تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     22-08-2017

شادی کے ’’سائڈ ایفیکٹس‘‘

موتی چُور کا لڈو بھی عجیب چیز ہے۔ دیکھنے میں خوش نُما اور اُس سے پُھوٹنے والی خوشبو انتہائی اشتہا انگیز۔ مگر نزاکت ایسی کہ ہاتھ لگاتے ہی بکھرنے لگے۔ یہ لڈو کھانا شروع کیجیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی جنجال پورہ ہتھیلی پر دھر لیا ہے۔ انگلیوں سے تھامیے تو ٹوٹ کر زمین پر گر جائے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ اِس لڈو کو کھائیے یا صرف دیکھ دیکھ کر دل بہلائیے۔ شاید اِسی لیے شادی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ موتی چُور کا لڈو ہے کہ جو کھائے پچھتائے، جو نہ کھائے پچھتائے۔ 
بزرگوں سے (اُنہی کے تجربات کی روشنی میں) سُنا ہے کہ شادی کے بعد انسان بدل جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے مگر مکمل طور پر نہیں۔ ہم اپنے وجود کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم زیادہ نہیں بدلے مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم شادی شدہ نہیں۔ شادی کوئی جادو کا منتر تو ہے نہیں کہ پُھونکیے اور سب کچھ بدل ڈالیے۔ شادی سے بدلتا بہت کچھ ہے مگر رفتہ رفتہ۔ ؎ 
آتے آتے آئے گا دل کو قرار 
جاتے جاتے بے قراری جائے گی 
ہر معاملے میں جذباتیت کا مظاہرہ ہمارے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ اچانک تبدیل ہو جائے۔ جو بگاڑ برسوں، بلکہ عشروں میں پروان چڑھا ہو وہ بھلا دیکھتے ہی دیکھتے کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ شادی کے بعد بھی بیوی چاہتی ہے کہ شوہر کو بدل ڈالے اور شوہر کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ بیوی اُس کے اشاروں پر چلے، اُس کی ہر بات مانے۔ گویا ایک تماشا شروع ہو جاتا ہے اور لوگ ٹکٹ کے بغیر یعنی مفت میں اس تماشے سے محظوظ ہوتے ہیں! 
بھائی بابر مزاج کے گرم ہیں۔ یہ لفظ (گرم) ہم مروتاً استعمال کر رہے ہیں وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بات بات پر آگ بگولا ہو جانے کے عادی رہے ہیں۔ ہم جس اپارٹمنٹ کے کمپاؤنڈ میں سکونت پذیر ہیں اُس میں جب بھی شور شرابا اُٹھا ہے، بھائی بابر ضرور دکھائی دیئے ہیں مگر دو ڈھائی سال قبل شادی کے بعد کچھ ایسا ہوا کہ ہمارے جانے پہچانے وہ بھائی بابر ہی نہ رہے! 
ایک آدھ ہفتہ پہلے کی بات ہے۔ ہم رات کی ڈیوٹی کے بعد بھرپور نیند لے کر دن کے بارہ بجے بیدار ہوئے تو بیٹی صباحت نے رپورٹ دی کہ رات کمپاؤنڈ میں ہنگامہ ہوا تھا، بہت شور ہو رہا تھا۔ یہ سن کر ہمارے ذہن کے پردے پر بھائی بابر کا ہنستا ہوا نُورانی چہرہ نمودار ہوا۔ بیٹی نے ہمیں سوچ میں ڈوبا دیکھا تو سمجھ گئی اور زبانی رپورٹ میں فوراً توضیحی نوٹ داخل کیا ''بابا! حیرت کی بات یہ ہے کہ بابر بھائی تھے تو سہی مگر وہ لڑ کوئی نا رہے تھے، وہ تو چُھڑا رہے تھے!‘‘ 
ہم حیران ہو کر بیٹی کا منہ تکنے لگے۔ اِس مرحلے پر 1965 کی فلم ''ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کے ٹائٹل سانگ کا مکھڑا بے ساختہ یاد آ گیا۔ ع 
محبت میں، تِرے سر کی قسم، ایسا بھی ہوتا ہے! 
شادی کے سائڈ ایفیکٹس بے شمار ہیں۔ سب سے نمایاں اور چیختے چنگھاڑتے سائڈ ایفیکٹس ایک خاص مدت کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اور پھر بھاگ دوڑ کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں! بعض سائڈ ایفیکٹس ذرا سست رفتاری سے، سلو پوائزن کے اصول پر عمل کرتے ہوئے، نمودار ہوتے ہیں۔ یہ عمل اس قدر پُرسکون اور غیر محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو یقین ہی نہیں آتا کہ وہ بدل گیا ہے۔ شادی کے بعد کی زندگی انسان کو اِس طرح تبدیل کرتی ہے کہ وہ آئینے میں جھانک کر حیران رہ جاتا ہے ۔ع 
... پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی! 
ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ کراچی کے سیاسی افق پر خوں خوار تنظیموں کے ابھرنے سے پہلے محلے اور علاقے کی سطح پر بدمعاش ہوا کرتے تھے۔ یہ بدمعاش محدود پیمانے پر کام کرتے تھے۔ بدمعاشی بھی شرافت اور اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جاتی تھی یعنی چھوٹی موٹی وارداتیں اور مار پیٹ کے واقعات اِن بدمعاشوں کے مشاغل میں شامل تھے۔ اُڑان زیادہ بلند نہیں ہوتی تھی۔ بہت ہوا تو سینما کے دادا بن گئے اور پیدا گیری شروع کر دی۔ اِتنے میں بھی وہ بہت خوش رہتے تھے۔ قتل و غارت سے کچھ خاص رغبت دکھائی نہ دیتی تھی۔ 
جب سیاسی تنظیموں کے نام پر قتل و غارت کا کلچر عام ہوا تو سبھی کچھ داؤ پر لگ گیا۔ محلے اور علاقے کی سطح پر دادا گیری کی دکان چمکانے والوں کے بہرحال کچھ اصول ہوا کرتے تھے۔ لوگ اُنہیں بُرا ضرور سمجھتے تھے مگر بہت زیادہ بُرا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ کہیں کہیں وہ اگلے زمانوں کی شرافت کے نمونے بھی پیش کر دیا کرتے تھے۔ اِن نمونوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ بدمعاش بھی خاندانی ہو سکتے ہیں! 
مار پیٹ اور اُس کے بعد قتل و غارت کی سیاست رونما ہوئی تو بہت کچھ یوں گیا کہ اب شاید کبھی واپس نہ آئے گا۔ جو تھوڑی بہت تہذیب بچ رہی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ گن کلچر آیا تو چاقو اور چُھرے والی بدمعاشی ناکامی سے دوچار ہوئی۔ جب قتل و غارت عام ہوئی تو سینما پر دادا گیری کی بساط بھی لپٹ گئی۔ جو پیدا گیری کرتے تھے اور ہنٹر گھما کر تین چار سو کے مجمع کو کنٹرول کر لیا کرتے تھے‘ وہ بے چارے ناکامی و ذلّت سے دوچار ہوئے۔ بدلے ہوئے وقت کے ہاتھوں ہزیمت سے دوچار ہو رہنے والے کئی بدمعاشوں کو ہم نے بعد میں کارخانوں کی چوکیداری کرتے بھی دیکھا! 
جس طور خوں آشام، درندہ صفت سیاسی تنظیموں نے ''روایتی‘‘ یعنی کسی حد تک شرافت کے حامل بدمعاشوںکو منظر سے ہٹا دیا بالکل ویسا ہی معاملہ شادی کے بعد کی زندگی کا بھی ہے۔ شادی کے بعد انسان (یعنی بے چارہ مرد) چھوٹی موٹی دادا گیری سے بھی جاتا ہے اور محض چوکیدار ہو کر رہ جاتا ہے! اور سچ تو یہ ہے کہ اس معاملے کو بیان کرنے کے لیے چوکیدار سے زیادہ موزوں لفظ ''واچ مین‘‘ ہے۔ انگریز میں لفظ watch نظر رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شادی کے بعد انسان اپنے ارد گرد رونما ہونے والے واقعات کو صرف دیکھنے کے لیے زندہ رہتا ہے! 
شادی کے سائڈ ایفیکٹس نے جب بڑے بڑوں کو نہیں بخشا تو بے چارے بھائی بابر کس کھیت کی مُولی تھے۔ مگر یہ بھی غنیمت ہے۔ اُن کا جو وقت ''بے فضول‘‘ قسم کے ''بین الاپارٹمنٹ‘‘ مناقشوں میں گزرا کرتا تھا وہ اب سوا سالہ نُورِ عین کو بہلانے میں گزرتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ساری خُوں خواری چھوڑ کر، جنگل کا شیر شادی کے سرکس میں اچھل کر سٹول پر چڑھ بیٹھنے کا کرتب دکھا کر سب کا دل پہلاتا ہے اور داد پاتا ہے! 
شادی کے سائڈ ایفیکٹس نے کسے چھوڑا ہے جو ہمیں بخشتے! شادی کے بعد کے 23 برس میں ہم بھی بہت حد تک بدل گئے ہیں۔ دماغ کی چربی خاصی پگھل گئی ہے۔ اب تو یاد بھی نہیں آتا کہ کبھی ہمیں مچھلی کے شکار اور کرکٹ کا شوق تھا! بزم آرائی کا شوق بھی بہت حد تک جاتا رہا۔ اور بھی کئی مشاغل تھے جو، خیر سے، گھریلو زندگی کی چوکھٹ پر قربان ہو چکے ہیں۔ دو تین پختہ عادتیں البتہ شادی کے سائڈ ایفیکٹس کی نذر ہونے سے محفوظ رہی ہیں۔ سوچنے اور لکھنے کی عادت بھی اُن میں شامل ہے۔ دیکھیے، گھریلو زندگی کب مکمل کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہے یعنی ہم لکھنے سے بھی جاتے ہیں! ؎ 
اب دیکھیے کیا حال ہمارا ہو سَحر تک 
بھڑکی ہوئی اِک آگ سی ہے دل سے جگر تک 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved