تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     01-07-2017

سیاست اور کرپشن

منڈی بہائو ا لدین کے ایک سیاسی خاندان سے منسوب کرپشن کی ایک ہوش ربا داستان ان دنوں زیرِ بحث ہے۔ معروف کالم نگارجاوید چوہدری صاحب نے اِس سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تمام واقعات ایف آئی اے کی رپورٹ میں مو جود ایک اعترافی بیان میں شامل ہیں۔یہ رپورٹ سپریم کورٹ کے ریکارڈ کا بھی حصہ ہے۔تازہ ترین خبر یہ ہے کہ ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں رد وبدل بھی ثابت ہو گیا ہے۔
یہ واقعات میرے اُن مقدمات کی تصدیق کر رہے ہیں جو میں نے معاصر سیاست کے باب میں قائم کیے ہیں۔میں انہیں نکات کی صورت میں یہاں دہرا رہا ہوں:
1۔پاکستان میں صرف ایک سیاسی جماعت پائی جاتی ہے جو پیپلزپارٹی، ن لیگ اور تحریکِ انصاف کے نام سے تین دھڑوںمیں منقسم ہے۔
2۔ عمران خان کرپشن کیخلاف نہیں ہیں۔وہ دراصل نوازشریف کیخلاف ہیں۔اگر وہ کرپشن کیخلاف ہوتے تو ہر اس شخص کے مخالف ہوتے جسکے دامن پر کرپشن کا داغ ہے۔وہ اسے نوازشریف کیخلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں کہ وہی ان کے اقتدار کے راستے میں حائل ہیں۔
3۔عمران خان کی 'ذاتی دیانت‘ ایک افسانہ (Myth) ہے۔یہ ایک مصنوعی حصار ہے جوان کی ذات کے گرد قائم کیا گیا ہے۔
4۔سیاست سے رومان رخصت ہو چکا ۔یہ خوش یقینوں کا واہمہ ہے جس سے وہ اپنے دل کو بہلاتے ہیں۔سیاست ہمیشہ زمینی حقائق پر کھڑی ہوتی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے مابین لوگوں کی آمد وروفت اس بے تکلفی کے ساتھ جاری ہے کہ نہ آنے والے کو کسی نئے ماحول کا اندیشہ ہے اور نہ استقبال کرنے والوں کو یہ خوف ہے کہ کوئی اجنبی ان کے گھر آ رہا ہے۔سب ایک دوسرے سے اچھی طرح مانوس ہیں۔نئے گھر میں کوئی یہ سوال کرنے والا نہیں کہ کل تک کہاں تھے اور کیسے کارہائے نمایاں تمہارے نامہ اعمال میں درج ہیں۔ کسی کی نیک نامی کوئی اثاثہ ہے نہ بدنامی کوئی بوجھ۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹیں ہیں جیسے مدت کے بچھڑے ایک پھر بار آن ملے ہوں۔
یہ بات بھی غیر اہم ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں یہ خواتین و حضرات اس سے پہلے کن خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔اب ایسا بھی نہیں کہ ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کی طرف سفرکسی قلب ِ ماہیت کا نتیجہ ہے۔کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس نے اپنے ماضی سے اعلان برات کیا ہو۔اسی طرح کوئی ایک جماعت ایسی نہیں ہے جس نے آنے والوں سے اس کا مطالبہ کیا ہو۔
گوندل برادران کے قصے سے یہ حجاب بھی ختم ہو گیا کہ کرپشن فی نفسہ کوئی برائی ہے۔کرپشن کا خاتمہ آج کا مقبول نعرہ ہے جو اقتدار پرستوں نے اختیار کر لیا ہے۔ ہر نعرہ ایک خاص سیاق و سباق میں مقبول ہو تا ہے۔کبھی 'روٹی کپڑا اور مکان‘ کی مانگ ہوتی ہے اور کبھی اسلامی انقلاب کی۔ان دنوں کرپشن کا خاتمہ دنیا بھرمیں مقبول نعرہ ہے۔ہمارے ہاں یقیناً چند ایسے ہوں گے جو سنجیدگی سے اس کا خاتمہ چاہتے ہوں گے لیکن ہم ان سے کم ہی واقف ہیں۔
جنہیں ہم جانتے ہیں ان کا مسئلہ کرپشن کا خاتمہ نہیں ہے۔یہ انہیں اسی وقت بری لگتی ہے جب سیاسی مخالفین میں پائی جاتی ہو۔کوئی اس بوجھ کے ساتھ انکی صفوں میں شامل ہو جائے توانہیں بری نہیں لگتی۔ استقبال کرنیوالے صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ آنیوالے کیساتھ ووٹ کتنے ہیں۔جو زیادہ ووٹ لائیگا اس کا استقبال بھی زیادہ گرم جوشی کیساتھ ہو گا۔یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد اگر کسی کا خیال ہے کہ ان جماعتوں میں کوئی جوہری فرق ہے یا ان میں سے کسی کے ساتھ کسی رومان کو وابستہ کیا جا سکتا ہے تو اس کیلئے صرف دعا کی جا سکتی ہے۔ 
عمران خان کی ذاتی دیانت اس طرزِ عمل سے مشتبہ ہوچکی۔پھر یہ دیکھیے کہ اڑھائی سال سے پارٹی فنڈزکا مقدمہ عدالت میں ہے لیکن وہ جواب دینے پر آ مادہ نہیں۔اگر معاملات شفاف ہیں تو میں نہیں جان سکا کہ جواب دینے میں کیا مانع ہے؟الیکشن کمیشن نے بھی ان کے ساتھ جو نرمی برتی، میرا خیال ہے اس کی بھی کوئی مثال موجود نہیں۔اس مقدمے کا کوئی تعلق پاناما کیساتھ نہیں ہے۔یہ اس سے کہیں پہلے خود تحریکِ انصاف کے اپنے لوگوں نے دائر کیا تھا۔واقعہ یہ ہے کہ عمران خان کی ذاتی دیانت ایک خوش گمانی کے سوا کچھ نہیں۔میرے نزدیک تو ذاتی دیانت کا دائرہ اخلاقیات کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔اسی طرح ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں ردو بدل اگر ثابت ہو جاتا ہے تویہ نوازشریف کی اخلاقی ساکھ کیلئے بڑا جھٹکا ہو گا۔
اگر یہ تجزیہ درست ہے تو کیا اہلِ سیاست سے خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہیے؟کیا مستقبل میں بہتری کا کوئی امکان نہیں؟میں ان دونوں سوالات کا جواب نفی میں دیتا ہوں۔اس تجزیے سے صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ملک کی سیاست شیاطین اور فرشتوں میں منقسم نہیں ہے۔جزوی خیر ہر جگہ موجود ہے اور شر بھی۔اگر لوگ کسی کے ساتھ کوئی رومان وابستہ کرتے ہوئے توقعات باندھیں گے تو انہیں مایوسی ہوگی اور یہ مایوسی انہیں اس نظام ہی سے متنفر کر دے گی۔جب وہ حقیقت پسندی کے ساتھ کسی کی حمایت کا فیصلہ کریں گے تواس کے دو فائدے یقیناً ہوں گے۔ایک تو محبت اورنفرت کے جذبات دائرۂ اعتدال میں رہیں گے اور دوسرے یہ کہ کوئی ناکامی انہیں کسی ذہنی مرض میں مبتلا نہیں کرے گی جو عشق میں ناکامی کے باعث لاحق ہو جاتی ہے۔
ماضی میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے سیاست میں رومان کی پرورش کی۔دونوں کی ناکامیوں نے لوگوں کو انتہا پسند بنا دیا یاذہنی مریض۔پیپلزپارٹی کی ناکامی کا ایک بڑا سبب یہ ہوا کہ جب اس کی قیادت کے ہاتھوں سوشلزم کا رومان بر باد ہوا توبہت سے لوگ سیاست چھوڑ کر گوشہ نشین ہو گئے۔1970 ء میں جماعت اسلامی کا کارکن یہ یقین کیے بیٹھا تھا کہ انتخابات کے نتیجے میں اسلامی انقلاب آ رہا ہے۔جب ناکامی ہوئی تو جماعت کے لوگوں پر مایوسی کا شدید دورہ پڑا۔راولپنڈی میں جماعت اسلامی کے ایک بہت مخلص، نیک اوربا صلاحیت رکن قاضی اقبال صاحب نے خود کشی کر لی۔کوئی چاہے تو 'سیاسی رومان کی ناکامی کے نفسیاتی اثرات‘ تحقیق کا ایک اچھا موضوع ہو سکتا ہے۔ 
سیاسی تبدیلی ایک تدریجی عمل ہے۔اس میں اصلاح تدریجاً ہوتی ہے۔پاکستانی سیاست بہتری کی طرف جا رہی ہے۔کرپشن کم ہو تی جا رہی ہے۔آج شریف خاندان کو کرپٹ ثابت کرنے کے لیے گڑھے مردے اکھاڑنا پڑ رہے ہیں۔ماضی قریب سے کوئی ثبوت تلاش نہیں کیا جا سکا۔اسی طرح تحریکِ انصاف کی حکومت نے کے پی میں بڑی حد تک اپنا دامن صاف رکھا ہے۔سماجی کلچر اور سرمایہ دارانہ معیشت کے ایک جزو کے طور کرپشن کا مکمل خاتمہ تو ممکن نہیں البتہ یہ دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے اور یہ اچھا شگون ہے۔ اس کے ساتھ گورننس کے معاملات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔
اگر ہم جمہوری عمل کے تسلسل اور سیاسی استحکام پر یک سو ہو سکیں تو ہمارا کل یقیناً آج سے بہت بہتر ہو گا۔اس نظام میں کمزوریوں کو بھی اس تسلسل اور استحکام ہی کی مدد سے بہتر بنا یا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر انتخابی اصلاحات ہیں۔اس پر اسی فی صد کام ہو چکا۔ اگر اپوزیشن اس پر سنجیدہ ہو تو محض ایک دو ماہ میں اصلاحات کوحتمی شکل دے کر پارلیمنٹ سے منظور کرایا جا سکتا ہے۔
جب یہ مقدمہ پیش کیا جا تا ہے تو اسے نوازشریف کی حمایت سمجھا جاتا ہے۔بادی النظر میں یہ کچھ غلط بھی نہیں۔ سیاسی استحکام ہو گا تو موجود حکومتوں کو فائدہ ہوگا۔تاہم اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ حکومت پرتنقید کا عمل رک جائے۔آزادیٔ رائے جمہوری عمل کے تسلسل کا ناگزیر نتیجہ ہے۔اگر یہ تسلسل بر قرار رہتا ہے تو عوامی رائے معتبر(mature) ہوتی چلی جاتی ہے۔یہی مثبت تبدیلی کا واحد راستہ ہے۔ 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved