تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     01-06-2017

حکمرانوں کا بجٹ‘ اِنہی کے لیے

26 مئی کو وزیر خزانہ نے اسمبلی میں جو بجٹ پیش کیا‘ وہ اس ملک کے عوام کے لیے کوئی حقیقی بہتری نہیں لا سکتا‘ نہ ہی یہ بحرانی نظام، جس کی جڑوں میں پیسے کی ہوس رچی ہوئی ہے، معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کا حامل ہو سکتا تھا۔ یہ ایک معمول کا بجٹ تھا جس میں اسی معیشت اور اقتصادیات کی بحث ہوئی جو عوام پر مسلط ہے‘ اور جس کے اذیت ناک استحصال سے انسانی محنت مجروح اور گھائل ہو رہی ہے۔ لیکن ایک ایسی حقیقت‘ جس کو حکمران ماہرین تسلیم بھی کر چکے ہیں‘ یہ ہے کہ اس ملک کی 73 فیصد معیشت متبادل (Parallel) یاغیرسرکاری ہے۔اس معیشت کااصل نام کالی معیشت (Black Economy)ہے۔چونکہ یہ ریاستی اختیار اور حساب کتاب سے باہرہے اوراس کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی جاسکتی تواس کے معنی یہ ہیں کہ ڈار صاحب نے اس ملک کی کل معیشت کے صرف 27 فیصد کابجٹ ہی پیش کیاہے۔ یہ ضرورہے کہ بجٹ میںحکمران طبقات کی نچلی پرتوںپربھی مراعات نچھاورکی گئی ہیں۔الیکٹرانک مصنوعات،تعمیرات،مرغی خانے اورپولٹری وغیرہ ایسے شعبے ہیں جن میں عمومی طورپرحکمران طبقات کی نچلی اوردرمیانے طبقات کی بالائی پرتیں کاروبارکرتی ہیں۔فوج اوردوسرے ریاستی اداروں پرمختص کردہ بجٹ سے کہیں زیادہ اخراجات ہونگے۔ترقیاتی بجٹ کے 1100 ارب ان منصوبوں پرصرف کیے جائیں گے جن کی حقیقت ریگستانوں میں نخلستانوں کے سراب سے زیادہ نہیں۔لیکن اعدادوشمار کی گنجلکوں میںجتنابھی چھپایا جائے زیادہ رقوم سامراجی اداروں کے بیرونی قرضوں کے سود اور ادائیگیوں پرہی صرف ہوں گی۔جہاں ترقیاتی پراجیکٹوں میں ٹھیکیداروںکی چاندی ہوگی وہاں عالمی سامراجی اداروں کویہاں کے محنت کشوں کاخون چوس کرسوداداکیے جائیں گے جن کے لیے مزیدقرضوں کے علاوہ کوئی چارہ کارنہیں ہوگا۔
اس سرمایہ دارانہ زوال کے عہد میں ہر ہونے والی ترقی اور شرح نمو میں اضافہ صرف بالادست طبقات کی دولت میں ہی اضافہ کرتا ہے۔ اب یہ بہت سے سرمایہ دارانہ معیشت دان بھی تسلیم کرچکے ہیں کہ موجودہ دور کی سرمایہ داری میں شرح نمو میں اضافہ اس ملک کے محنت کش اور غریب عوام کے معیار زندگی میں بہتری کی بجائے ان کی گراوٹ کا باعث ہی بنتا ہے ۔ اگر اسحاق ڈار یہ فرما رہے ہیں کہ پاکستان کی شرح نمو 5.3 فیصد رہی ہے تو زیادہ عرصے نہیں ہوا کہ مشرف دور میں شوکت عزیز نے اپنی معاشی فنکاری سے پاکستان کی شرح نمو تقریباً 7 فیصد کردی تھی۔ مشرف/شوکت عزیز دور میں مزدوروں کی اجرت 6000 روپے ماہانہ تھی اور اس وقت ایک تولہ سونا تقریباً 6600 روپے کا تھا۔لیکن اس دور میں بھی نہ محنت کشوں کی محرومی میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی غربت سے یہاں کی بھاری اکثریت نکل سکی۔ اب سونے کی فی تولہ قیمت 46000 ہزار روپے ہے اور ایسے میں ان حکمرانوں نے کم از کم اجرت 14 سے 15 ہزار کرکے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے۔ لیکن یہ کم از کم اجرت بھی پاکستان کے مزدوروں کو کہاں نصیب ہے ۔ نجی شعبے میں یہ اجرت چند ہی کارخانوں یا اداروں میں حاصل ہے، ورنہ حقیقی اجرت عمومی طور پر چھ ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی۔اِسی سیاست اور صحافت کے نان ایشوز کی بھرمار میں ایک خبر آئی اور غائب ہوگئی۔ وزارت داخلہ کے ایک 59 سالہ نائب قاصد نے پچھلے منگل کو وزارت کی چھت سے چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ یہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا رہنے والا ایک سرکاری ملازم تھا اور اپنی ریٹائرڈ منٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو اپنی جگہ رکھوانا چاہتا تھا۔22 مئی کو بیٹے کے ہمراہ دفتر پہنچا تو اس کو افسر نے بتایا کہ والد کی دوران ڈیوٹی موت کی صورت میں ہی بیٹے کو نوکری مل سکتی ہے۔ اس نے 30 فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگا کر اپنے بیٹے کے لیے نوکری کا بندوبست اپنی جان دے کے کر دیا۔ ایسے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں۔ 
بجٹ اب ایک رسمی تہوار بن گیا ہے جس میں میڈیا اور درمیانہ طبقہ ہی زیادہ دلچسپی لیتا ہے۔ محنت کش اور غریب اس سے بے نیاز اور اپنی روٹی روزی کی تگ ودو سے فرصت حاصل کرنے سے معذور ہیں۔ ہر سال بجٹ آتا ہے لیکن پھر ہر ماہ اور ہر ہفتے بھی بجٹ آتے ہیں۔ جن میں اس نظام زر کے تقاضوں کے تحت محنت پر سرمایہ اپنے نمائندوں کے ذریعے مسلسل حملہ آور رہتا ہے۔ کبھی دھوکے اور کبھی رعونت سے محنت کشوں کے خلاف اقدامات کا سلسلہ تیز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تعلیم، علاج، پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، نکاس اور دوسری بنیادی ضروریات اس ملک میں ہر قدر کی طرح طبقاتی طور پر تقسیم اور وسیع اکثریت کے لئے ناپید ہیں۔ ان بنیادی ضروریات کی نجکاری کا عمل ہر حکومت میں تیز سے تیز ہوتا گیا ہے۔ پچھلے ایک سال میں پاکستان میں شرح خواندگی میں2 فیصد مزید گراوٹ آئی ہے۔ علاج کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی گئی ہے اور 80 فیصد آبادی سائنسی علاج سے یکسر محروم ہے۔ اس کی وجہ سادہ ہے۔ یہ تعلیم، علاج اور دوسری اجتماعی ضروریات عام انسانوں کی قوت خرید سے تجاوز کرگئی ہیں۔ لیکن ایک دن وہ بجٹ بھی آئے گا جس میں علاج، تعلیم، بجلی، پانی اور دوسری ضروریات مفت کرنے کا اعلان ہوگا۔ مقامی حکمرانوں اور سامراجی آقائوں کی دولت اور اثاثوں پر ٹیکس لگا کر نہیں ان کو ضبط کرکے اتنی بھاری دولت ریاست کو حاصل ہوسکے گی جس سے ان تمام شعبوں کو عام سہولت بنایا جا سکے گا۔سامراجیوں اور مقامی بینکاروں کی منافع خوری کے قرضے ضبط ہونگے۔ حکمرانوں کی لوٹی ہوئی رقم واپس مل سکے گی۔ لیکن ایسا بجٹ صرف اس حکومت ، ریاست اور سماج کا ہوگا جہاں ہر صنعت، پیداوار اور سماجی سہولت کسی فرد یا نجی کمیٹی کی ملکیت نہیں بلکہ سارے عوام کی اشتراکی ملکیت ہوگی۔کوئی مالک اور کوئی غلام نہیں ہوگا۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved