تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     18-07-2017

سقوطِ موصل کے بعد داعش؟

موصل کے سقوط کے بعدایک عمومی تاثریہ ہے کہ داعش اب مکمل شکست کے دہانے پرہے۔عراق کے اس دوسرے بڑے شہرپرعراقی اور امریکی افواج کے علاوہ ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا، کرد ش پیش مرگ اورمتعدد دوسرے گروہوں، جو عراق، شام اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے حصوں میں اس تباہ کن جنگ میں مصروف ہیں، کی مدد سے دوبارہ قبضہ کیا گیا۔ امریکی جنگی جہازوں نے بے تحاشا فضائی بمباری کی جس سے شہریوں کی وسیع ہلاکتیں ہوئیں جسے بے ہودگی سے'کولیٹرل ڈیمیج‘کانام دیاگیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش کے وحشی جنگجوئوں نے شہریوں کوانسانی ڈھال کے طورپراستعمال کیا ہے لیکن دوسری طرف عراقی اوردیگر کمانڈروں کی طرف سے بھی انسانی جانوں کے نقصان کومکمل طورپرنظراندازکیاگیا۔عراقی اوردوسری فوجوں نے ایک طویل آپریشن،جو پچھلے سال اکتوبرمیں شروع ہواتھا،کے بعد موصل پردوبارہ قبضہ کر لیاہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیااکیسویں صدی کی اس نام نہاد خلافت کوحتمی طورپرشکست ہوچکی ہے؟ڈونلڈٹرمپ اوردوسرے مغربی رہنمائوں کی جانب سے داعش کی فیصلہ کن شکست اوراس کی'' کمر توڑنے‘‘کی باتیں شاید قبل ازوقت ہیں اوراس بات پریقین کرنے والوں کوشدیدمایوسی ہوگی۔یہ بات سچ ہے کہ حالیہ دنوں میں داعش کوفوجی پسپائی کاسامنا کرناپڑااوراپنے آدھے سے زیادہ علاقوں سے ہاتھ دھوناپڑاہے جس کی وجہ سے مایوس نوجوانوں کوبطور جہادی بھرتی کرنے کی ان کی صلاحیتیں ماندپڑچکی ہیں۔
داعش کا لیڈرابو بکرالبغدادی مبینہ طورپر یاتومرچکاہے یا روپوش ہے۔تاہم اس کے نائب اورداعش کے دوسرے سب سے طاقتور لیڈر ابومحمدالعدنانی نے مئی 2016ء میں اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا تھا، ''جوکوئی بھی سوچتاہے کہ ہم کسی زمین کے ٹکڑے یااقتدارکوبچانے کے لیے لڑرہے ہیں یایہ فتح کاپیمانہ ہے تووہ غلطی پرہے۔‘‘یہ داعش کی جانب سے اپنی صفوں کوحوصلہ دینے کی ایک آخری کوشش ہے لیکن مشرق وسطیٰ میں داعش کی پسپائی واضح نظر آرہی ہے۔لیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ مذہبی وحشت اورقتل وغارت گری کایہ عفریت اب ختم ہوچکاہے۔
لیوانت میں داعش کی ریاست کاانفراسٹرکچرکسی حد تک اب بھی موجودہے اگرچہ 2014ء کے اپنے عروج کے دنوں کی سطح پرنہیں۔موصل ان کے ہاتھ سے نکل چکاہے لیکن عراق،شام(جہاں رقہ انکادارالحکومت ہے)،لیبیا،مصر میں سینائی اورمشرقی افغانستان(جسے وہ خراسان کی اسلامی ریاست کہتے ہیں اورجوجنوبی ایشیا میں انکی کاروائیوں کامرکزہے) میں اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل کئی شہروں پراب بھی ان کاقبضہ ہے۔اسی اثنامیں جیسے جیسے عراق اورشام میں داعش پرحملے بڑھ رہے ہیں اورانہیں پسپائی اختیارکرنی پڑرہی ہے ویسے ویسے وہ اپنی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لارہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے باہردوسرے ملکوں یورپ،امریکہ اورایشیامیں دہشت گردی کی ایک لہرشروع ہوئی ہے جسے داعش نے قبول کیاہے۔ برطانیہ ،فرانس، جرمنی، سویڈن،بیلجئم،پاکستان، بنگلادیش اوردوسرے ملکوں میں ہونے والی دہشت گردی کے لیے میڈیانے داعش کومورد الزام ٹھہرایاہے۔افریقہ میں بوکوحرام اورفلیپائن میں مسلح جہادی دہشت گردوں جیسی داعش کی شاخوں نے اس سے وفاداری کااعلان کیاہے جس سے خلافت کے نام نہاد مرکزپربڑھتے ہوئے حملوں کے انتقام میں اسکے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کی نشاندہی ہوتی ہے۔
لیکن یہاں ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔داعش کوئی منظم اوریکجا مسلح تنظیم نہیں ہے جیسا کہ اس کے معذرت خواہ اورپرچارک ہمیں بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔مغربی میڈیا فرقہ وارانہ تنظیموں کی دہشت گردی اورانکی آپسی جنگوں میں نہ توفرق کرتاہے اورنہ ہی سمجھتاہے۔مثلاً جن گروہوں کووہ سُنی کہتے ہیں اُن میں دراصل وہابی،سلفی،بریلوی،دیوبندی اوردوسرے فرقے بھی شامل ہیں جوآپس میں اپنے بیرونی دشمنوں کی نسبت زیادہ وحشت کے ساتھ لڑرہے ہیں۔اسی طرح داعش اپنے ظلم وستم کی خوب تشہیر کرتی رہی ہے۔ایسے بہت سے دہشت گردگروہ ہیں جنہیں داعش نے نہیں بنایالیکن انہوں نے صرف اس برانڈ(داعش)کے نام کااستعمال کیاجس کی دہشت گردی کی منڈی میں بڑی مانگ تھی۔مغربی دانشور اورتجزیہ نگارداعش اوردوسری بنیاد پرست تنظیموں کے ابھارکی مادی اورسماجی ومعاشی وجوہات کونظریکسر اندازکرتے ہیں۔طارق رمضان ،جومسلمان پس منظررکھنے والاایک دانشورہے ،سے بعض مغربی دانشورشدیدنفرت کرتے ہیں۔وہ کہتاہے کہ مذہبی عقائد کی بجائے سیاسی اورمعاشی محرومیوں نے داعش جیسی تنظیموں کے جنم کے لیے راستہ ہموارکیاہے۔لیکن اس انتہاپسندی کے ابھارکی یہ اکلوتی وجہ نہیں ہے۔کالے دھن کے معاشی چکرکوخود مغربی سامراجیوں نے ہی جنم دیاتھا۔اس کی بنیادمنشیات کی تجارت،بھتہ خوری،اغوابرائے تاوان اوردوسرے سنگین جرائم تھے تاکہ افغانستان میں سی آئی اے کے خفیہ آپریشن کے لیے فنڈجمع کیاجاسکے۔انہوں نے 1978ء کے ثورانقلاب کوکچلنے کے لیے ایک رجعتی ڈالرجہادکی تخلیق کی۔اب یہ ایک دہشت گردمعیشت میں تبدیل ہوچکی ہے اورمغربی ایشیا،مشرق وسطیٰ اوراس کے پاراس کی وحشت وبربریت کی مارکیٹنگ ہوتی ہے۔ریاستوںکے اندر موجود دولت مند اور طاقتور ریاستیں ان بھاڑے کی تنظیموں پربولی لگاتی ہیں اور خرید کر یا کرائے پرلیکران سے اپنی پراکسی جنگیں لڑتی ہیں۔دہشت گردوں کی مالی معاونت کایہی سب سے بڑاذریعہ ہے۔
دہشت گردی کے اس جان لیواسرطان کومحض وحشیانہ فوجی آپریشن اورفضائی بمباری سے ختم نہیں کیاجاسکتا۔دوسری طرف ان وحشی قوتوں سے مذاکرات یاان پراعتبار بھی نہیں کیاجاسکتا۔لیکن خطے اورعالمی سطح پردوسرابڑامسئلہ وہ سامراجی ممالک ہیں جواپنے سامراجی اورمالی مفادات کے لیے ان وحشی عفریتوں کوتخلیق کرتے ہیں۔یہ عمل مسلسل جاری ہے اورعرب بادشاہتوں اوردوسری ریاستی طاقتوں کوان بربادیوں اوروحشتوں کوپھیلانے پرکوئی افسوس یاشرمندگی نہیں ہے۔یہ حکمران ٹولے اپنی جنگوں کے لیے ان پراکسی جنگوں کوفی الحال ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔اس سے ان ممالک میں حالات مزیدپیچیدہ اورپہلے سے زیادہ خطرناک بن گئے ہیں۔
شام میں رقہ پر قبضے کے لیے جنگ پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔لیکن داعش کے خلاف نبردآزمافوجیں خودایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں۔کُردوں کی سربراہی میںامریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز(SDF)سے لیکر ترک حمایت یافتہ مذہبی انتہاپسند وں تک اورسب سے بڑھ کرروس اورایران کی حمایت یافتہ شامی نیشنل آرمی سب آپس میں مختلف محاذوں پرلڑتے رہے ہیں۔اس لیے اگررقہ 'آزاد‘ بھی ہوتاہے توپوراشہر مکمل انتشارمیں ہی ہوگا۔ 
ان عرب بادشاہتوں کی بے تحاشا دولت اوربے ہودہ اورپر تعیش طرز زندگی ان غیر مستحکم ریاستوں اور معیشتوںکی وجہ سے ہے جو خود اب بحران کی زد میں ہیںاورجو سامراجیوں کی تیل کی ہوس سے مزید گہرا ہو رہا ہے۔ ان کی اس دولت نے مشرق وسطیٰ کے عوام کوصرف غربت اورمحرومی ہی دی ہے۔ لیکن اب ان کے مفادات کا ٹکرائو ان ریاستوں کے نامیاتی بحران کی بھی غمازی کررہا ہے۔ سامراج بھی ان کی جابرانہ حکومتوں کو بچانے کی کیفیت میں نہیں ہے۔ داعش اور دوسری بنیاد پرست تنظیمیں انہی تضادات پرپلتی ہیں، ان وحشیوں کی مالی پشت پناہی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن سامراجی ان پس پردہ طاقتوں کو بے نقاب کرنا تو درکنار چھونے کی بھی جسارت نہیں کر سکتے۔ مظلوم عوام کی بغاوت کی جو ایک جھلک انقلابی ابھار کے دنوں میں دیکھی گئی تھی ،اس انقلاب کی پسپائی نے وقتی طور پر اس کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
اس پسپائی سے ان سماجوں میں موجود جمود اور بے چینی نے رجعتی رجحانات کو پنپنے کا موقع دیا ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں داعش اور دوسرے گروہوں کا ابھار نظر آتا ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی بربریت اور سماجی معاشی محرومی کی اس کیفیت میں سماجی زندگی کے لیے حالات ناقابل برداشت ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام ‘ بہت سوں کی توقعات کے برعکس جلد اٹھیں گے۔ ایک انقلابی قیادت کی موجودگی میں یہ عوامی لہر داعش، القاعدہ، النصرہ اور دوسرے سرطانی گروہوں کو ہزاروں سال کی تہذیب کے حامل سماجوں سے اکھاڑ کر پھینک دے گی۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved