تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     21-08-2017

وقت بچانا درست ہے، مگر …

ہر دور کا انسان ایک بنیادی مقصد کے لیے کوشاں رہا ہے ... یہ کہ زندگی میں ہر قدم پر آسانیاں ہوں، کچھ بھی کرنے کے لیے کچھ زیادہ نہ کرنا پڑے۔ آسانیاں تلاش کرتے رہنا اچھی بات ہے۔ زندگی کو آسان ہی ہونا چاہیے۔ کسی بھی معاملے میں غیر ضروری طور پر مشکلات سے دوچار رہنا کسی بھی اعتبار سے کوئی پسندیدہ بات نہیں۔ ساری دنیا میں زیادہ سے زیادہ آسانیاں یقینی بنانے کی دوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ 
زندگی کو آسان سے آسان تر بنانے کی تگ و دو اپنی جگہ بالکل درست اور قابل ستائش سہی مگر ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ آسانیوں سے کیا ہوتا ہے؟ زیادہ سے زیادہ سہولتیں یقینی بنانے سے کیا زندگی آسان ہوجاتی ہے؟ مشکلات سے بچنے کی کوشش کیا واقعی زندگی کو سہل بنانے میںکامیاب رہتی ہے، اُس کا معیار بلند ہوتا ہے؟ 
تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی انسان نے اپنے لیے آسانیاں یقینی بنانے کی کوشش کی ہے، مشکلات نے اُس کا بھرپور تعاقب کیا ہے۔ انسان زندگی بھر آسانیوں کی تلاش میں رہتا ہے اور مشکلات اُس کا پیچھا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ آسانیوں کے بڑھنے سے مشکلات بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ 
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں ہر طرف آسانیاں ہی آسانیاں اور اُن سے کہیں زیادہ مشکلات ہی مشکلات ہیں! تحقیق کا بازار گرم ہے۔ ہر طرف لوگ اِس کوشش میں جُتے ہوئے ہیں کہ زندگی کے ہر معاملے کو زیادہ سے زیادہ آسان بنادیں۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ گویا بڑی مشکل سے آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آسانیوں نے ہمیں کیا دیا ہے؟ کیا ہماری زندگی میں مجموعی طور پر ایسا کچھ پیدا ہوا ہے، سامنے آیا ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکے کہ زندگی بسر کرنا آسان ہوگیا ہے؟ ایمان داری کی بات تو یہ ہے کہ ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ سہولتیں بڑھتی جارہی ہیں اور اُن کے ساتھ مشکلات بھی دوچند ہوتی جارہی ہیں۔ اصغرؔ گونڈوی نے کہا تھا ؎ 
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے 
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے! 
یہ بات جتنی عجیب لگتی ہے اُتنی ہی سچ ہے۔ زندگی کا حُسن مشکلات سے نبرد آزما ہونے میں ہے۔ ہر انسان کے لیے زندگی کا حقیقی لطف اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ مشکلات پر قابو پاکر اپنے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ سب کچھ اچھا چل رہا ہو تو زندگی کے رنگ پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ چیلنجز کا سامنا کرنے اور اُنہیں شکست دینے ہی سے زندگی معنویت پاتی ہے۔ 
آج کی دنیا میں ہر طرف سہولتوں کا چرچا ہے۔ ہر کام کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانے کے لیے بازار میں نئی نئی چیزیں آتی رہتی ہیں۔ یہ زمانہ ''ملٹی ٹاسکنگ‘‘ کا ہے یعنی ایک ہی چیز کئی کام کرتی ہے یا پھر ایک ہی پلیٹ فارم پر بہت سی سہولتیں جمع کرکے فراہم کی جارہی ہیں۔ موبائل فون سیٹ ہی کی مثال لیجیے۔ بات کرنے کے علاوہ یہ جامد اور متحرک تصویر بنانے، آواز ریکارڈ کرنے، گانے سُننے، فلمیں دیکھنے، گیمز کھیلنے، ضرورت کے مطابق بیدار کرنے کے کام آتا ہے۔ اور بھی کئی کام ہیں جو موبائل فون سیٹ کی مدد سے آسان کردیئے گئے ہیں۔ جب جی میں آئے، دنیا کے کسی بھی مقام پر بیٹھے ہوئے شخص سے بات کرلیجیے۔ 
سفر بھی آسان ہوگیا ہے۔ کئی دنوں میں جو فاصلہ طے ہو پاتا تھا وہ طیارے کے ذریعے ایک ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرلیا جاتا ہے۔ گھریلو سطح پر بہت سے کام اب نہایت آسانی سے کرلیے جاتے ہیں۔ کچن کے لیے ایسے کئی آلات میسر ہیں جو کھانا پکانے کے عمل کو آسان سے آسان تر بنارہے ہیں۔ 
مگر یہ سب کچھ مرزا تنقید بیگ سے ہضم نہیں ہو پارہا۔ وہ کہتے ہیں کہ آسانیوں نے الجھنیں بڑھادی ہیں۔ جب تک زندگی مشکلات سے دوچار تھی، انسان مزے میں تھا۔ اُس کے سامنے چیلنجز تھے جن سے نمٹ کر وہ بہتر زندگی کی راہ ہموار کرنے میں رہتا تھا مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے۔ مرزا کا استدلال ہے کہ انسان نے آسانیاں بڑھانے کی کوشش میں مشکلات کا حجم بڑھالیا ہے۔ 
کل کی بات ہے، ہم نے مرزا سے عرض کیا کہ آج کی دنیا میں ایسے بہت سے آلات موجود ہیں جو وقت کی بھرپور بچت کا اہتمام کر رہے ہیں۔ کل تک جو کام ایک ایک ہفتے میں ہو پاتا تھا وہ آج کل محض دو ڈھائی گھنٹے میں ہو جاتا ہے۔ اِسی طور پورا دن کھا جانے والا کام اب ایک آدھ گھنٹے میں کرلیا جاتا ہے۔ ایسی آسانیاں تو گزرے ہوئے زمانوں کے شہنشاہوں کو بھی میسر نہ تھیں۔ اُنہیں پیغام پہنچانے اور اُس کا جواب پانے کے لیے ایک ایک ماہ انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب خیر سے وڈیو کال بھی ہو جاتی ہے۔ ہماری معروضات سُن کر پہلے تو مرزا ''زیر لب کے نیچے‘‘ مسکرائے اور پھر ہونٹوں پر طنزیہ ہنسی سجاتے ہوئے بولے ''وقت کی بچت خوب ہے مگر بھائی، اِتنا سارا وقت کس لیے بچایا جارہا ہے؟ کیا اچار ڈالنا ہے؟ اللہ نے انسان کو 24 گھنٹے کا دن عطا کیا ہے۔ اگر اِس دن کو ڈھنگ سے گزارنا ہے تو ہر کام کے لیے ایک خاص حد تک وقت مختص کرنا پڑے گا۔ اُس حد سے زیادہ اور کم وقت دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ہو رہا ہے۔ مختلف آلات کے ذریعے وقت بچانا اچھی بات ہے مگر سوال یہ ہے کہ بچائے ہوئے وقت کا کیا بنتا ہے؟ اب تک ہم صبح نو سے شام پانچ بجے تک کی دنیا میں جی رہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے۔ کام پر آنے اور جان کے دو گھنٹے لگائے جائیں تو انسان مجموعی طور پر 14 گھنٹے فارغ رہتا ہے۔ اگر نیند کے 7 گھنٹے خارج کردیں تو بہرحال 7 گھنٹے کی خالص فراغت تو اب بھی میسر ہے۔ اب تم ہی بتاؤ اِن سات گھنٹوں میںہم کیا کرتے ہیں، سوائے فضول باتوں اور کاموں میں مشغول رہنے کے؟‘‘ 
ہم مرزا کا سوال سُن کر تذبذب میں مبتلا ہوگئے۔ یہ تو ہم نے سوچا ہی نہ تھا کہ زندگی کو آسان بنانے والے آلات کے استعمال سے جو وقت بچ رہتا ہے اُس کا ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم نے اپنے ماحول میں یہ دیکھا ہے کہ لوگ کام پر ڈیڑھ دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچتے ہیں اور پھر وہاں سے ایک آدھ گھنٹہ جلد نکل آتے ہیں! اس صورت میں جو وقت بچ رہتا ہے وہ اور معمول کے مطابق میسر ہونے والی سات آٹھ گھنٹے کی فراغت کو ملالیں تو زندگی میں فراغت ہی فراغت ہے مگر اِس کا مصرف کچھ بھی نہیں۔ زندگی کو آسان بنانے والی اشیاء کے استعمال کی بدولت بچ رہنے والا وقت ہماری زندگی کو مزید مشکل بنا رہا ہے کیونکہ اِس وقت کو موزوں طریقے سے بروئے کار لانے کا کوئی نظام ہمارے پاس نہیں۔ دولت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جتنی آسانی سے آتی ہے اُتنی ہی آسانی سے جاتی بھی ہے۔ یہی معاملہ وقت کا بھی ہے۔ اگر کوئی واضح اور حقیقی مصروفیت نہ ہو تو بچایا ہوا وقت ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ ہم وقت بچانے کی کوششوں میں تو مصروف رہتے ہیں مگر بچائے ہوئے وقت کو بہتر اور بارآور ڈھنگ سے بروئے کار لانے کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ اصغرؔ گونڈوی نے آسانیوں کے نتیجے میں زندگی کے دشوار ہو جانے کی بات شاید ایسی ہی کیفیت کے حوالے سے کہی تھی۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved