تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-08-2017

سُرخیاں‘ متن اور ٹوٹا

انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے : نوازشریف
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے ''ہم انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کریں گے‘‘ بس ذرا پاناما لیکس میں کامیابی حاصل کرنے کی دیر ہے جس کے لیے تیزی سے زمین ہموار کی جا رہی ہے‘ اگرچہ جملہ حضرات کے مُنہ بند کر دیئے گئے ہیں تاہم اس سے پہلے کافی مار دھاڑ کی جا چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ''سندھ سے بے پناہ محبت ہے‘‘ جو سارے ملک سے ہے کیونکہ جس ملک پر حکومت کی جائے اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''تنظیمیں سندھ میں متحرک ہو جائیں‘‘ جیسا کہ میں پنجاب میں متحرک ہو چکا ہوں جو کہ ابھی کل ہی جملہ محکموں کے سیکرٹری صاحبان کے اجلاس کی صدارت کی اور بڑا مزہ آیا‘ چنانچہ اب میں نے ہدایت کی ہے کہ کلرک صاحبان کا بھی میری صدارت میں ایک اجلاس کا بندوبست کیا جائے اور اس کے بعد پٹواری صاحبان کا ایک کنونشن میری صدارت میں منعقد کیا جائے کیونکہ جنکی وجہ سے انتخاب جیتتے ہیں، ان کی خدمات کا اعتراف بھی کرنا چاہیے‘ ہیں جی؟ آپ اگلے روز لاہور میں ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
مُلک کو مسائل سے نکالا‘ آخری سانس تک عوام 
کی خدمت کرتے رہیں گے : شہبازشریف
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ''ملک کو مسائل سے نکالا‘ آخری سانس تک عوام کی خدمت کرتے رہیں گے‘‘ تاہم ملک مسائل سے نکل کر قرضوں کی مصیبت میں گرفتار ہے چنانچہ فہرست مرتب کی جا رہی ہے کہ ملک کی کون کون سی چیز کو بیچ کر یہ قرضہ ادا کیا جا سکتا ہے جبکہ موٹروے کو تو پہلے ہی فروخت کیا جا چکا ہے اور جہاں تک آخری سانس تک عوام کی خدمت کا تعلق ہے تو سیاسی طور پر آخری سانسیں ہی چل رہی ہیں‘ چنانچہ خدمت پر بھی زور زیادہ ہے کہ کوئی بڑی خبر کسی وقت بھی آ سکتی ہے انہوں نے کہا کہ ''دہشت گردی اور انتہا پسندی پاکستانیوں کا مقدر نہیں‘‘ کیونکہ اگر ہم ہی پاکستان کی تقدیر میں لکھ دیئے گئے ہیں تو دہشت گردی وغیرہ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ''ہم نے مینڈیٹ کی لاج رکھی‘‘ اور مینڈیٹ حیران ہو کر ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
پولیس کو خدمت کی علامت بننا ہو گا: گورنر رجوانہ
گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ ''پولیس کو خدمت کی علامت بننا ہو گا‘‘ اور جس طرح حکومت خدمت کے انبار لگاتی ہے‘ پولیس بھی اس سے کچھ کم نہیں ہے اور کشتوں کے پشتے لگاتی چلی جا رہی ہے‘ تاہم جس طرح حکومت خدمت کی علامت بن چکی ہے‘ پولیس ابھی اس منزل تک نہیں پہنچی جس کے لیے اُسے دن رات کوشش کرنی ہو گی کیونکہ حکومت نے بھی شبانہ روز محنت کے بعد ہی خدمت کے یہ ڈھیر لگا دیئے ہیں جو کسی شمار و قطار ہی میں نہیں آتے‘ حتیٰ کہ بینکوں سے اس کی تفصیلات حاصل کرنا بھی بہت مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''عام آدمی کا تحفظ حکومت کا فرض اور پولیس کی ذمہ داری ہے‘‘ تاہم چور اور ڈاکو جو دن رات عوام کو لوٹتے ہیں‘ اس سے ایک تو اُن کی زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے اور دوسرے چوروں کے ہاتھ ان کا فالتو مال ہی لگتا ہے جس میں پولیس کا تعاون بھی شامل ہوتا ہے۔ آپ اگلے روز آئی جی پنجاب سے گفتگو کر رہے تھے۔
اللہ کے گھر کھڑا ہو کر کہتا ہوں نوازشریف نے 
کرپشن نہیں کی : کیپٹن (ر) صفدر
مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے کہا ہے کہ ''اللہ کے گھر کھڑا ہو کر کہتا ہوں کہ نوازشریف نے کرپشن نہیں کی‘‘ جیسا کہ ہمارے سیاسی جدامجد جنرل (ر) ضیاء الحق نے اللہ کے گھر کھڑے ہو کر عہد کیا تھا کہ وہ نوے دن میں الیکشن کروا دیں گے جو کہ انہوں نے نہیں کرائے اور اس کے بعد ملک پر دس سال تک حکومت کی‘ اور یہ اللہ کے راز ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے جبکہ اس سے پہلے میاں شہبازشریف بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر نوازشریف کی دیانتداری کی قسم کھا سکتے ہیں‘ اگرچہ اس کے بعد جلدی ہی نوازشریف نااہل ہو کر گھر بیٹھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ''دال میں کچھ کالا نہیں ساری دال ہی کالی ہے‘‘ کیونکہ حکومت نے تڑکا ہی اتنے زور کا لگایا تھا کہ ساری دال ہی کالی ہو گئی اور اب آٹے دال کا بھائو بھی معلوم ہونے جا رہا ہے۔ آپ اگلے روز رضوان چوک میں مسجد کی تعمیر کے موقعہ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
صرف نوازشریف فیملی ہی کیوں؟
نون لیگی عمائدین بار بار اور بڑا زور دے کر یہ پوچھتے رہتے ہیں کہ احتساب کے لیے کیا صرف نوازشریف فیملی ہی رہ گئی تھی؟ یہ اسی نوعیت کا سوال ہے جیسے مجھے کیوں نکالا؟ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ معاملہ لندن فلیٹوں کی ملکیت کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں حسین نواز کا جواب تھا کہ ''الحمدللہ ہمارے ہیں‘‘سے شروع ہوا اور پھر نوازشریف کے اس بیان سے کہ ان کے پاس اس کے پورے ثبوت موجود ہیں‘ یہ بات اُنہوں نے پارلیمنٹ‘ ٹی وی اور عدالت کے سامنے بھی دہرائی۔ جس سے یہ کارروائی شروع ہوئی اور جہاں تک پاناما پیپرز میں دیگر سینکڑوں لوگوں کا ذکر ہے جو آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں‘ تو ان کے خلاف کارروائی ابھی اس لیے شروع نہیں کی جا سکتی کہ اُن کی باری بھی آ جائے گی کیونکہ اتنے مقدمات کی سماعت ایک ہی وقت میں نہیں ہو سکتی۔ موجودہ کیس سے فراغت کے بعد اپنا بھگتان وہ بھی بھگتیں گے۔ خاطر جمع رکھی جائے!
آج کا مقطع
میں اگر اُس کی طرف دیکھ رہا ہوں تو ظفرؔ
اپنے حصّے کی محبت کے لیے دیکھتا ہوں

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved