تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     02-06-2017

سرخیاں،متن اور ٹوٹا

2018ء میں شفافیت اور کارکردگی کی جیت ہو گئی، شہباز شریف
خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ '' 2018ء میں شفافیت اور کارکردگی کی جیت ہو گی‘‘ اور اگر واقعی شفافیت پر ہوئی تو ہمارا کام خراب ہی سمجھیں کیونکہ اس وقت تک شفافیت کا پول بھی مکمل طور پر کھل چکا ہو گا اور اگر الیکشن بھی شفاف ہو گئے جیسا کہ آثار نظر آ رہے ہیں تو ہمارا بستر گول سمجھیں کیونکہ جو لوگ الیکشن کروائیں گے وہ اس میں نہ تو پنکچر لگنے دیں گے اور نہ ہی انتظامیہ گھاس ڈالے گی کیونکہ اس وقت تک ہم ویسے ہی سابقون میں شامل ہو چکے ہوں گے۔ اور جہاں تک کارکردگی کا تعلق ہے تو عام ووٹر یہ دیکھے گا کہ ہم نے اس کیلئے کیا کیا ہے اور یہ کہ موٹر وے اور اورنج لائن سے ان کا پیٹ بھرا ہے نہ بے روز گاری میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ'' ماضی کی حکومتوں نے منصوبوں کے قبرستان بنائے‘‘ جبکہ ہم ان کے خوبصورت مزار تعمیر کررہے ہیں آپ اگلے روز لاہور میں ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے 
سٹرکوں پر آ گئے تو میاں صاحب کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی: بلاول
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ''ہم سڑکوں پر آ گئے تو میاں صاحب کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی‘‘ ویسے بھی ہمارا سارا دارومدار سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہے کیونکہ اسی صورت ہمارے گھوڑے ،گدھے اور خچر ہر طرف دوڑتے بھاگتے نظر آئیں گے جبکہ امید ہے کہ اس وقت میاں صاحب کسی محفوظ جگہ پر ہوں گے اور انہیں چھپنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ'' نواز شریف حکومت کے دن پورے ہو گئے ہیں‘‘ اور اگر فیصلہ نواز شریف کے حق میں آ گیا تو ہمارے دن تو شروع سے ہی پورے سمجھیے ۔انہوں نے کہا کہ'' لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے سبز باغ دکھا ئے گئے ‘‘جبکہ ہم تو صرف خدمت ہی کا باغ دکھا سکتے ہیں جس میں پچھلی دفعہ بھی خوب پھل لگا تھا اور آئندہ بھی بھرپور فصل آنے کی امید ہے جسے برداشت کرنے کیلئے جملہ عمائدین تیار بیٹھے ہیں۔ آپ اگلے روز نوری آباد پاور پلانٹ کا افتتاح کر رہے تھے۔
نہال ہاشمی کے اندر نوا ز شریف بولتے ہیں: اعتزاز احسن
پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء سینیٹر اور بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ '' نہال ہاشمی کے اندر نواز شریف بولتے ہیں‘‘ جیسا کہ ہمارے اندر آصف علی زرداری بولتے ہیں جبکہ کبھی کبھار بلاول بھی چوں چاں کرنے لگیں تو زرداری کی ایک ہی گُھرکی اُنہیںبرف میں لگا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ'' سپریم کورٹ ایسا ایکشن لے کہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو‘‘،جبکہ سپریم کورٹ ویسے بھی اور پہلے ہی ایسا ایکشن لے گی تاہم اس میں میری تائید بھی شامل ہو جائے تو کیا ہرج ہے۔انہوں نے کہا کہ'' حکمران ہر حد عبور کر چکے ہیں‘‘ جبکہ زرداری صاحب کے اینٹ سے اینٹ بجانے کا مقصد صرف موسیقی پیدا کرنا تھا اور امید ہے کہ دیگر بہت سے باتوں کی طرح یہ بات بھی فراموش کی جا چکی ہو گی کیونکہ دوسرے فریق کا حافظہ پہلے ہی کچھ زیادہ تیز نہیں ہے۔آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پروگرام میں شریک تھے۔
عمران کے مشن میں ان کے ساتھ ہوں:فردوس عاشق اعوان
پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والی سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ'' عمران خان کے مشن میں مکمل طور پر ان کے ساتھ ہوں‘‘ اگرچہ سپریم کورٹ میں دائر کیس کے حوالے سے ان کا مشن بھی خاصا مخدوش ہو کر رہ گیا ہے جس کا اندازہ مجھے ان کی جماعت میں شامل ہونے کے بعد ہوا ہے لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کررہی تھیں۔
نہال ہاشمی کی گفتگو کا کوئی دفاع پیش نہیں کیا جا سکتا:مصدق ملک
وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ'' نہال ہاشمی کی گفتگو کا کوئی دفاع نہیں کیا جا سکتا ‘‘جس پر کافی غوروخوض ہوا کیونکہ وزیراعظم صاحب کی ہدایت بھی یہی تھی کہ اس کا کوئی مضبوط دفاع تیار کیا جائے لیکن ماسوائے اس کے اور کوئی چارہ کار نہ تھا کہ اسے نہال ہاشمی صاحب کی ذاتی رائے قرار دیا جائے لیکن چونکہ سوشل میڈیا پر کافی لے دے ہو رہی تھی اس لیے موصوف سے استعفیٰ لے لیا گیا اور ان کی رکنیت معطل کر کے آخری فیصلہ مشاورت تک ملتوی کر دیا گیا۔ سو امید ہے کہ وزیراعظم صاحب موصوف کیلئے تلافی مافات کے طور پر کوئی مناسب جگہ یا عہدہ محفوظ رکھ لیں گے جیسا کہ طارق فاطمی صاحب کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کررہے تھے۔
دو خبریں
دو خبریں ایک ساتھ شائع ہوئی ہیں جن میں سے ایک کے مطابق زرداری صاحب کے خلاف کرپشن کا ایک کیس کھولا جا رہا ہے اور دوسری یہ تھی کہ زرداری صاحب کی طبیعت ناساز ہو گئی ہے اور وہ علاج معالجہ کیلئے بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہے ہیں اگرچہ دونوں میں کوئی خاص تعلق نہیں ہے کیونکہ ہمارے لیڈروں کو جب کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا کہ باہر جا کر اپنا علاج کرائیں تاکہ ملک و قوم کی خدمت کو جاری رکھ سکیں۔ میاں نواز شریف توماضی میں چیک اپ کے لیے لندن گئے تھے بلکہ وہاں کے ایک غیر معروف سے کلینک میں اپنا بائی پاس بھی کروا لیا تھا جہاں آپریشن وغیرہ کا کام کیا ہی نہیں جاتا لیکن میاں صاحب کے اصرار پر وہ انکار نہ کر سکے جس کے دو دن بعد ہی میاں صاحب چاق چوبند ہو کر سیڑھیاں وغیرہ بھی اترتے چڑھتے نظر آئے تھے لہٰذا..................!
آج کا مطلع
کئی دن سے ترے ہونے کی سرشاری میں رہتا ہوں
میں کیا بتلائوں‘آسانی کہ دُشواری میں رہتا ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved