تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     07-09-2017

سی پیک میں چین کے مفادات

پاکستان کے حکمران طبقات‘ جو ہمیشہ سے طفیلی کردار رکھتے ہیں‘ نے پچھلے 70 سالوں میں مختلف نوعیت کی بیرونی سامراجی سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو چلانے کی کوشش کی ہے۔ خود ان کی اپنی دولت کا بڑا حصہ مختلف شعبوں میں اس ''امداد‘‘ سے کمائے گئے کمیشنوں اور ٹھیکوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے پچھلے کچھ عرصے سے یہ شور مچایا ہوا ہے کہ چین کی پاکستان میں سی پیک منصوبے کے تحت سرمایہ کاری اس ملک کی معیشت کو ترقی یافتہ بنا دے گی۔ لیکن اس ساری بحث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہ سرمایہ کاری چین کن مقاصد کے لیے کر رہا ہے۔ کیا یہ صرف اس دوستی کی وجہ سے ہے جس کا ذکر ہمارے حکمران بڑے دعوے کے ساتھ کرتے ہیں‘ یا پھر اس سرمایہ کاری سے چین کی اشرافیہ کے اپنے مفادات وابستہ ہیں؟
اس وقت چینی حکمرانوں کی تمام تر توانائیاں ون بیلٹ ون روڈ (OBOR) پر مرکوز ہیں۔ 5 ٹریلین ڈالر کا یہ منصوبہ ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ کے 60 سے زیادہ ممالک میں سرمایہ کاری پر مبنی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ میں شاہراہ ریشم (Silk Road) اور سمندری شاہراہ ریشم (Maritime Silk Road) کے رُوٹ شامل ہیں۔ اِن میں سے خشکی کا رُوٹ چین سے شروع ہو کر وسط ایشیائی ممالک سے گزر کر ایران، ترکی اور روس سے ہو کر یورپ میں جرمنی سے وینس تک جائے گا۔ سمندری رُوٹ یونان سے ہوتا ہوا افریقہ، انڈیا، سری لنکا، انڈونیشیا سے گزر کر ویتنام کے راستے سے واپس چین میں داخل ہو جائے گا۔ پاکستان کی اقتصادی راہداری بھی چین کے اس وسیع 900 ارب ڈالر کے معاشی اور سٹریٹیجک منصوبے کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ او بی او آر کی اس چھتری تلے قریباً 270 اہداف طے کیے گئے ہیں‘ لیکن یہ تمام اہداف ایک سطحی انداز میں زیر بحث آئے ہیں‘ جس کی وجہ ابھی تک ان اہداف کی ترجیحات واضح نہیں ہو سکیں۔ 2009ء سے اب تک چین نے غیر ضروری انفراسٹرکچر کی تعمیرات میں 6.8 ٹریلین ڈالر جھونک دئیے ہیں، جبکہ چین کا اپنا قرضہ جی ڈی پی کے 250 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ بیشتر چینی سرمایہ کار اس منصوبے کو 'ون روڈ ون ٹریپ‘ (جال) تک کا نام دے رہے ہیں۔ تیز صنعتکاری سے چین میں دنیا کا سب سے بڑا محنت کش طبقہ پیدا ہوا جسے ناگزیر طور پر اجرتوں میں اضافے اور دوسرے بنیادی حقوق کے لئے سرمائے کے خلاف صف آرا ہونا پڑا۔ اسی تناظر میں سرمایہ دار آج اپنی سرمایہ کاری چین سے باہر ان غریب ممالک میں منتقل کر رہے ہیں‘ جہاں زیادہ سستی لیبر میسر ہے یا پھر انسانی محنت کو روبوٹس اور دوسری جدید مشینری سے تبدیل کر رہے ہیں۔ چین میں سرمایہ داری اس وقت استوار ہوئی جب یہ نظام بین الاقوامی طور پر تاریخی متروکیت کا شکار ہو رہا تھا۔ وہاں سرمایہ داری یورپ کی طرح انقلاب کے ذریعے نہیں بلکہ ردِ انقلاب کے نتیجے میں رائج کی گئی۔ یہی وجہ ہے اس کی بنیادیں کھوکھلی اور تسلسل دور رس نہیں ہو سکا۔ چین کے جنوب مغربی علاقے، خصوصاً کاشغر، میں مسلسل بڑھتی ہوئی غربت ہے، جہاں 50 فیصد سے زائد آبادی انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ لیکن سی پیک کی بدولت ان علاقوں میں حالات کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ 
چین کی اس وقت بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری 1.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جو ایک بڑا عدد ہے اور یہ پچھلے 12 سال کے موجود ریکارڈ کا تخمینہ ہے۔ اِن میں 2200 معاہدے توانائی، ریئل اسٹیٹ، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں کیے گئے ہیں۔ میانمار سے لے کر افریقہ، مشرق وسطیٰ، افغانستان اور حتیٰ کہ امریکہ اور یورپ تک، کوئی بھی ایسا خطہ اس سیارے پر نہیں جہاں چینی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری نہ ہو۔ 
چینی سرمایہ کاری کا اندازہ سری لنکا سے لگایا جا سکتا ہے۔ سی پیک کی طرح 2007ء میں سری لنکا نے بنیادی انفراسٹرکچر کو جہت دینے کے لیے چین سے تقریباً 65 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں لئے۔ گوادر کی طرح 'ہمبنتوتا‘ پورٹ کے لیے 6.3 فیصد سود پر 301 ملین ڈالر لیے گئے۔ عام طور پر ان بڑے پبلک منصوبوں کے لیے دی جانے والی رقم پر عالمی بینک اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک 0.25 سے 3 فیصد تک سود وصول کرتے ہیں‘ تاہم فوربز کے مطابق آج ''سری لنکا کو قرضوں کی ادائیگی کا شدید مسئلہ درپیش ہے۔ انفراسٹرکچر کی تعمیرات کے لیے ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک (چین سے) قرضے لیے گئے مگر اب ملک قرضوں کی واپسی کے لیے متبادل راستوں کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے‘‘۔ وزیر اعظم وکرم سنگھ بڑے پراجیکٹوں کا کنٹرول چینی کمپنیوں کو دینے پر تیار ہے مگر فوربز کی اطلاعات کے مطابق چینی سفیر نے واضح طور پر وزیر اعظم کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمیں آپ کے خالی ائیرپورٹ نہیں بلکہ اپنا پیسہ واپس چاہیے‘‘۔ قرضے کی رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے اب ایک ائیرپورٹ، پاور پلانٹ اور ہمبنتوتا پورٹ 99 سال کی لیز پر چینی کمپنیوں کی ملکیت میں آ چکے ہیں۔ گوادر کی طرح پورٹ کے نواحی علاقوں میں انڈسٹریل یونٹس قائم کرنے کے لیے 15000 ایکڑ اراضی بھی چین کو دی گئی اور حکومت نے عوام کو نئی جگہ منتقل کرنے کے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ 'ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے اور سری لنکا میں اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے سری لنکا کو 'اکنامک ایڈ‘ بھی دی جا رہی ہے۔ بھاری بیرونی قرضوں کی وجہ سے اس وقت سری لنکا اپنی قومی آمدن کا 95.4 فیصد قرضوں کی ادائیگیوں پر صرف کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ 
اسی طرح کی ایک اور مثال وینزویلا کی ہے‘ جہاں 2007ء کی 57 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری 2016ء میں 125 ارب ڈالر کی واجب الادا رقم بن گئی ہے‘ جس کے عوض چین، وینزویلا کے بیش قیمتی خزانے 'تیل‘ سے مالا مال ہو رہا ہے۔ ریاستی تیل کی کمپنی 'PDVSA‘ کے آڈٹ کے مطابق پچھلے سال روزانہ کی بنیاد پر 5 لاکھ 79 ہزار بیرل تیل کی چین ترسیل ہوتی رہی ہے۔
چین کی پاکستان میں یہ پہلی سرمایہ کاری نہیں‘ بلکہ اس سے پیشتر بھی پاکستان اور چین نے کئی مشترکہ منصوبوں پر کام کیا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت چین منڈی کی معیشت کی دوڑ میں شامل نہیں تھا بلکہ ایک منصوبہ بند معیشت کے تحت ان پراجیکٹوں کی تکمیل کی گئی تھی۔ 1960ء اور بعد کی دہائیوں میں چین نے پاکستان کو کئی جنگی آلات بغیر کسی منافع کے مہیا کیے۔ اسی طرح چین کے تعاون سے ہی دیوہیکل 'ہیوی انڈسٹریل کمپلکس ٹیکسلا‘ کا قیام عمل میں آیا تھا۔ لیکن آج کا چین 'سوشلسٹ چین‘ نہیں ہے بلکہ ایک منافع خور سامراجی ریاست میں بدل چکا ہے۔ 
پاکستانی معیشت پہلے ہی گہری دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔ سی پیک پر ہونے والے اخراجات کی رقم چین سے ہی پیدا ہو رہی ہے اور واپس چینی کمپنیوں کو ہی منتقل ہو رہی ہے‘ لیکن سود اور منافع سمیت اِس ''سرمایہ کاری‘‘ کے دہندگان پاکستانی عوام ہوں گے۔ تاریخی طور پر ریکارڈ بجٹ خسارے اور تجارتی خسارے، قرضوں میں مسلسل اضافے اور برآمدات میں کمی کے ساتھ چین کی یہ تقریباً 60 ارب ڈالر کی سامراجی سرمایہ کاری ملکی کو معیشت کو کس طرف لے جائے گی، اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ سمجھنے کے لئے سری لنکا کی مذکورہ بالا مثال ہی کافی ہے۔ تاہم سرمایہ داری کے ہر منصوبے کی طرح سی پیک کے مضمرات بھی متضاد نوعیت کے حامل ہوں گے اور نئے تضادات کو جنم دیں گے۔ ایک بات واضح ہے کہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ جانے کے جو خواب حکمران دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سراب اور دھوکہ ہیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved