تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     26-07-2017

جونا گڑھ کا قاضی، دکن کا مولوی

پرانی کتابیں خریدی تھیں۔ ان کا بنڈل ابھی ڈاکیا دے گیا ہے۔ اسے کھول کر پڑھنا شروع کیا ہے۔
اس سے پہلے نواز شریف صاحب کا سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا نیا بیان پڑھ رہا تھا‘ جس میں انہوں نے معصومیت سے بتایا کہ جو بھی پیسہ ادھر ادھر ہوا‘ اس میں ان کا قصور نہیں ہے۔ چند لوگوں سے غلطیاں ہوتی رہی ہیں، وہ ذمہ دار نہیں ہیں‘ چاہے کروڑں روپے چوہدری شوگر مل سے ان کے اکائونٹ میں آ جائیں یا پھر بینک کا ملازم فارم بھرتے وقت اکائونٹ میں چیف ایگزیکٹو افسر لکھ دے، یا نیب کو پانچ کروڑ روپے جرمانے کی ادائیگی ہو یا مسلم لیگ نواز کو پندرہ کروڑ روپے کے تحفہ کی بات ہو۔ ان کے بقول سب چھوٹی موٹی غلطیاں ہو رہی تھیں۔ 
میں نے وہ جواب ایک طرف رکھ کر انجمن ترقی ٔ اردو کے رسالے قومی زبان کے بابائے اردو نمبر کے اوراق کو کھنگالنا شروع کر دیا۔ یہ اگست 1963 کا شمارہ ہے جس میں مولوی عبدالحق کے بارے میں تحریریں شامل ہیں۔ اس میں باقی تحریریں تو مولوی صاحب کی اردو کی ترقی کے حوالے سے خدمات کے بارے ہیں لیکن دو چیزوں نے میرا گربیان پکڑ لیا ہے۔ ایک قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی پر مضمون ہے جو قاضی محمد اختر نے لکھا ہے اور دوسرا مولوی عبدالحق کا اپنا ایک خط ہے جو انہوں نے قاضی صاحب کو ہی لکھا تھا۔ خط ملاحظہ فرمائیں: 
''قاضی صاحب! سلام‘ مشیر تعلیم کی ملاقات کے وقت آپ بھی موجود تھے۔ ان کے انداز گفتگو سے اندازہ ہو گیا تھا کہ انجمن ترقی ٔ اردو کو حکومت سے امداد کی زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ سال ختم ہونے کو ہے اور اب تک انجمن کو مطلق کوئی امدادی رقم نہیں ملی۔ اگر ملی بھی تو وہ اتنی کم ہو گی کہ اس سے انجمن کا کچھ بھلا نہیں ہو گا۔ انجمن نے ادبی و علمی کاموں کی جو تجاویز پیش کی تھیں ان کے متعلق بھی اب تک کوئی جواب وصول نہیں ہوا۔ غالباً حکومت کے پیش نظر اور بڑے بڑے کام ہیں اور انجمن کے کام کو قابل اعتنا نہیں سمجھتی اور شاید اس کی نظر میں ان کاموں کی کچھ زیادہ قدر بھی نہیں حالانکہ ساری مملکت میں یہ واحد ادارہ ہے جو حقیقی علمی و ادبی کام کر رہا ہے۔ 
حکومت ایک بڑی مشین ہوتی ہے ۔ مشین میں جذبات نہیں ہوتے۔ حکومت کے کارفرما اور کارکن اس مشین کے کل پرزے ہیں جو اپنے کارخانے کی مشین کی طرح احساس‘ جذبات اور درد سے خالی ہیں۔ اس لیے وہ ادبی اور علمی کارگزاریوں کو اس نظر سے نہیں دیکھ سکتے‘ جن کی وہ مستحق ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی عصبیت کا جذبہ‘ جو پاکستان بننے کے بعد زیادہ قوی ہوتا جا رہا ہے‘ اکثر اوقات ان کاموں میں رکاوٹ اور تاخیر کا باعث ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ خطرناک ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں چھا رہا ہے۔ ان حالات میں انجمن کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ سرمایہ نہ ہونے سے جو منصوبے پیش نظر ہیں وہ ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں۔ بہت سی علمی کتابوں اور لغات کے مسودے اشاعت کے انتظار میں پڑے ہیں۔ علمی اصلاحات کا کام نامکمل رہ گیا ہے۔ انجمن مقروض ہے۔ روزمرہ کے کام انجا دینا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ اب تک برا بھلا کام جو کچھ بھی ہوا محض ہمت کے بل بوتے پر ہوتا رہا۔ اب وہ بھی جواب دیتی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا میں نے یہ ارادہ کیا کہ پنشن کی رقم جو حکومت کی فیاضی و قدردانی اور جناب فضل الرحمن صاحب کی عنایت اور ہمدردی سے مجھے عطا ہوئی ہے‘ وہ انجمن کی نذر کر دوں۔ یہ بہت حقیر رقم ہے تاہم اگر اس سے انجمن کا ایک ادنیٰ سا کام بھی انجام پا گیا تو میرے لیے مسرت و اطمینان کا موجب ہوگا۔ مجھے پنشن کے قبول کرنے میں بہت پس و پیش تھا۔ اگر عین وقت پر فضل الرحمن کا مہر آمیز اور ہمدردانہ خط نہ آجاتا تو میں غالباً انکار کر دیتا۔ میں پاکستان کی خدمت کرنے آیا تھا۔ میری غیرت گوارہ نہیں کرتی کہ میں اس پاکستان پر بار ہوں۔ اس لیے میری رائے میں میری اس پنشن کا مصرف اس سے بہتر نہیں ہو سکتا کہ وہ انجمن کے کام آئے۔ میں نے اپنی ضروریات بہت کم کردی ہیں اور مزید کم کرسکتا ہوں۔ ابھی مجھ میں اتنی توانائی ہے کہ اپنی قوت لایموت پیدا کر سکوں۔ میں نے زندگی کی بہت بہاریں دیکھی ہیں۔ ہر بہار کے بعد خزاں لازم۔ اس کی بہار دیکھنی باقی ہیں۔ فی الحال میں ماہ جنوری 1952 سے نصف پنشن انجمن ترقی کو پیش کروں گا۔ چند ماہ بعد مجھے ایک ایسا کام مل جانے کی توقع ہے جس سے مجھے کم و بیش ڈیڑھ سو روپے ماہانہ مل سکیں گے اور یہ میری گزر اوقات کے لیے کافی ہوں گے۔ اس کے بعد پوری پنشن انجمن کو پیش کر دیا کروں گا۔ اس سے قبل جس قدر رقم مجھے وصول ہوئی ہے وہ بھی رفتہ رفتہ ادا کر دوں گا۔ ظاہر ہے انجمن کا کام اس معمولی رقم سے نہیں چل سکتا۔ احباب کے مشورے سے کچھ اور تدبیریں کی جائیں گی یا پھر اس کام کو خدا حافظ کہنا پڑے گا۔ (مولوی عبدالحق)
اب اسی شمارے میں قاضی احمد میاں جونا گڑھی پر لکھے گئے مضموں سے چند اقتباسات: 
قاضی صاحب جونا گڑھ ریاست میں 1897 میں علمی اور جاگیردارانہ فضا میں پروان چڑھے۔ بچپن ہر قسم کی نعمت و آسائش میں بسر ہوا۔ بڑے ہوئے تو بیک وقت پانچ زبانوں کے ماہر ہوگئے۔ طب اور موسیقی میں بھی مہارت پائی۔ دھیرے دھیرے ادب کی تحریروں کی طرف راغب ہوئے۔ وہ ایک موروثی جاگیردار تھے اور روپے پیسے کی فراوانی تھی۔ ہزاروں کتابیں خرید کر ایک عظیم الشان ذاتی لائبریری' کتب خانہ‘ قائم کی۔ جوناگڑھ دربار میں انہیں نمایاں حیثیت تھی۔ نواب جونا گڑھ ان کی رائے کا احترام کرتے۔ وہاں بہت علمی اداروں کی مدد کرائی۔ قومی تحریکوں کے لیے چندے دیے۔ جونا گڑھ کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرانے کے لیے بہت کوششیں کیں اور یہی وجہ تھی جب ہندوستان تقسیم ہوا تو انہیں جونا گڑھ چھوڑنا پڑ گیا۔ اپنا گھر، جاگیر، جائیداد سب کچھ چھوڑ دیا اور بے سروسامان پرتگالی جزیرہ‘ دیو میں پناہ لینے کے بعد 1948 میں کراچی پہنچے۔ اس حالت میں بھی انہیں اگر کسی چیز کی فکر تھی تو اپنی ہزاروں کتابوں کی‘ جو جونا گڑھ رہ گئی تھیں۔ کسی طرح انہیں کراچی منگوایا گیا اور انہیں سکون ملا۔ ان کی دنیا ہی بدل گئی تھی لیکن وہ نہ بدلے۔ کراچی میں انجمن ترقی ٔ اردو سے منسلک ہوگئے۔ قاضی صاحب بے حد شگفتہ طبع اور خوش مزاج انسان تھے۔ غصہ انہیں چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔ اپنی اولاد سے بے انتہا محبت کرتے اور خصوصاً بچوں کی والدہ کے انتقال کے بعد بچوں کو دیکھ کر ہی آنکھوں میں آنسو آجاتے۔ انیس سو تریپن میں انجمن کو چھوڑ کر وہ سندھ یونیورسٹی چلے گئے جہاں انیس سو پچپن میں انتقال ہوا۔ 
اسی مضموں میں مولوی عبدالحق لکھتے ہیں ''قاضی صاحب کی وفات سے ایک بڑا صدمہ یہ ہوا ان کے چھوٹے چھوٹے بچے بے سہارا ہوگئے اور ان کی پرورش والا کوئی نہ رہا۔ قاضی صاحب کی وفات کے تیسرے یا چوتھے روز ان کے بچے دو فارم لے کر میرے پاس آئے‘ جن میں فیس معافی کی درخواست تھی اور میری تصدیق کی ضرورت تھی۔ یہ فارم دیکھ کر میرے دل پر چوٹ لگی۔ جو کل تک سینکڑوں حاجت مندوں کی مدد کرتا تھا، آج اس کے بچے فیس معافی کے لیے درخواستیں لے کر پھر رہے تھے‘‘۔
میں نے قومی زبان کا 54 سال پرانا شمارہ واپس رکھ کر نواز شریف صاحب کے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے نئے بیان کو پڑھنا شروع کیا‘ جو انہوں نے وکیلوں کو کروڑ روپے فیس دے کر لکھوایا تھا کہ ان کی دنیا بھر میں پھیلی اربوں روپوں کی جائیداد کا جواز ڈھونڈیں اور جتنے جھوٹ گھڑنے پڑیں، وہ کھل کر گھڑیں۔
جونا گڑھ کا قاضی ہو، حیدر آباد دکن کا مولوی یا پھر جاتی امرا کے یہ شریف لوگ... خدا بھی کیسے کیسے لاجواب کردار تخلیق کرتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved