تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     29-05-2017

سرخیاں،متن،شاہجہاں سالفؔ اور افضال نوید

عوام دیکھ رہے کون کیا کررہا ہے، نواز شریف
وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون کیا کررہا ہے‘‘ البتہ ہماری طرف ان کی نظر ابھی نہیں پڑی کیوں کہ ہم نے انہیں اشتہارات ہی کے چکر میں ایسا ڈالا ہے کہ وہ وہی کچھ دیکھ رہے جو ہم انہیں ان اشتہارات میں دکھا رہے ہیں ۔ہمارا اصل کام ماشاء اللہ ابھی تک ان سے پوشیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ستارالعیوب ہے‘ تاہم خدشہ یہی ہے کہ جو کچھ ہم اصل میں کر رہے ہیں یا اب تک کیا ہے اس کی تفصیل کہیں پاناما کیس کے فیصلے ہی سے باہر نہ آ جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف پاکستان کے عوام کو جواب دہ ہیں اور یہ جملہ جہاں پہنچانا مقصود ہے‘ امید ہے کہ وہاں تک پہنچ گیا ہو گا کہ ویسے بھی ہمیں عوام نے منتخب کرکے اقتدار پر بٹھایا ہے عدلیہ نے نہیں ،ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ بڑے مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں اور جو مسائل ہم اپنے ورثے میں چھوڑ جائیں گے وہ آنے والے بھی ہمیشہ یاد رکھیں گے،آپ اگلے روز پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ '' اگلا بجٹ بھی ہم ہی پیش کریں گے‘‘چاہے ہم کہیں بھی ہوں گے کیونکہ ہم وہیں سے پیش کرسکتے ہیں جہاں ہم موجود ہوں گے۔ویسے بھی تاریخ کو اپنے آپ کو دہرانے کی بڑی عادت پڑی ہوئی ہے آخر اس تاریخ کا کیا بنے گا؟ 
آئندہ ٹیکس چوری اور پیسہ ملک سے
باہر لے جانا ممکن نہیں رہے گا: اسحاق ڈار
وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا کہ '' آئندہ ٹیکس چوری اور پیسہ پاکستان سے باہر لے جانا ممکن نہیں رہے گا‘‘ کیونکہ پہلے ہی اتنا ٹیکس چرایا جا چکا ہے اور اتنا پیسہ ملک سے باہر بھیجا جا چکا ہے کہ اب ملک میں کچھ رہ ہی نہیں گیا جو اب باہر بھیجا جا سکے۔ ماسوائے قرضوں کے۔انہوں نے کہا کہ '' ہم متحد ہو کر کام کریں اور سیاست کریں‘‘کیونکہ سیاست سے تو ملک کو پہلے ہی پاک کیا جا چکا ہے اور ہم اپنے غریبی ہٹائو پروگرام پر ہی عمل کررہے ہیں لیکن یہ غریبی ایسی چیز ہے کہ اتنی جلد ی ختم بھی نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ''ہم نے بجٹ خسارہ ختم کر دیا ہے‘‘ اورصرف چند خسارے باقی رہے گئے ہیں جو برآمدات ،ٹیکس وصولی اور کرپشن کی وجہ سے ہو رہے ہیں لیکن گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں وزیراعظم ملکی ترقی سے فارغ ہوتے ہیں ،کرپشن کا بھی خاتمہ کر دیں گے، آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شامل تھے۔ 
قبضہ مافیا کیخلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائے جائیگی:رانا ثناء اللہ
وزیر قانون پنجاب رنا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''قبضہ مافیا کیخلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی‘‘۔ اور مجھے حیرانی تو اس بات پر ہے کہ گڈ گورننس کے اس زریں دور میں یہ قبضہ مافیا کہاں سے آ گیا ہے،تاہم وہ ہمارے ہی لوگ ہیں انہیں منت سماجت کی جائیگی کہ الیکشن کی آمد آمد ہے فی الحال یہ قبضے ختم کریں ،الیکشن کے بعد دوبارہ براجمان ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ ''جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو بلایا تو وہ اس کے سامنے پیش ہو جائیں گے‘‘۔اول تو ان بیچاروں کی کیا مجال ہے کہ وہ وزیراعظم کو طلب کریں۔آخر انہیں نوکری بھی تو کرنی ہے،اول تو وزیراعظم دستیاب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بہت لمبے بیرون ملکی دورے پر تشریف لے جانے والے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے میڈیکل چیک اپ کیلئے چند ماہ کیلئے وہیں رک جائیں کیونکہ چند دنوں سے وہ نصیب دشمناں بھوک کی کمی کا شکار ہیں ۔آپ اگلے روز لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔
ایک شاعر کی گم شدگی
ہمارے شاعر دوست افضال نوید نے اطلاع دی ہے کہ ہمارے ایک عمدہ شاعر شاہجہان سالف کوئی چار ماہ سے گم ہو گئے ہیں جن کا کوئی پتا نہیں چل رہا۔انہیں چمن کے قرب و جوار سے اغواء کیا گیا۔اس سے کچھ عرصہ پہلے بھی انہیں اٹھا لیا گیا تھا اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا گیا تھا کہ نماز پڑھا کرو۔وہ ایک آزاد خیال شاعر ہے اور اسے شائد اسی کی سزا دی گئی ہے ۔اس کا ایک شعر پیش خدمت ہے ؎
فضا ئے چشم سے آخر غبار ختم ہوا
جہاں جہاں تھا مرا انتظار ختم ہوا
افضال نوید نے ہماری فرمائش پر اپنی تازہ شاعری ارسال کی ہے ملاحظہ ہو:
وہ کھڑکیاں وہ دریچے صدائیں دیتے ہیں
اور ان مکانوں کے اندر کوئی بھٹکتا ہے
مرے وجود کی حد پار ہی نہیں ہوتی
مرے وجود کے باہر کوئی بھٹکتا ہے
نوید ہاتھ گئے تھے جہاں سے ہاتھوں سے
وہاں سفر سے پلٹ کر کوئی بھٹکتا ہے
اپنی جانب کوئی آوازہ تو رکھ چھوڑنا تھا
واپسی کیلئے دروازہ تو رکھ چھوڑنا تھا
افلاک کو ،بندھا ہوا ہے ایک جگہ پر
دامن ہے مرا یا ترے آنچل کی ڈھلک ہے
شاید اسی پاداش میں ٹکتے ہی نہیں پائوں
اوپر بھی فلک ہے میرے نیچے بھی فلک ہے
مگر پرندے ہماری ہوا میں اڑتے رہے
نہ میں ہی نکلا تری سمت اور نہ تو نکلا
میں اپنے آپ کو باہر سے دیکھنے لگا تھا
اسی لیے مجھے باہر کے کام بھول گئے
زمیں بھی سیڑھیاں اتریں تو ختم ہو جائے
فلک بھی بام سے اوپر کہیں نہیں ملتا
آج کا مقطع
پائوں پھیلاتا ہوں چادر دیکھ کر میں بھی‘ ظفرؔ
کچھ مجھے اس نے بھی ہے اوقات میں رکھا ہوا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved