تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     05-08-2017

پاکستان کی نرالی جمہوریت

پاکستان کے مردِ جذبات ، جنا ب رضا ربانی ، آنسو بہانے میں دیر نہیں لگاتے۔ اکیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے جب فوجی عدالتوں کے قیام کی راہ ہموار ہو رہی تھی تو انہوں نے سینیٹ میں ووٹ تو ڈالا لیکن آنسو روک نہ سکے۔ ان کے آنسو ان کی جمہوریت سے وابستگی کی علامت ہیں۔ اب وہ ایک بار پھر غمگین ہیں۔ کہتے ہیں: پارلیمنٹ بے اثر اور بے توقیر ہو کے رہ گئی ہے۔ 
درست فرمایا‘ پر ان سے پوچھا جائے کہ Westminster جمہوریت کی کون سی تشریح اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ اگر آپ کا محل کراچی کے بوٹ بیسن پہ واقع ہو تو آپ زورِ بازو سے آس پاس کے تمام بنگلے خرید لیں؟ اور اگر جمہوریت اپنا مسکن اسلام آباد کے سیکٹر F-8 میں بنائے، یعنی وہاں بھی ایک بلاول ہاؤس کھڑا ہو جائے، تو ساری کی ساری گلی خرید لی جائے؟ اور اگر ہم رائے ونڈ کے شیروں کے طرف آئیں تو کون سی یونانی ، اسلامی یا مغربی جمہوریت کا سبق ہے کہ آپ اقتدار میں آئیں تو ایسی لوٹ مار مچائیں کہ جمہوریت بھی دنگ رہ جائے؟ کون سے مفکرِ اعظم کی تخلیق میں یہ درج ہے کہ آپ سے چھپی ہوئی دولت کے بارے میں سوال کیا جائے اور آپ قطر سے الف لیلہ کی ایک نئی جلد اٹھا کے لے آئیں؟
انگریز سامراج نے ہمیں جمہوریت کا تحفہ دیا، نہیں تو ہمیں اس کے الف، ب کا بھی پتہ نہ تھا۔ اب ہماری لبرل بریگیڈ اور اس انواع کے دوسرے دانشور جمہوریت کے بارے میں ایسی والہانہ عقیدت کا اظہار کرتے ہیں کہ گمان گزرتا ہے کہ جمہوریت ہماری تخلیق ہے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ جمہوریت جہاں سے بھی آئے ہمارا دستوری نظام اسی پر استوار ہونا چاہیے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن یہ تو پوچھا جا سکتا ہے کہ کون سی جمہوریت اس پیمانے پر ہیرا پھیری اور جھوٹ کی اجازت دیتی ہے؟
پارلیمنٹ کچھ کرنے کے قابل نہ ہو اور پاناما جیسی آسمان سے گری ہوئی بجلی مجبوراً سپریم کورٹ کے سامنے آئے اور وہاں کے جج صاحبان لمبی کارروائی کے بعد اور تمام مہلتیں فراہم کرنے کے بعد فیصلہ سنائیں تو وہی لبرل بریگیڈ آسمان کو سر پہ اٹھانے کی کوشش کرے۔ کیا سپریم کورٹ کہیں باہر سے درآمد ہوئی ہے؟ کیا اسے کسی بیرونی حملے کے نتیجے میں ہم پر مسلط کیا گیا ہے؟ کیا سپریم کورٹ کا وجود اور اس کا دائرہ اختیار آئین کا حصہ نہیں؟ اگر ایسا نہیں تو پھر شور کیسا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ شور وہ عناصر مچا رہے ہیں‘ جن کی سیاسی بلوغت آمریت کی کوکھ سے شروع ہوتی ہے۔ صحافت کے ایسے علمبردار جو 1970ء کی دہائی میں جمہوریت کے خلاف اور جنرل ضیاء الحق کے صف اول کے پیروکار تھے‘ اب جمہوریت کے لئے آنسو بہا رہے ہیں۔ صرف اس لئے کہ ان کی محبوب قیادت کو سپریم کورٹ نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
سپریم کورٹ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھائے تو ٹھیک۔ نواز شریف کی حکومت کو بحال کرے تو وہ کارنامہ تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہونے کے لائق۔ اعلیٰ عدالتیں شریفوں کے خلاف تمام کیسز ختم کریں، حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کو تقریباً دفنا دیں، اسحاق ڈار کا منی لانڈرنگ کے حوالے سے بیسیوں گز لمبا اعترافی بیان نظر انداز کر دیں، تو وہ ستائش کی مستحق۔ پاناما پیپرز پر فیصلہ آئے تو جمہوریت خطرے میں پڑ جائے اور انصاف کا قتل ہو جائے۔ یہ ہے منطق ہمارے آج کے جمہوریت نوازوں کی۔
ن لیگی حلقے، لبرل بریگیڈ اور میڈیا کے چند طاقتور ستون یہ تاثر پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں کہ یہ جمہوریت کی جنگ ہے۔ ان کا بس چلے تو میاں نواز شریف کو جارج واشنگٹن اور ابراہم لنکن کا جانشین قرار دے دیں۔ کرپشن اور لوٹ مار نامی چیزیں انہیں نظر نہیں آتیں۔ افواج کے بارے میں بغض ان کے دلوں سے جاتا نہیں۔ سول عدالتیں دہشت گردی کے ضمن میں کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔ مجبوراًَ فوجی عدالتوں کے قیام کا سوچا جاتا ہے تو لبرل بریگیڈ چیخ اٹھتا ہے کہ یہ بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔ سول حکومتیں دہشت گردی کے بارے میں کچھ نہیں کر پاتیں۔ دہشت گرد قوتوں سے نبرد آزما ہونے کی بجائے ان سے سمجھوتہ کرتی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا ناٹک رچایا جاتا ہے۔ افواج خود سے فیصلہ کرکے دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کرتیں ہیں اور بیش بہا قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دہشت گردی کو بہت حد تک کچلنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو لبرل بریگیڈ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا۔ فاٹا سے ٹی ٹی پی کا تسلط ختم ہوتا ہے اور کراچی میں الطاف حسین کی دہشت کوختم کرکے شہر کی روشنیاں اور رونقیں بحال ہوتی ہیں تو عصر حاضر کے جمہوریت نوازوں کی آنکھوں سے یہ عوامل بھی اوجھل رہتے ہیں۔
دیگر ممالک میں بھی فوجی آمریتیں رہی ہیں۔ سپین میں جنرل فرینکو کا اقتدار دہائیوں تک قائم رہا۔ پرتگال میں سلا زار کی آمرانہ حکومت تیس سال سے زیادہ زندہ رہی۔ یونان میں فوجی حکومت نے جمہوری قدروں کو کچلا۔ چلی میں جنرل پنوشے نے آمریت کا ایک خاص نمونہ پیش کیا۔ لیکن ان تمام ممالک نے آمریتوں کو بہانہ بنا کے استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی قومی زندگیوں میں وہ ادوار پیچھے چھوڑے اور نئی راہیں تلاش کیں۔ ہمارا حال عجیب ہے۔ آمریت کی سیاہ رات ڈھل چکی۔ جمہوری حکومتیں آئیں جنہیں سب کچھ کرنے کا موقع میسر آیا‘ لیکن پاکستان کو آگے لے جانے کے بجائے آمریت کو ایک بہانہ بنا کے پیش کیا گیا۔ آئین کی شقیں 62 اور 63 کے بارے میں بڑا شور مچایا جا رہا ہے۔ انہیں پارلیمنٹ نے کیوں ختم نہیں کیا؟ اٹھارویں آئینی ترامیم میں بہت کچھ غیر ضروری رکھا گیا۔ اگر 62 اور 63 میں قباحتیں ہیں تو انہیں کیوں نہ ختم کیا گیا؟
کھل کے بات کر نہیں سکتے۔ افواج کا نام لے نہیں سکتے لیکن شرارت بھی مقصود ہے۔ اس لئے سازش کا عندیہ تواتر سے دیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے دو ہدف ہیں: (i) اعلیٰ عدلیہ اور (ii) افواج۔ سپریم کورٹ میں تو مسئلہ بہت بعد میں آیا اور جے آئی ٹی آخر میں بنی۔ پورا سال پڑا تھا جس میں جمہوریت کے پروانے پاناما پیپرز سے افشا رازوں کے بارے میں کوئی ڈھنگ کا دفاع تیار کر سکتے تھے۔ بہت موقع دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے تو کمال صبر کا مظاہرہ کیا۔ ملک کے چوٹی کے وکیل بھرتی کیے گئے۔ لیکن جب کہنے کو کچھ نہ تھا تو لائق ترین دماغ کیا جوہر دکھاتے؟
یہ جمہوریت کی جنگ نہیں بلکہ ماضی کے سیاہ بادلوں سے نجات حاصل کرنے کی جستجو ہے۔ وہ جمہوریت جو جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد پیدا ہوئی‘ اس نے اپنی زندگی پوری کر لی ہے۔ نواز شریف مخصوص حالات کی پیداوار تھے۔ وہ حالات بدل چکے، زمانہ آگے کو نکل چکا۔ ان نئے حالات کا تقاضا ہے کہ قوم ماضی کے منفی رجحانات سے نجات حاصل کرے اور آگے کی طرف بڑھے۔ پرانی قوتوں کا سب کچھ موجودہ جاری کشمکش میں لگا ہوا ہے۔ ان کا ڈر فطری ہے کہ شکست کی صورت میں سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اس لئے وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتنی شدت سے لڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
لیکن کیا تاریخ کا پہیہ پیچھے موڑا جا سکتا ہے؟ کیا پاکستان کے مقدر میں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں؟ سپریم کورٹ کا فیصلہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں۔ ایک سوال پوچھنا بنتا ہے۔ جس مقصد کا پرچار میڈیا کے سب سے فرسودہ حصے کر رہے ہیں، اس فرسودگی کو دیکھیے تو مقصد میں کتنی صداقت ہو سکتی ہے؟

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved