تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     12-07-2017

بھارت کا اصل چہرہ

چار جولائی اتوار کی دوپہر علی گڑھ ریلوے اسٹیشن پر آنے جانے والے مسافر سیاہ برقعہ پہنے ہوئے خاتون کی مشکوک حرکات کو حیرت اور خوف سے دیکھ رہے تھے ۔ ان کیلئے اس قسم کا پردہ زیا دہ حیران کن اس لئے تھا کہ برقعہ پہننے والی مسلم خواتین کی کم از کم آنکھیں یا ہاتھ ضرور نظر آتے ہیں لیکن اس برقعہ پوش خاتون نے پائوں میںجرابیں بھی پہن رکھی تھیں کسی نے وہاںموجود ریلوے پولیس کو اس مشکوک عورت کے بارے میں بتادیا پولیس اہلکاروں نے کچھ دیر تک اس برقعہ پوش عورت کی حرکات و سکنات کو مانیٹر کیا تو انہیں بھی شک گزرا کہ کچھ گڑ بڑ ہے جس پر اسے اپنی فوری طور پر تحویل میں لے لیا جیسے ہی ریلوے پولیس کے اہلکار اس عورت کو دبوچنے کیلئے اس کی طرف بڑھے تو اسٹیشن پر ایک ہلچل سی مچ گئی کہ ایک مسلم خاتون کو پولیس ہراساں کر رہی ہے یا یہ کوئی خود کش بمبار ہے اس افراتفری اور بھاگ دوڑ سے ہونے والی دھکم پیل میں کئی لوگ زخمی ہو گئے دیکھتے ہی دیکھتے ایک دہشت گرد کی گرفتاری کی بریکنگ نیوز دینے کیلئے میڈیا کی گاڑیوں کی ریلوے اسٹیشن کے باہر ایک لائن سی لگ گئی۔ لیکن دوسری جانب گرفتار برقعہ پوش کے چہرے سے جب نقاب اٹھا گیا تو وہ عورت کی بجائے 42 سالہ ناظم الحسن نکلا۔۔۔ دوران تفتیش ناظم الحسن نے پولیس کو بتا یا کہ اس نے یہ برقعہ اس خوف سے پہن رکھا ہے اسے بھی دو روز قبل پندرہ سال مسلمان لڑکے جنید کی طرح مار مار کر ہلاک نہ کر دیں؟ پولیس اور میڈیا کے مطا بق پندرہ سالہ جنید جو عید کی خریداری کے بعد گھر آ رہا تھا اسے ٹرین میں یہ کہتے ہوئے مار مار کر قتل کر دیا گیا کہ ساتھ بیٹھے ہوئے ہندو مسافروں کو اس کے منہ سے '' ماس‘‘ کی بو آ رہی تھی جبکہ بعد میں ہونے والی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ جنید اور اس کے دو بھائیوںکا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی کنفرم سیٹ ہونے کی وجہ سے ہندو لڑکوں کے کہنے پر اس بوگی سے نکلنے کو انکار کیوں کیا تھا۔ ہریانہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ملزمان کی نشاندہی کیلئے دو لاکھ انعام مقرر کر دیا ہے لیکن ابھی تک کوئی بھی ان کے بارے میں اطلاع دینے کیلئے سامنے نہیں آیا۔۔۔۔(ہریانہ پولیس کس کو بیوقوف بنا رہی ہے ٹرین پر سوار ہوتے اور اترتے ہوئے مسافروں کی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے جنید کے زخمی بھائیوں کو تصاویر دکھائیں وہ ایک لمحے میں قاتلوں کو پہچان لیں گے)۔
بیالیس سالہ ناظم الحسن جو پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہے اور علی گڑھ میں قاسم پور ریلوے پاور سٹیشن پر کام کرتا ہے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ وہ اس لئے بھی بہت گھبرایا ہوا پھر رہا تھا کہ اسے بار بار اسٹیشن کے ٹکٹ کائونٹر تک جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ بکنگ کلرک اس کی آواز کو مشکوک سمجھ کر پولیس کو نہ بلا لے۔حسن نے بتایا کہ اس کے برقعہ پہننے کی اصل وجہ یہ ہے کہ چند روز پہلے وہ اپنے بیماربھائی کی عیا دت کیلئے دہلی گیا تو اسٹیشن پر غلطی سے اس کا بیگ کسی سے ہلکا سا ٹکرا گیا جس پر اس شخص نے مجھے گالیاں بکنا شروع کر دیں اور ساتھ ہی مسلمانوں اور مذہب اسلام کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنا شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ادھر ادھر سے ہندوئوں کا ایک مجمع اکٹھا ہو گیا جس نے مجھے زدو کوب کرنے کے علا وہ ننگی شرمناک گالیاں بکتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر دوبارہ علی گڑھ میں نظر آئے تو تمہارا حال بھی جنید کی طرح کرتے ہوئے قیمہ بنا کر کتوں کو کھلا دیں گے۔ حسن نے کہا کہ اس دھمکی کی وجہ سے وہ گھر سے نکلتے ہوئے ڈرتا تھا لیکن اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا بھی کسی طور منظور نہ تھا اس لئے انتہا پسند ہندوئوں کی نظروں سے اوجھل رہنے کیلئے اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے بیوی بچوں کی روزی 
روٹی کمانے کیلئے ہر حال میں کام پر جانا ہو گا اور اگر خوف زدہ ہو کر گھر بیٹھا رہا تو اچھی بھلی جاب ہاتھ سے نکل جائے گی اس لئے یہ سوچ کر برقعہ کا سہارا لیا تاکہ کوئی اسے دیکھ نہ سکے لیکن اپنے خوف اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے پکڑا گیا۔
مسلمانوں اور اقلیتوں کے علا وہ خواتین کے ساتھ بھارت میں جو وحشیانہ سلوک ہو رہا ہے اس کی نقاب کشائی کرتے ہوئے تین جولائی کودی گارڈین کی شائع کی جانے والی رپورٹ بھارت کی جمہوریت پر ایک زور دار طمانچے سے کم نہیں دہلی سے گارڈین کے نمائندے مائیکل لکھتے ہیں کہ نئی دہلی کے پارکوں اور تفریحی مقامات پر جگہ جگہ گائے کا ماسک پہنے ہوئے بھارتی خواتین نظر آ رہی ہیں جنہوں نے اس ماسک کے ساتھ شرٹ پر یہ فقرہ لکھا ہوتا ہےIs it safer to be a sacred animal in India than a woman?۔ دی گارڈین کی تائید کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطا بق صرف نئی دہلی میں 2016کے دوران ہر روز خواتین اور نو عمر بچیوں کے ساتھ اجتماعی زیا دتیوں کے چھ اور انفرادی جنسی زیا دتی کے بارہ واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس وقت بھارت میں نچلی ذات کے ہندئوں اور مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند ہندئوں کی گائو کشی کی روک تھام کی آڑ میں اختیار کی گئی پالیسی بروئے کار لاتے ان کی عورتوں کی جبری آبرو ریزی اور قتل و غارت کے علا وہ ان کی عبادت گاہوں اور ان کے گھروں کو آگ لگانے کا شرمناک کام عروج پر ہے۔ 
آج بھارت میں گھروں سے کسی بھی کام کاج کیلئے ٹرین یا بسوں پر سفر کیلئے نکلنے والے مسلمانوں کو ان کے والدین اور گھر کے دوسرے افراد کی جانب سے تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کرتا پاجامہ پہن کر مت جائیں بلکہ اگر اپنی آبادی سے کہیں اور طرف جانا ہے تو پتلون اور قمیض شرٹ پہن کر جائو۔۔۔۔اور بھارت میں مسلمانوں کی یہ صورت حال پر اپنے حکمرانوں کے سامنے سوال رکھ رہا ہوں جوبھارتی صحافیوں کے اعزاز میں دی جانے والی تقریب میں کہتے ہیں کہ'' ہمارا اور آپ کا کلچر ایک ہے آپ بھی آلو گوشت کھاتے ہیں اور ہم بھی آلو گوشت کھاتے ہیں ہم ایک ہیں صرف یہ درمیان میں ایک لکیر سی ہے‘‘۔۔جناب وہ گوشت نہیں کھاتے بلکہ ہر مسلمان کو یہ کہہ کر ہلاک کر دیتے ہیں کہ اس کے منہ سے گوشت کی بو آ تی ہے۔۔۔جناب وزیر اعظم بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی لکیر نہیں بلکہ بین الاقوامی سرحد ہے جس کی نسبت پندرہ لاکھ سے زائد مسلمان بھائیوں، بہنوں اور بیٹیوں کی قربانیوں سے عبور کئے جانے والے آگ اور خون کے دریا سے دی جاتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved