تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     01-09-2017

کل 35 اور اب پچاس

لاہور کے حلقہ این اے120 میں درج 29 ہزار ووٹوں کے بارے میں میڈیا کی یہ رپورٹ یقینا جمہوریت کے منہ پر ایک طمانچہ سے کم نہیں کہ ان کی بائیو میٹرک تصدیق نہیں ہو رہی ۔ مت بھولئے کہ یہ وہ انتخابی حلقہ ہے جہاں سے منتخب ہوکر میاں محمد نواز شریف پاکستان کے چار برس تک وزیر اعظم رہے ہیں۔یہ29 ہزار ووٹ جو بائیو میٹرک تصدیق میں ہی نہیں آ رہے ان کا ذمہ دار کون ہے؟۔چیف الیکشن کمشنر، نادرا کا دفتر یا کچھ اہل کار ۔اس کا فیصلہ کرنے کا وقت اب آ گیا ہے۔کیا ان29 ہزار ووٹوں کی تصدیق کی جائے گی کہ یہ کہاں سے آئے ہیںاور کیا کوئی قومی ادارہ اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کرے گا کہ یہ29 ہزار ووٹ کن کے ہیں اور ان کے اندراج کس نے کرائے ؟۔ اب یہ کیسا الیکشن ہو گا کہ ایک جانب تحریک انصاف کی کھلم کھلا حمایت کرنے والے خاندانوں اور گھروں کے پندرہ ہزار سے زائد ووٹ الیکشن سے دو ماہ قبل دوسرے حلقوں میں دھکیل دیئے گئے اور29ہزار ایسے ووٹ داخل کر دیئے گئے جن کی بائیو میٹرک تصدیق ہی نہیں کی جا سکتی۔ میڈیا پرروزانہ رپورٹ ہو رہا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی گھر محلے اور گلی میں رہنے والے ایسے لوگوں کو جن کی بائیومیٹرک تصدیق نہیں ہو تی پولیس اور خفیہ ادارے گرفتار کر لیتے ہیں پھر پوچھا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ووٹوںسے منتخب ہونے والا شخص اس ملک کا وزیر اعظم کیسے بن سکتا ہے؟۔ 
الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھنے کی ہمت کرے گا کہ اپریل میں جیسے ہی جے آئی ٹی کی تشکیل مکمل ہو گئی تو اس کے بعد این اے120 میں ہنگامی طور پر کتنے نئے ووٹوں کاا ندراج کرایا گیا۔ ان میں خواتین اور مرد دونوں کے کتنے ووٹ شامل ہیں؟ اگر تحریک انصاف ایسا نہیں کر سکتی تو پھر ان کے سربراہ سے گزارش ہے کہ اپنے جلسوں میں یہ کہنا بند کر دیں کہ حلقہ این اے 120 کا ضمنی رزلٹ بتائے گا کہ قوم عدلیہ کے ساتھ ہے یا ہے کسی اور کے ۔۔۔کیونکہ پچاس ہزار ووٹوں کی ابتدائی دھاندلی تو سب کے سامنے ہے اور اگر نئے ووٹوں کی بات کریں تو یہ تعداد 70 ہزار سے بھی زیا دہ بن جاتی ہے۔ 
مئی2013 کے انتخابات میں پنجاب میں 35 پنکچروں کیلئے 35 ڈسٹرکٹ اینڈ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی کو بغور دیکھنا ہو گا۔۔۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی دو نشستوں کیلئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو ریٹرننگ آفیسر اور ان کے ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹر ACAD اسلام آباد اور اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد انڈسٹریل ایریا کو اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر مقرر کیا گیا جن کو این اے48 کی نشست سونپی گئی لیکن اس نشست پر تمام دن یک طرفہ پولنگ کا عمل ہوتا دکھائی دیتا رہا کیونکہ تحریک انصاف کے مخالف ووٹرز اسلام آباد کی ان سڑکوں اور پولنگ بوتھوں پر خال خال ہی دیکھنے کو ملتے تھے، اس کے با وجود اس حلقے میں تیار کئے گئے ''ووٹ‘‘ متعلقہ ممبران کو بھجوا تو دیئے گئے لیکن تحریک انصاف اور نواز لیگ کے ووٹوں میں فرق اس قدر زیا دہ تھا کہ اس سے زیا دہ کیلئے معذرت کر لی گئی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہاں بیٹھے ہوئے سفارتی نمائندوں اور انٹرنیشنل میڈیا سمیت بیرونی مبصروںنے یہ نتائج تسلیم نہیں کرنے کیونکہ ان سفارتی نمائندوں کی فیملیاں بھی سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں جس پر نواز لیگ کو اس نشست کا کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑا لیکن این اے 49 کیلئے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ دارالحکومت سے ایک نشست بھی نہ ملنا سخت بے عزتی سمجھی جا رہی تھی۔
این اے49 میں ایک ایڈیشنل سیشن جج کو ریٹرننگ افسر مقرر کیا گیا ان کے ساتھ ایک خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر سکولز کو اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر مقرر کیا گیا جو دبائو برداشت کرنے کی سکت ہی نہیں رکھتی تھیں، این اے49 چونکہ اسلام آباد سے ملحقہ دیہات اور کچی آبا دیوں پر مشتمل تھا اس لئے وہاں پر پینتیس پنکچر والا فارمولہ کام دکھا گیااور یہ نواز لیگ کیلئے لگایا جانے والا پہلا پنکچر تھا ۔۔۔ راولپنڈی ون مری کی نشست کیلئے ایک ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی ریٹرننگ افسر تھے ۔اگر ایک ایک نشست کیلئے ان ریٹرننگ آفیسرز کے نام لکھنا شروع کر دیں تو اس کیلئے بہت سے صفحات درکار ہوں گے، اس لئے اپنی تحقیق کو مختصر کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔لیکن میرا یہ مضمون پڑھتے ہوئے پس منظر میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری جو نگران حکومت کے سر پرست تھے ان کی پریس کانفرنس کا وہ جملہ سامنے رکھئے جو انہوں نے انتخابات کے تیسرے دن پندرہ مئی کو اور کل ایک بار پھر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہرایا ہے'' کہ یہ عام انتخابات ریٹرننگ افسران کے تھے‘‘۔ کل کی اسلام آباد میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہتا تو اپنے سامنے پڑے ہوئے مکمل ثبوتوں کو قوم اور میڈیا کے سامنے لاتے ہوئے لاہور والوں کو تخت پر نہ بیٹھنے دیتا!! مئی2013 کے عام انتخابات کے تیسرے دن جب وقت کا سب سے با خبر صدرمملکت یہ الفاظ کہہ رہا تھا تو ہرجانب تہلکہ مچ اٹھا۔
این اے56 راولپنڈی7 عمران خان کے حلقے میں ایک ایڈیشنل سیشن جج کو ریٹرننگ افسر تعینات کیا اور ان کی معاونت کرنے کیلئے تحصیلدار سطح کے شخص کو راولپنڈی کی اس نشست کیلئے اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر تعینات کیا گیا۔۔۔لیکن یہاں پر بھی پینتیس پنکچر لگانے کے با وجود حنیف عبا سی کو شکست ہو گئی۔ اسی طرح لاہور کے حلقہ این اے122 پر عمران خان پچاسی ہزار ووٹ لے کر جیت رہے تھے لیکن پینتیس ہزار ووٹ بڑھا کر ایا ز صادق کو کامیاب کرا دیا گیا ۔۔۔ قصور این اے139 سے مسلم لیگ نواز کے کامیاب ہونے والے امیدوار کو جب رزلٹ بتایا گیا تو وہ سب کے سامنے بول اٹھے کہ مجھے ایک لاکھ ووٹ کہاں سے ڈال دیئے گئے؟ ان کا کہنا اس لئے بھی درست تھا کیونکہ 2008 میں جب نواز لیگ کا طوطی بول رہا تھا تو ان کے ووٹوں کی تعداد اسی ہزار سے بھی کم تھی۔
بکر زید کا اگر آپس میں مقابلہ ہوتا ہے تو اس دوران اگر ریفری یا منتظم کسی ایک کے حق میں بد دیانتی کرے یا اپنے پسندیدہ شخص کو ناجائز طریقے سے ہیرا پھیری کرتے ہوئے کامیاب کرائے تو دنیا کے قانون کے علا وہ اﷲ کے ہاں اس کی سخت باز پرس ہو گی کیونکہ اس طرح وہ خیانت اور دھوکہ دہی کا مرتکب ہوتا ہے۔ وقتی طور پر کسی بھی شخص کو دوسرے کا حق مارتے ہوئے اس سے زیا دتی اور ظلم کرتے ہوئے اپنے امیدوار کو کامیاب کرانے والے شائد بھول جاتے ہیں کہ انہیں ایک دن خدائے بزرگ و برتر کی عدالت میںاپنے اس عمل کا حساب دینا پڑے گا۔ اس دن کسی بھی سیا سی جماعت کا سربراہ یا کوئی وزیر اعظم ان کی مدد کو نہیں آئے گا کیونکہ وہ بھی بڑے مجرم کی طرح اپنے کئے کی سزا بھگتنے کیلئے قطار میں کھڑا ہو گا۔جن حلقوں میں اس طرح کی کارروائی کی گئی ان کی تعداد پینتیس سے بھی زیادہ تھی۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جن نشستوں کے بارے میں معلوم ہو گیا کہ یہاں سے مسلم لیگ نواز کا امیدوار صحیح طریقے سے کامیاب ہو رہا ہے وہاں بھی اپنے ووٹوں کا ٹرن آئوٹ بڑھانے کیلئے پنکچر لگا دیئے گئے!!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved