل رہی ہے وہ ہم آپ سب کے سامنے ہے۔ گویا بھارت ہی ہمیں تنہا نہیں کرنا چاہتا‘ ہم خود بھی اسی کام پر لگے ہوئے ہیں۔ اُدھر امریکہ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف ہمیں پاکستان کے اندر جا کر بھی حملہ کرنا پڑا تو ہم کریں گے۔
دوسری طرف بھارت ہمیں دھمکی پر دھمکی دیتا چلا جا رہا ہے‘ تازہ ترین یہ ہے کہ پاکستان اپنے آپ کو بدلے ورنہ ہم بدل دیں گے۔ دریائے راوی کا بچا کھچا پانی اس نے بند کر دیا ہے جبکہ چناب اور جہلم پر ڈیم بنانے کے بعد اب اس نے دریائے سندھ پر بھی ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان چیلنجز کے خلاف ہمارے وزیراعظم نے کبھی لب کشائی نہیں کی حتیٰ کہ سینیٹر اعتزاز احسن کے علانیہ چیلنج کے بعد بھی وہ کلبھوشن کا نام تک اپنی زبان پر لانے کو تیار نہیں ہیں۔ ان معاملات کے حوالے سے خود وزیراعظم کی حُب الوطنی پر سوالات اُٹھنا شروع ہو گئے ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور عمران خاں پہلے ہی انہیں سکیورٹی رسک قرار دے چکے ہیں‘ حتیٰ کہ ہمارا وزیر دفاع بھی برائے نام ہی ہے۔ 
علاوہ ازیں گیم چینجر سی پیک پر بھی طرح طرح کے اعتراضات وارد ہو رہے ہیں اور اسے پاکستان کی بجائے چین کی گیم کہا جا رہا ہے اور اس سب کے باوجود حکومت اس معاہدے کو دن کی روشنی دکھانے پر تیار نہیں ہے کہ اصل معاہدہ ہے کیا‘ شرح سود کیا ہے اور مختلف تنصیبات پر پاکستانی لیبر اور ٹیکنیکل سٹاف کی کس قدر گنجائش موجود ہے جبکہ چھوٹے صوبے خصوصاً کے پی اور بلوچستان اس پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار مسلسل کر رہے ہیں۔
تازہ ترین خبر یہ ہے کہ وزیراعظم نے جے ٹی آئی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اب وہ اپنے وہ اختیارات بھی استعمال کریں گے جن سے وہ دست کش ہو گئے تھے۔ فوج ہو یا عدلیہ‘ موصوف اس کے ساتھ ٹکر مارنے کے لیے تو ہر وقت تیار رہتے ہیں اور اپنے آپ اور اپنے عہدے کو بچانے کے لیے ہر حد تک جانے پر انہوں نے اپنی کمر کسی ہوئی ہے۔ پہلے اُن کا خیال تھا کہ یہ معاملہ خاطر خواہ طول پکڑے گا لیکن یہ پینترا انہوں نے سپریم کورٹ کے اس بیان کے بعد بدلا ہے کہ وہ مقرر کردہ مدت میں کوئی توسیع نہیں ہونے دیں گے اور جو ادارہ یا شخصیت جے آئی ٹی کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا اس کی اطلاع ہمیں دی جائے‘ ہم اس سے خود نمٹ لیں گے‘ چنانچہ انہوں نے سپریم کورٹ کے ذہن کا بھی اندازہ لگا لیا ہے جس کے جواب میں یا علاج کے لیے انہوں نے نئی حکمت عملی ترتیب دینا شروع کر دی ہے اور وہ اختیار سماعت پر بھی اپنا اعتراض اُٹھائیں گے اور اپنے صاحبزادوں کے لیے بھی ایک ڈھال تیار کر رہے ہیں۔ بے شک انہیں اپنے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہے اور وہ اس سلسلے میں سرتوڑ کوشش بھی کر رہے ہیں اور اگر دورہ سعودی عرب میں وہ اپنے وکیل اکرم شیخ کو بھی ساتھ لے گئے تھے جہاں قطری حکمران بھی موجود تھے تو یہ بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ادھر‘ صورتحال کو بھانپتے ہوئے پیپلز پارٹی نے بھی اپنے کان کھڑے کر لیے ہیں اور اس کا خیال ہے کہ اگر فیصلہ نوازشریف کے خلاف آتا ہے تو یہ لوگ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ چنانچہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کا یہ کہنا خالی از علت نہیں ہو سکتا کہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وکلاء طبقے نے بھی وزیراعظم کو سات دن کا نوٹس دے دیا ہے کہ استعفیٰ دیں ورنہ اُن کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی۔
سو وزیراعظم کے خلاف ہر طرف سے گھیرا تنگ ہونے ہی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور راوی ان کے لیے ہرگز چین نہیں لکھتا۔ اس لیے وہ کسی خصوصی اہتمام کے بارے میں بھی شاید سوچ رہے ہوں۔ بنیادی حقوق کی عالمی تنظیم اور ورلڈ بینک کی طرف سے بھی یہ انتباہ کن بیان آیا ہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے سے کوئی نیا بحران کھڑا ہو سکتا ہے جو سپریم کورٹ کے لیے بھی ایک پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم‘ یہ بات بھی ابھی صیغۂ راز ہی میں ہے کہ جے آئی ٹی وزیراعظم اور ان کے صاحبزادوں کو طلب کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے یا نہیں۔
بہرحال‘ وزیراعظم کے لیے آثار کچھ زیادہ اچھے نہیں ‘اور ہو سکتا ہے کہ پانامہ کیس کا واقعی کوئی ایسا فیصلہ آ جائے جو صدیوں تک یاد رکھے جانے کے قابل ہو‘ ابھی سے ایسا لگتا ہے کہ وقت کی رفتار خاصی رک گئی ہے۔ ہماری دعا تو یہی ہے کہ فیصلہ جو بھی آئے وہ ملک و قوم کے لیے بہتری کا باعث ہو!
آج کا مقطع
سفینہ سمت بدلتا ہے اپنے آپ‘ ظفر
کوئی بتائو‘ مرا بادباں کہاں گیا ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved