تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     08-09-2017

مسٹر بکس کا یوسف بھائی

زندگی میں کتنی ہی ایسی خبریں آپ تک پہنچتی ہوں گی‘ جنہیں سن کر آپ کا دل چاہتا ہو گا کہ کاش یہ سب جھوٹ ہو‘ جیسے میرے اپنے دو بھائیوں یوسف بھائی اور نعیم بھائی کے انتقال کی خبر‘ یا پھر ڈاکٹر ظفر الطاف اور اب مسٹر بکس کے یوسف بھائی کی خبر۔ گائوں سے عید کے بعد واپسی کے سفر میں ملنے والے ایک موبائل ٹیکسٹ کو پڑھ کر بے اختیار دل چاہا کہ کاش یہ سب کچھ جھوٹ ہو۔ میسج ملا کہ یوسف بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر ظفر الطاف کے انتقال کے بعد اسلام آباد پہلے ہی خالی خالی لگتا ہے۔ اب ایک اور خوبصورت انسان کی موت نے مزید دکھی کر دیا ہے۔ 
ابھی اگلے روز ہی سعدیہ نذیر اور محمد شہزاد گھر آئے تو کافی دیر ان سے گپ شپ ہوتی رہی۔ اگلے دن سعدیہ نے کہا: شہزاد کا کہنا ہے کہ لگتا ہے رئوف زندگی کو انجوائے نہیں کر رہا‘ پیسے کمانے کی مشین بن گیا ہے۔ میں چپ رہا۔ اصرار کیا گیا تو محض یہ بولا: دراصل زندگی میں اچانک کوئی تبدیلی ہو جائے، یا کوئی بندہ آپ کی زندگی سے غائب ہو جائے تو آپ کو زندگی بور لگنے لگتی ہے۔ پہلے نعیم بھائی اچانک گئے‘ تو اس کے بعد ڈاکٹر ظفر الطاف‘ جن کے ساتھ اٹھارہ برس تک گزاری ہوئی خوبصورت دوپہروں کا اثر ابھی تک زائل نہیں ہو ا۔ اب سب دوپہریں ان کے بغیر بور لگتی ہیں۔ اب تو نئے دوست بنانے کو دل نہیں کرتا۔ ہم جیسے لوگ بڑی جلدی دل لگا بیٹھتے ہیں اور پھر نسٹیلجا تنگ کرتا ہے۔ 
بیس برس قبل اسلام آباد آنے سے پہلے ہی میرا تعارف مسٹر بکس سے ہو چکا تھا۔ برسوں قبل جب لاہور میں میں نے اپنے خالو میجر نواز ملک کے گھر ان کا ایک انگریزی ناول چرایا تو اس پر مسٹر بکس کی مہر لگی دیکھی تھی۔ میجر صاحب اسلام آباد آتے رہتے تھے تو اس بک سٹور سے مرضی کے ناول خرید کر لے جاتے تھے۔ میں اکثر ان کے لاہور گھر میں پڑے ناول اٹھا کر لے جاتا تھا‘ اور کالج ہوسٹل میں رات گئے تک پڑھتا رہتا تھا‘ تاہم اتنی چالاکی ضرور کرتا کہ پہلے چیک کر لیتا‘ انہوں نے پڑھ لیا ہے یا نہیں‘ یا پھر زیادہ سے زیادہ خالہ سے پوچھ لیتا تو وہ بھی یہی کہتیں لے جائو، نواز نے نہیں پڑھا تو بھی نیا خرید لے گا۔ لیکن مجھے علم تھا مسئلہ نیا ناول خریدنے کا نہیں۔ اگر آپ ناول پڑھ رہے ہیں تو وہ سارا دن دفتر یا کام پر بھی آپ کے ذہن پر سوار رہتا ہے اور آپ گھر پہنچ کر اسے وہیں سے پڑھنا چاہتے ہیں‘ جہاں رات کو چھوڑا تھا اور اگر وہ ناول آپ کو نہ ملے تو جو کوفت ہوتی ہے اس کا میں اندازہ کر سکتا تھا‘ لہٰذا کبھی وہ ناول نہ اٹھایا‘ جو ابھی وہ پڑھ رہے ہوتے تھے۔ 
جب اسلام آباد پہنچا تو کچھ دن بعد یہ سوچا کہ ڈھونڈا جائے‘ مسٹر بکس کہاں ہے۔ سپر مارکیٹ میں دور سے ہی دکان نظر آئی تو ایسے لگا جیسے کسی پرانے دوست سے ملاقات ہو رہی ہو۔ میں فکشن زیادہ پسند کرتا ہوں۔ اس کے بعد ہسٹری، سیاست اور فلاسفی کی باری لگتی ہے۔ اگر مجھے کتابوں کی دکان سے ایک کتاب خریدنے کا موقع ملے تو میں فکشن ہی لوں گا۔ 
یہیں یوسف بھائی سے تعلقات کا آغاز ہوا۔ میرا خیال تھا‘ وہ بھی عام کتب فروشوں کی طرح صرف کتاب فروخت کرکے اپنا منافع کھرا کرنے کے شوقیں ہوں گے؛ لیکن دھیرے دھیرے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتاب دوست انسان ہیں۔ ان کا کاروبار اپنی جگہ ہو گا‘ لیکن انہیں اس کام سے محبت بھی ہے۔ اچھی کتابیں ڈھونڈ کر رکھتے۔ نئی دکان بنائی تو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں‘ دکان کے اوپر ایک ایسا کارنر ہو جہاں کافی ملے اور کوئی بھی بیٹھ کر کتاب پڑھ سکے۔ یقیناً یہ وہ جدید انداز تھا‘ جو آپ کو امریکہ اور لندن میں تو نظر آتا‘ لیکن پاکستان میں اس وقت یہ کلچر عام نہیں ہوا تھا۔ ایک دفعہ سعید بکس کے مالک احمد سے پوچھا: آپ کیوں کیفے ٹائپ چیز شروع نہیں کرتے‘ جہاں بیٹھ کر کتاب کے ساتھ ساتھ کافی بھی انجوائے کی جائے‘ دوستوں کے ساتھ کوئی دوپہر یہاں گزاری جائے۔ احمد بولے: شروع کیا تھا‘ لیکن بند کرنا پڑا کیونکہ کتابیں پڑھنے والے کم اور گپ شپ کرنے والے زیادہ آتے تھے‘ جنہیں تنہائی درکار ہوتی تھی۔ میں چپ ہو گیا۔
یوسف بھائی نے جب نئی دکان بنائی تو وہ کیفے نہ بنا سکے‘ لیکن اپنا ایک خوبصورت دفتر ضرور بنا لیا‘ جہاں میرے جیسے جہاں گرد کے لیے اچھی سے اچھی کافی، چائے اور ڈرائی فروٹ‘ ملتے۔ اچھی کتابیں میز پر پڑی ہوتیں۔ میری للچائی ہوئی نظروں کو دیکھتے تو اٹھا کر دے دیتے کہ لے جائیں۔ میں کہتا: ایسے نہیں لوں گا‘ ایاز کو کائونٹر پر کہہ دیں‘ کچھ رعایت کر دے گا۔ اور پھر انہوں نے ایاز کو کہہ دیا کہ انہیں ہمیشہ رعایت کیا کریں۔ میں اکیلا نہیں تھا‘ جس کے ساتھ وہ اس وجہ سے پیار‘ اور عزت کرتے تھے‘ پورا اسلام آباد ان کا دیوانہ تھا۔ کالم نگار دوستوں اظہارالحق، آصف محمود، پروفیسر طاہر ملک کی ان پر دل سے لکھی گئی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ کس طبیعت کے انسان تھے اور ان کے نزدیک کتاب پڑھنے والوں کی کیا اہمیت تھی۔ 
ایک دن میں نے کہا: مجھے امریکی صدر نکسن کی کتاب لیڈر نہیں مل رہی‘ جارجیا سے اعجاز بھائی نے بھیجی تھی‘ لیکن وہ کوئی اٹھا کر لے گیا ہے۔ وعدہ کر لیا کہ وہ بہت جلد منگوا دیں گے۔ کچھ عرصہ گزر گیا اور یاد دلایا تو بولے: چلیں کل آپ آئیں کچھ کرتے ہیں۔ میں حیران ہو کر چلا آیا کہ اگر ابھی تک انہیں کہیں سے نہیں ملی، تو اب اچانک کہاں سے جادوگر کی طرح ٹوپی سے نکال کر پیش کر دیں گے۔ اگلے دن گیا‘ تو میرے ہاتھ میں کتاب تھما دی۔ میں نے قیمت پوچھی تو ہنس پڑے اور بتایا کہ یہ ان کی لائبریری میں برسوں سے موجود تھی۔ یہ انیس سو بیاسی کا پیپر بیک ایڈیشن تھا۔ انہوں نے کہا: اب یہ کتاب آپ کی ہوئی۔ ہاتھ سے لکھ کر دیا۔ میں نے کہا: آپ کی تصویر لے لوں۔ وہ مسکرا کر سنبھلے اور بولے: ہاں اب لیں۔ میں نے فون کے کیمرے سے کلک کیا۔ ابھی تک وہ تصویر میرے پاس محفوظ ہے۔ کئی دفعہ کہا: آپ کی گھر پر لائبریری دیکھنی ہے‘ اور وہاں سے کتابیں چرانی ہیں۔ بولتے: جو کتاب آپ کا جی چاہے‘ لے جائیے گا۔ کبھی فون آ جاتا کہ جناب سردیاں آ گئی ہیں، ڈرائی فروٹ آ گیا ہے‘ آ جائیں‘ اچھی سی چائے پیتے ہیں۔ پھر طویل گپ شپ ہوتی۔ ایک خوبصورت انسان کی خوبصورت کمپنی۔ ذاتی طور پر ان کی صحت اچھی نہ رہی۔ رہی سہی کسر کسی ظالم نے اس وقت پوری کر دی‘ جب انہیں اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہیں سے ان کی حالت بگڑی کہ شوگر کی دوائیں نہ ملیں اور پھر کچھ عرصے بعد ان کی ٹانگوں کو کاٹنا پڑا۔ وہیل چیئر پر آ گئے‘ لیکن مجال ہے کہ میں نے کبھی ان کے چہرے پر غم دیکھا ہو۔ کبھی دکھ کی پرچھائیں دیکھی ہو۔ ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے تھے۔ اگر کسی کو ذاتی دکھوں کو ہنس کر سہتے دیکھا تو ڈاکٹر ظفر الطاف کے بعد وہ دوسرے انسان تھے۔ اکثر یہ کہہ کر دکھی ہو جاتے کہ ان کے بچوں کو کتابوں کے اس کاروبار میں دلچسپی نہیں ہے۔ میں ہنس کر کہتا: یوسف بھائی آپ کو پتہ ہے‘ میرا ریٹائرمنٹ پلان کیا ہے؟ میرے بچوں نے ایک دن بیٹھ کر بنایا تھا۔ دونوں بچوں کا کہنا تھا: بابا کو ریٹائرمنٹ کے بعد کتابوں کی دکان کھولنی چاہیے۔ ان کا دل وہیں لگا رہے گا۔ میں نے یوسف بھائی سے کہا: میرے ریٹائر ہونے کا انتظار کریں۔ اکٹھے دکان چلائیں گے۔ ہنس کر بولے: لیکن میں نے تو سنا ہے صحافی کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔
ہمارے خوبصورت دل اور دماغ کے مالک یوسف بھائی خود ریٹائر ہو کر قبر میں جا لیٹے ہیں۔ وہ اسلام آباد کو ایک اور اچھے انسان سے محروم کر ہی گئے‘ لیکن جاتے جاتے میرا ریٹائرمنٹ پلان بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved