تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-07-2017

سرحد پار سے کچھ رسالے

امروز
اسے علی گڑھ سے ابوالکلام قاسمی نکالتے ہیں۔ زیر نظر کتابی سلسلے کا یہ دوسرا شمارہ ہے جس کی قیمت 200 روپے رکھی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک معیاری ادبی پرچہ ہے جس میں نئے پرانے لکھنے والوں نے رونق لگا رکھی ہے۔ حصہ مضامین میں شمس الرحمن فاروقی‘ آصف اسلم فرخی‘ محمد حمید شاہد‘ مبین مرزا‘ خالد جاوید‘ مصحف اقبال‘ توصیفی اور جمال اویسی جیسے نام شامل ہیں‘ افسانوں میں صدیق عالم‘ مبین مرزا‘ محمد حمید شاہد اور علی اکبر ناطق جبکہ حصہ شعر میں سدرہ سحر عمران‘ فرحت احساس‘ پرتاپ سنگھ بیتاب‘ عرفان ستار‘ جلیل عالی‘ ذوالفقار عادل‘ ضیاء المصطفیٰ ترک اور یہ خاکسار شامل ہیں۔ تعارف و تبصرہ کی نگارشات ان کے علاوہ ہیں۔ سدرہ سحر عمران کی یہ نظم ملاحظہ کیجئے :
جنگل شہر کی طرف بھاگتا ہے
ہم زمین کھود کر ایک جنگل برآمد کرتے ہیں؍ اور سب سے مہنگی لکڑی کشتی میں بدل جاتی ہے؍ جنگل شہر کی طرف بھاگتا ہے؍ اور لوگ چیختے ہوئے سمندر میں کود جاتے ہیں؍ وہ سمندر...جو ہمیں کہیں گرا ہوا ملا تھا؍ ہم نے اُٹھا کر ایک پینٹنگ میں رکھ دیا؍ لہریں تمام درخت کاٹ کر اپنے ساتھ لے جاتی ہیں؍ اور خالی ڈبوں میں سے شہد نکال کر کھانے والے؍ اپنی آنکھیں اُبلنے کے لئے رکھ دیتے ہیں؍ بھنبھناتی ہوئی مکھیاں؍ ان کے تلوے چاٹتی ہیں؍ اور پھٹی ہوئی ایڑیوں کی دراڑیں ؍ شہد سے بھرنے لگتی ہیں؍ ان کے پائوں کہیں اور نہیں جا سکتے؍ لیکن ہمارے ہاتھ ان رسیوں سے دراز ہیں ؍ جو ہمیں درخت سے باندھنا چاہتی ہیں؍ اور ہماری زبان... اس کلہاڑی سے زیادہ تیز؍ جس کا پھل اندھیرے میں چمکتا ہے...اور‘ اب حصہ غزلیات میں سے کچھ اشعار :
عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے
اتنے زندہ ہیں کہ مارے بھی نہیں جا سکتے
یہ میرا کچھ نہ ہونا درج کر لو
اگر مردم شماری ہو رہی ہے (فرحت احساس)
نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں
غرب مرے جنوب میں‘ شَرق مرے شمال میں (ذوالفقار عادل)
ہزاروں باراس کو گردشوں میں چھوڑ آتا ہوں 
مگر وہ میری قسمت کا ستارہ ہو ہی جاتا ہے (نوشاد احمد کریمی)
وہ میں نہیں تھا مگر کوئی مجھ سا ہو بہو نکلا
جو میں نے میں کو نکالا تو اس میں تو نکلا (افضال نوید)
میرے گریہ سے نہ آزار اُٹھانے سے ہُوا
فاصلہ طے مرے دیوار اُٹھانے سے ہوا (ضیاء المصطفیٰ ترک)
اور پھر زندگی کی گاڑی سے
راستے میں اُتر گیا تھا میں (عمر فرحت)
سہ ماہی تفہیم (راجوری) جموں و کشمیر
اس کے سرپرست شمس الرحمن فاروقی اور مدیران ڈاکٹر لیاقت جعفری اور عمر فرحت ہیں حصہ نثر میں شمس الرحمن‘ فاروقی‘ قاضی جمال حسین‘ محمد حمید شاہد‘ مبین مرزا‘ عمران شاہد بھیئو‘ اقتدار جاوید‘ قاسم یعقوب‘ مہر افشاں فاروقی‘ علی اکبر ناطق اور حصہ غزل میں شمیم حنفی‘ فرحت احساس‘ آفتاب حسین‘ خالد اقبال‘ یاسر‘ لیاقت جعفری‘ الیاس بابر اعوان و دیگران۔ حصہ نظم میں ستیہ پال آنند‘ نصیر احمد ناصر‘ انور مبین رائے‘ ابرار احمد‘ زاہد امروز و دیگران۔ حصہ غزل میں سے کچھ اشعار :
نہایت بیش قیمت وقت تھا میں
مگر مجھ کو گزارا جا چکا تھا
صلیب اب پھر اکیلی پڑ گئی تھی
مجھے نیچے اُتارا جا چکا تھا (لیاقت جعفری)
اور اب زاہد امروز کی یہ نظم :
آدمی کائناتی کیفے کا کوڑے دان ہے
آدمی کہتا ہے؍وہ تنہائی پر بھاری ہے؍ اس بھاری پن سے ہلکی کوئی بات نہیں؍ آدمی آدمیوں سے ملتا ہے؍ آدمی کافی خانوں میں جاتا ہے؍ شور زدہ موسیقی ہے؍ اجنبیت کا میلہ ہے ؍ سامنے والی میز تک؍ میلوں کی دُوری ہے؍ شو کیسوں میں رکھے کیک زیادہ سوشل ہیں ؍ آدمی کافی کے تخموں کی طرح زمانے کی چکی میں گرتا ہے؍ اور میلوں دُور پڑے میزوں میں بٹ جاتا ہے ؍ پھر بھی آدمی خوش ہوتا ہے؍ اے سی کمروں اور زنانہ جسموں کی گرمائش میں؍ آدمی مہنگی پیسٹریوں کی طرح مسکراتا ہے؍ آدمی آدمی کو دیکھتا ہے ؍ غرض کی پیالی بھر مٹھاس کے لئے؍ شکر کی پڑیا کی طرح؍ آدمی آدمی کو برت لیتا ہے؍ خالی بوتل کی طرح؍ آدمی آدمی کو پھینک دیتا ہے۔
کتابی سلسلہ استفسار (جے پور)
یہ جریدہ شین کاف نظام اور عادل رضا منصوری کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔ آغاز میں ن م راشد کا وہ مقدمہ ہے جو انہوں نے فیض احمد فیض کے پہلے مجموعے نقش فریادی کے لئے لکھا تھا۔ اس کے بعد صادق نے قرۃ العین حیدر کی یادوں کو تازہ کیا ہے۔ مزید نثر نگاروں میں عتیق باللہ‘ علی احمد فاطمی‘ محمد افتخار شفیع‘ قاضی عبیدالرحمن ہاشمی‘ محمد اسلم پرویز‘ محمد غالب نشتر اور ندیم احمد جبکہ شعراء میں گلزار‘ ستیہ پال آنند‘ نصیر احمد ناصر‘ رفیق سندیلوی‘ فیصل ہاشمی‘ خالد کرار‘ شہزاد سرمدی‘ غلام حسین ساجد‘ رفیق راز‘ شاہین راشد طراز اور دوسرے‘ جبکہ افسانوں میں عبدالصمد‘ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری‘ نعیم بیگ اور بنت مسعود ہیں۔ حصہ غزل میں سے کچھ اشعار دیکھیے :
گھر سے تو نکلتے ہیں مکاں سے بھی نکلتے
اے کاش کبھی قریۂ جاں سے بھی نکلتے
آسان نہیں دامِ محبت سے نکلنا
دیوار نکل آتی جہاں سے بھی نکلتے (غلام حسین ساجد)
اک نہ اک موجِ محبت میں بہرحال رہے
پی نہ سکتے ہوں تو پانی کی زیارت کی جائے (ارشد عبدالحمید)
آج کا مقطع
کیچڑ اِتنا تھا محبت کا ظفرؔ
پائوں لتھڑے ہوئے ہیں‘ ہاتھ خراب

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved