تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     09-09-2017

ٹرمپ ، مودی اور اسرائیل ۔۔۔ ؟ (قسط اول)

امریکہ، اسرائیل ، بھارت، برطانیہ اور افغانستان پاکستان کے خلاف تیار کئے جانے والے'' آپریشن بلیو تلسی‘‘ ( 2025 )کے تیسرے اور آخری حصے پر عمل کرنے کیلئے متحد ہو چکے ہیں۔ ان کی اس ضمن میں کی جانیوالی تیاریاں سوائے اندھوں کے سب کو نظر آ رہی ہیں۔ بد نام زمانہ اورامریکی کانگریس کے پاکستان دشمن رکنDONA ROHRABACHER (جس کا کانگریس میں گروپ بلوچستان میںدہشت گردی پھیلانے والے براہمداغ بگٹی کی سرپرستی کرتے ہوئے پاکستان میں تخریب کاری کی حمایت کر رہا ہے ) کی لندن میں ایم کیو ایم کے بانی اور ہمارے سابق دوست الطاف حسین سے ان کی رہائش گاہ پر ہونیوالی طویل ملاقات نے بہت کچھ کھول کر رکھ دیا ہے۔ ROHRABACHER DONA میرے وطن کے ٹکڑے کرنے کے ناپاک مشن پر اس طرح گامزن ہیں جیسے یہ پیدا ہی اس مقصد کیلئے ہوئے تھے... حکومت پاکستان اور قوم کے تمام لیڈروں سمیت فوج کے سپہ سالار بھی ان مذموم مقاصد سے بے خبر نہیں ہوں گے لہٰذا جب امریکہ یہ کہے کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے تو اسے کہنا چاہیے کہ پہلے آپ، برطانیہ اور آپ کے ماتحت یورپی ممالک بتائیں کہ بلوچستان ، کے پی کے اور فاٹا سمیت پاکستان کے دوسرے حصوں میں ہماری فوج پولیس ،ایف سی اور عوام کو آئے روز قتل کرنیوالوں اور انکے سرپرستوں کو آپ کے رکنِ کانگریس، سینیٹرز اور تھنک ٹینکس کیوں پناہ دے رہے ہیں، ان کی دہشت گرد کارروائیوں کو کس طرح آزادی کی جنگ کا نام دے رہے ہیں ؟اگرآپ کی نظر میں بلوچستان میں بد امنی پھیلانے والے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں تو کیا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ افغان طالبان بھی اپنے ملک کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کیلئے جنگ کر رہے ہیں؟ 
بدنام زمانہ پاکستان دشمن رکن کانگریس...جو ہمیشہ بھارتی اور یہودی سرمائے اور ان کے ووٹوں سے منتخب ہو رہا ہے اس کی الطاف حسین سے ہونیوالی ملاقات پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ایسا لگ رہا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کے پچیس سال پر محیط اس'' آپریشن بلیو تلسی‘‘ کا تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جس کیلئے پہلے دس سال تک پلاننگ کی گئی اس سے اگلے دس سال اس کی تیاریاں کی جاتی رہیں اور اب سازش کے تیسرے اور آخری مرحلے کیلئے اس پر عمل شروع کر دیا گیا ہے ۔ 
جب 14 اگست1996کو پاکستانی قوم اپنا 49 واںیوم آزادی منا رہی تھی تو ایک مذہبی فرقے کے بارہ کارکنوں کو نا معلوم حملہ آوروں نے گولیاں برساتے ہوئے قتل کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اگست کے آخر تک دو مذہبی ممالک کے لوگ ایک ایک کر کے دن دہاڑے سڑکوں اور چوراہوں پر نا معلوم دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہو نا شروع ہو گئے...ایسے وقت میں اچانک بلوچ نیشنلسٹ عطا اﷲ مینگل اپنی خود ساختہ جلا وطنی ختم کرتے ہوئے پاکستان پہنچ گئے...اسی دوران اہم ترین سیا سی شخصیت کے نزدیک ترین ایک وفاقی ادارے کا اہلکار پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی بو سونگھنا شروع ہو گیا تو دوسری جانب ملک کی سالمیت سے متعلق اداروں نے رپورٹ دی کہ بھارت غیر محسوس طریقے سے اپنی اہم ترین فوجی یونٹس کو پاکستانی سرحدوں کے نزدیک ڈیپلائے کر رہا ہے۔ اسی دوران اچانک مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہو گیا اور پھر چھ نومبر کو صدر فاروق لغاری نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کر دیا، جس کے نتیجے میں ملک کے ا داروں نے غلام اصغر اور رحمان ملک کو گرفتار کر کے تفتیش کیلئے نا معلوم مقام پرمنتقل کر دیا ...ساتھ ہی طارق پرویزپنجاب کی سپیشل برانچ اور ملک کی آئی بی کے سربراہ مسعود شریف بھی گرفتار کر لیا گیا ۔ غلام اصغر اور رحمان ملک کی گرفتاری پر دنیا کی تین خفیہ ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی اور چند روز بعد اسرائیلی نیوی کے وائس ایڈمر ل Alex Tel جس کا تعلق موساد سے تھا بھارت کے اہم ترین دورے پر نئی دہلی پہنچ گیا۔
یہاں سے اب تک کی معلومات کی روشنی میں پاکستان کے نیو کلیئر اثاثوں کے بارے مزید سازشیں شروع ہو گئیں اور پھر فروری1997 میں بھارت کے ڈیفنس سیکرٹری T.K Banerji ہائی پروفائل وفد کے ساتھ اسرائیل پہنچ گئے، جس کا ایجنڈا ''ایکسچینج آف ٹیکنالوجی‘‘ رکھا گیالیکن اصل مشن پاکستان کے ایٹمی اثاثے تھے... مارچ 97 میں بھارتیہ جنتا پارٹی بھارت میں اقتدار میں آ گئی اور مارچ میں جنرل وید پرکاش ملک بھارت کے پہلے آرمی چیف کی حیثیت سے اسرائیل پہنچ جا پہنچے اور اس سے پہلے بھارتDRDO کی ٹیم بھارت کے ایٹمی خالق ابو الکلام آزاد کی قیا دت میں اسرائیل کا ایک اہم دورہ کرنے کے بعد واپس بھارت پہنچ چکی تھی...یہ سب اس دورے میں طے کئے گئے معاملات کی جانب پیش رفت تھی جو اسرائیل کے ایئر چیف مارچ1995 میں موساد کی اس ٹیم کے ساتھ بھارت پہنچے جس نے عراق کے ایٹمی مراکز تباہ کئے تھے۔
یکم اپریل 98 کی صبح بھارتی حکومت کا ایک ناقابل یقین قسم کا فیصلہ سامنے آیا ، جب بھارت نے اپنی تمام فلائٹس اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اترنے سے روک دیں ، دوسرا اس سے بھی زیادہ متضاد اور حیران کر دینے والا فیصلہ یہ سامنے آیا کہ بھارت کا ایک ''سٹڈی مشن‘‘ بغیر کسی پیشگی منظوری یا اطلاع کے چھ اپریل کو اسرائیل وارد ہوا اور پھر پانچ دن بعد گیارہ مئی1998 کو بھارت نے ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے دنیا بھر میں ہلچل مچادی ۔۔بھارت کے مقابلے میںوزیر اعظم نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرنے کی منظوری دینے سے کترانا شروع کر دیا جبکہ فوج اور ایٹمی سائنسدانوں نے دوسرے دن ہی ان کے نوٹس میں لائے بغیر چاغی میں اپنی تیاریاں شروع کر دیں اور تیسرے دن وزیر عظم کو بتا یا گیا کہ ہم سے آپ جب بھی اور جس وقت بھی کہیں گے ہم جوابی دھماکے کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں لیکن نہ جانے کیوں نواز شریف ایٹمی دھماکوں پر تیار نہیں ہو پا رہے تھے اور پھر انہوںنے اس کیلئے وہ ''28 مئی کی تاریخ دے دی ،اتنا وقت کیوں دیا گیا اس کے پیچھے کیا راز ہے یہ آپ کی آنکھیں کھول دے گا‘‘...27 مئی کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نسیم رانا کو ایک خطرناک اطلاع موصول ہوئی کہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر کسی بھی وقت حملہ آور ہونے والے ہیں، اس کی پہلے وزیر اعظم نواز شریف اور پھر آرمی چیف کو اطلاع کر دی گئی ۔ 27 مئی کی صبح ایک نا معلوم شناخت کے ایف سولہ طیارے کو پاکستانی حدود کے نزدیک گھومتے دیکھا گیا تو اس میں پریشانی کی بات یہ تھی کہ بھارت کے پاس تو ایف سولہ طیارے تھے ہی نہیں تو پھر یہ ایف سولہ کہاں سے آیا اور اس میں کون سوار ہو سکتا ہے؟۔دھیان ایک ماہ پیشتر بھارت کے آرمی چیف کے دورہ اسرائیل کی جانب چلا گیا جس پر پاکستان کی تینوں مسلح ا فواج کو ہائی الرٹ کا سٹینڈنگ آرڈر جاری کر دیا گیا ...اور پھر28 مئی کی صبح بھارتی ایئر فورس کے اڈوں کے اندر کی نقل و حرکت نوٹ کی گئی دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کے طیارے فضائوں میں گھومنا شروع ہو گئے جس پر پاکستان کے آرمی چیف کی جانب سے ایک سخت ترین پیغام پہنچایا گیا اورپھر28 مئی کو دوپہر ایک بجے پاکستان نے اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کر دیا ۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ان کی طاقت دیکھ کر دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں حیران و پریشان رہ گئیں کیونکہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کی طاقت ان کے مقابلے میں بہت ہی کم تھی۔ (جاری)

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved