تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     12-07-2017

Was it worth, my lord?

پتہ تو سب کو تھا کہ تیس سالوں میں مال بنایا گیا ہے لیکن یہ اندازہ کسی کو نہ تھا کہ اتنے بڑے پیمانے پر واردات ڈالی گئی ہے۔ جے آئی ٹی پر جو غصہ کیا گیا، گالیاں دی گئیں، دھمکیاں دی گئیں، ان وجوہات کی سمجھ آتی ہے‘ جب آپ وہ رپورٹ پڑھنے بیٹھتے ہیں۔
میں یہ رپورٹ پڑھتے ہوئے حیران ہو رہا تھا کہ امیر خاندان، کاروباری یا سیاسی لوگ کیسے بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر مال بنانے کے حربے سکھاتے ہوں گے؟ کس دل اور حوصلے سے باپ بیٹے کو کرپشن کرنے کے طریقے سکھاتا ہو گا؟ بچے معصوم ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا ہیرو باپ ہوتا ہے۔ وہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس دنیا میں اگر کوئی مکمل انسان ہے اور تمام تر خامیوں سے پاک ہے‘ تو وہ ان کا باپ ہے۔ ایک باپ بھلا کب چاہے گا کہ اس کا بیٹا ایسی راہ پر چل نکلے جو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے جائے۔
تو پھر کیسے کوئی باپ یہ حوصلہ کر لیتا ہے اور اپنے بیٹے کو کرپشن کرنے کے گُر سکھاتا ہے؟ بچوں کو امیر بنانے کے کئی طریقے ہیں۔ انہیں اچھی تعلیم دلوا کر بھی ایک بڑا آدمی بنایا جا سکتا ہے۔ ایدھی جیسا رول ماڈل بنایا جا سکتا ہے یا مدر ٹریسا بھی بن سکتی ہے‘ یا پھر بغیر کرپشن کیے کوئی بل گیٹس بھی بن سکتا ہے۔ بل گیٹس نے ساٹھ ارب ڈالرز کمائے اور ایک ڈالر پر بھی سوال نہیں اٹھا کہ اس نے حرام سے کمایا ہو۔ ہم ایسے لوگوں کو اپنے بچوں کا رول ماڈل کیوں نہیں بناتے؟ ایک باپ کیوں چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا ہر وقت خطروں میں رہے۔ وہ دوسروں کے پیسے پر آنکھ رکھے۔ وہ ایک غریب ملک کے غریب لوگوں کے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے گئے پیسے کو بیرونِ ملک لے جائے۔ جو پیسہ ایک کروڑ لوگوں کی ضرورت کے لیے ریاست نے رکھا تھا‘ اسے اس کا بیٹا کھا جائے۔ ایک باپ کیسے برداشت کرتا ہے کہ اس کا بچہ ساری عمر اس احساس کے ساتھ زندگی گزارے کہ اس نے جو لوٹ مار کی‘ وہ اس کا حق دار نہ تھا؟ یہ سوچ رکھے کہ وہ دوسروں سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ بڑے فراڈ کر سکتا ہے اور اس کے مقابلے میں دوسرے لوگ ڈفر ہیں۔ یا پھر اس ڈفر قوم کے بچوں کو وہ مواقع نہیں ملے جو اسے ملے ہوئے تھے کیونکہ اس کے باپ دادا کاروباری تھے‘ جنہیں سب راز پتہ تھے کہ مال کیسے بنانا ہے، جائیدادیں کیسے کھڑی کرنی ہیں۔ کیسے دوبئی‘ قطر‘ لندن تک پیسہ لے جانا ہے اور پھر ارب پتی بن جانا ہے۔ ریاست اور ریاست کے تمام اداروں کو کس طرح استعمال کرنا ہے۔ یا پھر آپ کا باپ آپ کو احساس دلوا دیتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑا سیاستدان ہے۔ اسے لوگوں کو اپنے پیچھے لگانا آتا ہے۔ وہ بادشاہ ہے اور بادشاہ کے بچوں کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ باغ اجاڑیں، کھیت اجاڑیں، کسی کے گھر میں گھس جائیں، تیر اندازی سیکھنے کے لیے ملازموں کے سروں کو نشانہ بنائیں‘ کسی کو راہ چلتے تلوار گھونپ دیں‘ یہ ان کا پیدائشی حق ہے۔ تو کیا ایسے خاندان کے بچوں کو بچپن سے ہی یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف ہیں؟ 
پھر جب آپ کے والد اور دیگر رشتہ دار اسی کاروبار کی بدولت سیاستدان بن جائیں، ایک بڑا صوبہ کنٹرول میں ہو، پیسے لے کر تحصیل دار اور اے ایس آئی بھرتی کیے جا رہے ہوں، موٹر ویز بنیں تو اس میں مال بنایا جا رہا ہو اور جب پیسہ بہت اکٹھا ہو جائے تو ریفارمز ایکٹ جیسے قوانین بنا کر وہ پیسہ باہر لے جائیں۔ جب آپ کو پتہ ہو کہ آپ پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا کیونکہ آپ کے والد وزیر اعظم تو چچا وزیر اعلیٰ ہیں، انکل وزیر خزانہ ہیں اور باقی وزرا درباری ہیں اور ہم پوری دنیا کو مار ڈالیں تو بھی وہ ہمارا دفاع کریں گے اور ہم پورا ملک لوٹ کر باہر لے جائیں‘ پھر بھی لوگ ہمیں ہی ووٹ دیں گے تو پھر کسی کا بھی اعتماد آسمان کو چھونے لگتا ہے۔ پھر آپ سمجھتے ہیں کہ نہ آپ نے مرنا ہے اور نہ ہی آپ کی دولت آپ کے مرنے کے بعد آپ کے رشتہ داروں کے کام آئے گی۔ آپ پھر بھارتی اداکار راجیش کھنہ کی طرح سوچتے ہیں کہ آپ اتنے بڑے سٹار ہیں کہ آپ پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ آپ کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔ آپ کبھی مریں گے بھی نہیں... اور پھر ایک دن آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں۔ آپ سٹار نہیں رہے۔ اب کچھ اور سٹارز بن گئے ہیں۔ اب لوگ ان کے ساتھ فوٹو کھنچواتے ہیں۔ کچھ اور لوگ اب سلیبرٹی بن گئے ہیں۔ آپ اس حقیت کو ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں اور کمرے میں بند ہو جاتے ہیں۔ آپ آئینہ دیکھنا بند کر دیتے ہیں۔ آپ لوگوں سے ملنا بند کر دیتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے آپ کسی سے ملنا چاہتے ہیں یا نہیں، لیکن اب لوگ آپ سے نہیں ملنا چاہتے کیونکہ آپ سے مل کر انہیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا... اور پھر آپ اسی فرسٹریشن میں ایک دن موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ راجیش کھنہ کی طرح۔ 
اس ان گنت دولت کا کیا کرنا جب پورے خاندان پر انگلیاں اٹھ رہی ہوں؟ جب پوری دنیا آپ کا کچا چٹھا پڑھ رہی ہو۔ بچوں کے نام پکارے جائیں۔ ٹی وی چینلز پر رات کو چالیس ٹی وی پروگراموں میں بچوں کی تصویریں دکھائی جائیں کہ دیکھو یہ وہ ہیں لوگ جو اس ملک کو لوٹ کر کھا گئے‘ اور رات گئے تک سوشل میڈیا پر ان بچوں کے لطیفے چل رہے ہوں۔ آپ بیرونِ ملک قطری شہزادوں کی منتیں کر رہے ہوں، آپ کو امریکہ سے فیور کی ضرورت ہو، فوجی جرنیلوں کو آنکھوں آنکھوں میں عرضی کی جا رہی ہو کہ ہمیں بچایا جائے، سرکاری افسران جو آپ کے ماتحت ہیں وہ آپ سے اور آپ کے بچوں کی کرپشن کے بارے سوالات کر رہے ہیں، آپ پھر بھی سمجھ رہے ہوں‘ نہیں میں زیادہ ہوشیار ہوں، میں زیادہ سمجھدار ہوں، میں اس ملک کا بادشاہ ہوں۔میرے پاس وفاداروں کی فوج ہے‘ جو میرے کہنے پر پورا کھیت اجاڑ دیں گے، میں کچھ بھی کر لوں میری پارٹی میرے ہر حکم پر زمین پر لیٹ جائے گی۔ میرے پاس دو سو سے زائد لوگ قومی اسمبلی میں ہیں کسی ایک کو بھی جرات نہیں کہ وہ میری کرپشن کی کہانیوں پر کسی جگہ سوال کرنے کی جرات کرے۔ 
تو آپ بھی راجیش کھنہ کی طرح کبھی بوڑھا نہیں ہونا چاہتے۔ آپ کو بھی لگتا ہے زوال کبھی نہیں آئے گا۔ یہ سب کچھ کس لیے؟ اتنی دولت کس لیے؟ اتنے اربوں ڈالرز کس لیے جس کے لیے آپ اور آپ کے بچے عدالتوں سے لے کر جے آئی ٹی تک میں پیش ہوتے رہیں۔ ٹی وی چینلز پر تصویریں چلتی رہیں لیکن آپ کہیں میں ڈٹا ہوا ہوں‘ لوگ بے شک آپ کے سامنے منہ پر خوشامد کرتے ہوں، لیکن یقینا دل میں وہ لوگ خود کو کچھ لعن طعن کرتے ہوں گے کہ ہم کس کام میں پڑ گئے ہیں یا پھر وہ یہ سمجھ لیتے ہوں گے کہ حکمران خاندان مال بنا رہا ہے تو اس نے ہمیں بھی تو موقع دیا ہے کہ ہم بھی ارب پتی بن جائیں۔ یہ بھی آپ کی طرح کے لوگ ہیں‘ جو سیاست میں مال بنانے آئے تھے۔ وہ آپ کی مدد کر رہے ہیں، آپ ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو استعمال کرنے کا نام ہی تو سیاست ہے۔ آپ بڑے کھلاڑی نکلے‘ آپ نے زیادہ لوگوں کو استعمال کر لیا اور وزیر اعظم بن گئے، وہ کم سمجھدار تھے لہٰذا ان کی اوقات وزرات کی تھی یا کچھ چھوٹے موٹے عہدے۔
جو کچھ اس وقت حکمران خاندان کے ساتھ ہو رہا ہے‘ اس سے مجھے NETFLIX کے برطانوی بادشاہ ہنری پر بنایا گیا ایک تاریخی ڈرامہ Tudor یاد آ رہا ہے‘ جس میں ایک شخص اپنے بچوں کے ذریعے بادشاہ کے دربار تک رسائی حاصل کر کے اونچا عہدہ لینے کا خواہش مند ہے اور اپنے بچوں کو سیڑھی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اس کے نزدیک اخلاقیات یا دیگر قدریں معنی نہیں رکھتیں۔ وہ سازشیں کرکے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ بیٹی کی شادی بادشاہ سے ہو جاتی ہے اور وہ خود لارڈ بن جاتا ہے۔ پھر اس کے خاندان پر زوال آتا ہے۔ بادشاہ اس کی بیٹی اور بیٹے کو قید کرا کے سر قلم کراتا ہے۔ وہ لارڈ بھی قید ہوتا ہے لیکن بادشاہ اس لارڈ کو چھوڑ دیتا ہے۔ جب بادشاہ کا خاص آدمی اسے جیل جا کر بتاتا ہے کہ بادشاہ نے اسے چھوڑ دیا ہے تو وہ خوشی سے بے حال ہوکر پوچھتا ہے: میرا ٹائٹل اور جائیداد تو میرے پاس رہیں گے؟بادشاہ کا وہ خاص آدمی اسے نفرت سے دیکھ کر کہتا ہے: تم نے لارڈ بننے کے لیے کیا کیا کھیل نہیں کھیلے۔ خود تم جیل میں سڑتے رہے۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے بیٹی اور بیٹے کے سر قلم ہوئے۔ تمہیں اب بھی اپنی امارت اور ٹائٹل کی فکر ہے؟ اس انگریز لارڈ کو کنگ ہنری کے خاص بندے کا کہا گیا وہ آخری جملہ شاید ہم سب کو دہلا دے:Was it worth, my lord.....

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved