تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     29-05-2017

افغانستان ، وسط ایشیا کے زمینی ذخائر اور سیا ست؟

افغانستان ،سنٹرل ایشیا اور پاکستان کا جنوب مغربی حصہ بلوچستان اس وقت عالمی سیا ست کی وہ شطرنج بنتا جا رہا ہے جہاں امریکہ، برطانیہ ، جاپان، روس، چین اور بھارت اپنے اپنے مہروں کو استعمال کر نے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور پاکستان جس کے وسائل سب سے کم ہیں جسے ان زمینی ذخائر کی سب سے زیا دہ ضرورت ہے وہ اس طرح لاتعلق ہے جیسے کل کو ہوا میں رہنے کا ارادہ رکھتا ہو؟۔ ا مریکہ ، برطانیہ اور بھارت کی مثلث افغانستان بلوچستان، افغانستان اور سنٹرل ایشیا کی پانچوں ریاستوں کو اپنی آئندہ پچاس سالہ معیشت کا محور بنانے کے ساتھ ساتھ گوادر کو کراچی پورٹ کے برابر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے جا رہے ہیں۔ ۔۔۔۔امریکہ اور بھارت کب کے جان چکے ہیں کہ افغانستان میں دوسری معدنیات کے علا وہ تیل، گیس، یورونیم اور تھوریم کے لامحدود ذخائر دریافت کئے جا چکے ہیں۔صرف شمالی افغانستان کے حصوں میں گیس کی مجموعی مقدار 36.5 ٹریلین کیوبک فٹ اور تیل 3,6 بلین بیرل ہے۔ اس کے علاوہ Vanadium,Bismuth,tungsten,Antimony and Moly bdenum کے علا وہ کچھ ایسی دھاتیں بھی پائی گئی ہیں کہ زمین کے نادر چھپے ہوئے ان خزانوں کی لندن کی عالمی مارکیٹ کے مطا بق لگائی جانے والی قیمتیں 26 ہزار ڈالر فی ٹن اور415$ per troy ounce to920$ per troy ounce کے قریب ہیں۔۔۔بھارت کئی برسوں سے با میان صوبے میں حاجی گاگ میں پائے جانے والے دنیا بھر کے بہترین لوہے اورAynk کے پیتل اور تانبے کے ذخائر پر سجن جندال کے ذریعے بلا شرکت غیرے قبضہ کرنے میں مصروف ہے جبکہ پاکستان نے اب تک رتی بھر بھی کوشش کرنا مناسب نہیں سمجھی نہ جانے کیوں؟۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان پر راج کرنے والی کسی بھی حکومت نے اب تک عالمی مارکیٹ کی جاری کی جانے والی کسی ایک بھی رپورٹ کو دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ نورستان ، کندوز، پکتیا سمیت افغانستان کے سات دوسرے صوبے نایاب اور قیمتی معدنیات سے بھرے پڑے ہیں اور کوک گریڈ کا سب سے بہترین کوئلہ اس کے علا وہ ہے ؟۔بھارت نہیں چاہتا کہ افغانستان پاکستان کے قریب آ ئے کیونکہ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر تیل اور گیس کیلئے پاکستان کو اپنے دروازے سے کہیں دور جانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟۔
افغانستان کے اندر چھپے بیش بہا خزانوں کی قیمت جاننے کیلئے 87 برس پرانی ایک رپورٹ دیکھیں تو آنکھیں حیرت سے کھل جاتی ہیں۔ 1930 میںافغانستان میں سب سے پہلے جرمن ماہرین کی ایک سروے ٹیم نے افغانستان میں معدینات پر ریسرچ شروع کی تھی اور صرف تین سال بعد وہ ایک ہی صوبے پکتیا میں زیر زمین چھپے ہوئے خزانوں کی مقدار دیکھ کر حیران رہ گئے ان کی دی جانے والی رپورٹ نے دنیا بھر میں سب کو حیران کر کے رکھ دیا جس پر1936 میں افغان حکومت نے اپنے طالب علموں کا ایک گروپ معدنیات کی تلاش اور ان کا مطالعہ کرنے کیلئے جاپان بھیجا ۔ ابھی حال ہی میں تین سال ہوئے18جولائی2014 کوLondon's Metal Exchange کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق افغانستان کا فی ٹن تانبا پیتل 7026 ڈالر، زنک2287 ڈالر فی ٹن، چاندی جیسی شکل کا سفید مادہ کوبالٹ ،32750 ڈالر فی ٹن، نقلی چاندی18505 ڈالر فی ٹن،TIN 22080 ڈالر فی ٹن اورMolybdenum دھات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں فی ٹن 29500 ڈالر تھیں اور یہ سب دھاتیں افغانستان میں بھری پڑی ہیں۔سنٹرل ایشیا جسے اس کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ''ایشیا ئی ہیرے‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے اس کی کل آبادی تقریباََ92 ملین ہے جس میںشرح خواندگی99 فیصد کے قریب ہے اور سینٹرل ایشیا کے ممالک کرغیزستان، قازقستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کی مشترکہ قومی پیداوار ورلڈبینک کی رپورٹ کے مطا بق412 بلین ڈالر ہے جس میں قازقستان سب سے بہتر یعنی کل پیداوار کا224 بلین ڈالر، ازبکستان کی قومی پیداوار56 بلین اور ترکمانستان کی42 بلین ڈالر ہے۔ان میں قازقستان اپنی جغرافیائی حیثیت میں دنیا کا9واں ملک شمار ہوتا ہے لیکن اس کی کل آبادی صرف پندرہ ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور حیران کن طور پر اس وقت یہ ملک60 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔''بحیرہ ارل اور بحیرہ قزوین‘‘ کے پانی اس کے اہم ذرائع ہیں اور بحیرہ قزوین جس کے بارے میں ماہرین کی متفقہ رپورٹ ہے کہ یہاں دنیا بھر کی تیل اور گیس کی پیداوار کا چار فیصد ہے ان تمام ریاستوں میں تیل اور گیس کے ساتھ ساتھ سونا ، زنک ، کاپراور یورینیم ، کے بے تحاشا ذخائر بھرے پڑے ہیں۔جن پر قبضہ کرنے کے لیے روس، چین، بھارت اور امریکہ ایک دوسرے سے کو دھکے دیتے ہوئے بھاگ رہے ہیں جبکہ پاکستان ایک طرف کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔
غضب خدا کا ہم نے کراچی کی سٹیل مل جان بوجھ کر تباہ کر کے رکھ دی ہے جس کیلئے آئرن اور گاک کوئلہ ہم آسٹریلیا سے منگواتے رہے اور ہمارے منہ کے سامنے دنیا کا بہترین لوہا اور کوئلہ افغانستان میں بھرا پڑا ہے اور بھارت اسے چپکے سے لئے جا رہا ہے اور اب سجن جندال اس کی سستی ٹرانسپورٹیشن کیلئے ہم سے واہگہ کازمینی راستہ مانگ رہے ہیں۔۔کیا ہم یہی سمجھ لیں کہ چمن سرحد پر لقمان کلی اور جہانگیر کلی پر افغان فوجیوں کی جانب سے گولہ باری اتفاقیہ یا ایسے ہی کرائی گئی ہے ؟۔افغان فوج یہ رٹ ایسے ہی نہیں لگائے جا رہی کہ یہ دونوں علا قے ہمارے ہیں اس گولہ باری کے تانے بانے پاکستان کی اس تجویز کے گر دگھومتے ہیں جس میں پاکستان نے افغانستان سے تجارت اور پاک افغان سرحدوں سے ملحقہ علاقوں سے معدنیات کی آمد و رفت کیلئے تین راستے تجویز کر رکھے ہیں جن میں سے پہلا:۔ طورخم کا ناردرن ٹریڈ روٹ دوسرا غلام خان کا سنٹرل ٹریڈ روٹ اور تیسرا چمن بارڈر پوسٹ والا روٹ جہاں پر کچھ بیرونی قوتوں کے ایما پر افغان حکومت گولہ باری کرانے میں مصروف ہے۔ افغان عوام شائد نہیں جانتے کہ''بدخشاں اور کٹاوس اور کندلان کا سونا۔۔۔۔بلخاب کا کاپر،داکنڈی کا لیتھم اور ٹن،حاجی کاک کا لوہا، پنج شیر کا لوہااور سلور۔۔۔زرکشان کاسونا اور لوہا۔۔۔بغلان کا جپسم۔۔۔۔نارتھ ہیرات کا لائم سٹون، کندوز کی چھ انتہائی قیمتی دھاتیں یہ سب اسی وقت افغان عوام کی خوش حالی کا باعث بن سکتے ہیں جب تک افغانستان میں مکمل امن نہیں آجاتا اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب افغان حکومت بھارت کی نہیں بلکہ اپنے عوام کی بہتری سوچنے لگے گی ۔۔۔۔۔۔!!

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved