تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     11-09-2017

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے اور نظم

نوازشریف کو عہدے سے نکالا جا سکتا ہے
عوام کے دلوں سے نہیں: مریم نواز
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ''نوازشریف کو ایوانوں سے نکالا جا سکتا ہے عوام کے دلوں سے نہیں‘‘ اور چونکہ کسی عہدے کے ملنے کا اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ اس لیے انہوں نے مستقل طور پر عوام کے دلوں میں ہی رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے‘ اس لیے عوام خبردار رہیں کہ انہیں پیشگی اطلاع دی جا رہی ہے‘ اپنا اپنا بندوبست کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ ''17 ستمبر کو شیر دھاڑے گا‘‘ اور چونکہ وہ ازلوں کا بھوکا ہے اس لیے لوگوں کو پھاڑ کھانے پر ہی مجبور ہوگا۔ ع
پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی
انہوں نے کہا کہ ''مخالفوں کو 2018ء کے الیکشن میں نوازشریف کی فتح نظر آ رہی تھی‘‘ کیونکہ الیکشن کے دنوں میں وہ جہاں ہوں گے‘ افسوس کہ یہ فتح ان کو دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ''تاجر برادری پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے‘‘ اور چونکہ ہم بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک کو تاجرانہ طریقے سے چلا بھی رہے ہیں‘ اس لیے اس ریڑھ کی ہڈی کو مشترکہ ہی سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ''نوازشریف کو عوام لے کر آتے ہیں‘‘ اور پھر اس کی سزا بھی بھگتتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''جب میں ماضی میں انتخابی مہم پر نکلتی تھی تو بازاروں میں اندھیرے تھے‘‘ اور‘ اب ماشاء اللہ گھروں میں بھی اندھیرے ہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ مساوات کے اصول پر عمل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''نوازشریف نے سازشوں اور دھرنوں کے باوجود لوڈشیڈنگ پر قابو پایا‘‘ جو اگرچہ پہلے سے کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہے لیکن اس میں لوڈشیڈنگ کا قصور ہے‘ نوازشریف کا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''آج سڑکیں اور موٹروے بن رہی ہیں‘‘ تاکہ عوام ان پرمٹرگشت کرتے رہیں کیونکہ خالی پیٹ چلنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان کی ترقی کے ضامن کو کیوں نااہل کیا گیا‘‘ اگرچہ اس کی وجہ ہمیں بھی اچھی طرح سے معلوم ہے لیکن پھر بھی پوچھنے پر ہرج ہی کیا ہے کہ آدمی پوچھ کر ہی تو اپنے علم میں اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان بدل رہا ہے‘‘ اور اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمارا انتہائی تابناک مستقبل تاریک ہو کر رہ گیا ہے جس میں لوڈشیڈنگ کی تاریکی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''پاکستان کی ترقی اور نوازشریف کا تعلق بہت گہرا ہے‘‘ جس کا صحیح اندازہ نوازشریف کی اپنی ترقی سے بھی لگایا جا سکتا ہے حالانکہ یہ اللہ کی دین ہے‘ اس پر حسد نہیں کرنا چاہیے بلکہ خود محنت کرکے کوئی مقام حاصل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ''17 ستمبر کو پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا‘‘ کیونکہ اس دن بادشاہت کے خاتمے کا بھی آغاز ہوگا کہ کس طرح غریب رعایا کو ان کے شہنشاہ سے محروم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''جب نوازشریف کو پاکستان دیتے ہیں تو ٹوٹا پھوٹا پاکستان ہوتا ہے‘‘ جو اپنی اسی عادت کی وجہ سے مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ''17 ستمبر کو سوال پوچھنا کہ نوازشریف کو جلاوطن کیا جاتا ہے‘ جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں‘‘ حالانکہ سچے مقدمے ہی ماشاء اللہ اتنے ہوتے ہیں کہ ان احمقوں کا ان کی طرف خیال ہی نہیں جاتا اور اب کہیں جا کر کچھ مقدمات ریفرنسز کی زینت بنے ہیں لیکن خوامخواہ اتنا وقت ضائع کردیا گیا اور اس طرح وقت کی قدر و قیمت پر پانی پھیر دیا گیا۔ آخر یہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے اور نوازشریف خود اس پر بہت غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''نوازشریف جاتے ہوئے خوشحال پاکستان دے کر جاتے ہیں‘‘ اس لیے انہیں وقتاً فوقتاً جاتے ہی رہنا چاہیے تاکہ ملک مزید خوشحال ہو سکے۔ آپ اگلے روز لاہور میں مسلم لیگ تاجر کنونشن سے خطاب کر رہی تھیں۔
اور اب منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے انٹرنیٹ پر موصول ہونے والی یہ نظم جس کے خالق کا نام نہیں بتایا گیا۔
مجھے کیوں نکالا‘ مجھے کیوں نکالا
آپ نے اپنے ہاتھوں سے پالا مجھے/ دے کے خود مسندِ شاہ بالا مجھے/ تین عشروں تلک کی مری پرورش/ یعنی سمجھا ہتھیلی کا چھالا مجھے/ کیوں نکالا مجھے‘ کیوں نکالا مجھے/ آپ کے ہاتھ کا تو بٹیرہ تھا میں/ آپ کو علم ہی تھا لٹیرا تھا میں/ کچھ گلہ ہے مجھے تو اسی بات کا / کیوں نہ کھانے دیا ترنوالہ مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے / اہلِ دانش سے مجھ کو حقارت رہی / سو بصیرت رہی نہ بصارت رہی / لگ رہا ہے مسلسل یہ جی ایچ کیو/ جیسے ہے یہ کوئی بنی گالا مجھے/ کیوں نکالا مجھے‘ کیوں نکالا مجھے / پہلے تقسیم تھی دو کی اور تین کی / پھر تو پانچوں نے ووٹوں کی توہین کی / کوئی سازش ہوئی ہے یقینا کہیں/ کچھ تو لگتا ہے گڑبڑ گھٹالا مجھے/ کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے / جو بھی بوتا ہو تو بونے دیتے نہیں / مارتے بھی ہو اور رونے دیتے نہیں / روئوں دھوئوں نہ میں تو بھلا کیا کروں / رو کے بھرنا ہے اب ہیڈ مرالہ مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے/ سارے شہروں سے امید ہی اٹھ گئی / مجھ سے تو جیسے تقدیر ہی رُٹھ گئی / واسطہ جب میں دوں گا سری پائے کا / ووٹ ڈالے گا پھر گجرانوالہ مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے/ بات کرتا ہوں تو کرنے دیتے نہیں / رنگِ مظلومیت بھرنے دیتے نہیں / اپنی معصومیت کا یہاں ظالمو / پڑھنے دیتے نہیں کیوں مقالہ مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے / کیوں نگاہ سے کوئی بتاتا نہیں / کیا کیا جائے کوئی سجھاتا نہیں / جو بھی ملتا ہے بس پوچھتا ہوں یہی / والیم ٹین میں کیا ہے دکھالا مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے/ میرے چاروں طرف یہ جو تابوت ہیں / میرے اپنے ہی بچوں کے کرتوت ہیں / جیتے جی سب نے ہی مار ڈالا مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے/ جائو بھی اب مری جان بھی چھوڑ دو / جھوٹ کی ہنڈیا بازار میں پھوڑ دو / جھوٹ سے اب زبان لڑکھڑانے لگی / جھوٹ کا مت اُڑھائو دوشالہ مجھے / کیوں نکالا مجھے کیوں نکالا مجھے۔
آج کا مطلع
غریبِ شہر ہوں‘ سڑکوں پہ ہے سفر میرا
ہوا کی طرح کوئی گھاٹ ہے نہ گھر میرا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved