تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     01-10-2017

طوطے‘ عمیر نجمی ‘ رضوان ایچ قاضی اور خانہ پری

فارم ہائوس کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ چھ طوطوں کا اضافہ ہوا ہے اور ایک مور کی کمی جو ناچنا چاہتا تھا لیکن اُسے کوئی جنگل دستیاب نہ ہوا۔ البتہ طوطے چُوری کھانے والے نہیں ہیں اسی لیے انہیں یہ نہیں پوچھا جاتا کہ میاں مٹھو چُوری کھانی ہے؟ حالانکہ چُوری کھانے والے طوطوں سے یہ سوال کرنا بے معنی ہے کیونکہ انہوں نے تو بہرصورت ہاں میں ہی جواب دینا ہوتا ہے‘ یہ طوطے مختلف رنگوںکے ہیں۔ ایک صاحب نے دو طوطے رکھے ہوئے تھے جن میں ایک سبز رنگ کا تھا اور ایک سُرخ۔ ایک روز پنجرے کا دروازہ کہیں کھُلا رہ گیا تو دونوں اُڑ کر گھر کے سامنے درخت پر جا بیٹھے۔ مالک نے ایک لڑکے کو دس روپے دیتے ہوئے کہا کہ جا کر ان کو اتار لائو لڑکا درخت پر چڑھا اور سُرخ والا اتار لایا۔
''دوسرا کیوں نہیں اُتارا؟‘‘ مالک نے لڑکے سے پوچھا تو لڑکا بولا‘
''وہ ابھی کچا تھا‘‘
ہمارے پوتے ارسل جنید نے ایک طوطا رکھا ہوا ہے لیکن وہ ابھی باتیں کرنے سے معذور ہے حالانکہ بولنے والے طوطے بڑے بڑے کام کرتے دیکھے گئے ہیں جیسے کہ ایک صاحب طوطوں کی دُکان پر گئے اور ایک باتیں کرنے والے طوطے کی خریداری کا اظہار کیا۔ دکاندار نے بولنے والے ایک طوطے کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے ایک طوطے کو نیلامی کے ذریعے بیچنے والا ہے‘ ذرا توقف کریں تو پیش کر دیا جائے گا۔ چنانچہ طوطا خریدنے والا قیمت کی بولی لگاتا تو پیچھے سے بولی بڑھانے کی آواز آتی۔ آخر مذکورہ طوطا مہنگے داموں فروخت ہو گیا جس پر گاہک نے طوطا دکھانے کی خواہش ظاہر کی تو دکاندار بولا۔
''یہی طوطا تو عقب سے بولی بڑھا رہا تھا!‘‘
بعض طوطے باتیں تو کرتے ہیں لیکن بدلحاظ اور بد زبان بھی ہوتے ہیں۔ ایک صاحب نے اپنا طوطا جو باتیں کرنے میں طاق تھا‘ اُس کا پنجرہ باہر گلی میں لٹکا رکھا تھا جو آتے جاتے لوگوں پر آوازے کستا جس پر اُس سے ایک شخص نے شکایت کی کہ تمہارا طوطا گالیاں بکتا ہے۔ طوطے کے مالک نے پوچھا :
''کیا کہتا ہے؟‘‘ تو شخص مذکور نے جواب دیا۔
''میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں یہ کہتا ہے‘ منحوس‘ پھر آ گئے ہو؟‘‘
اس پر طوطے کے مالک نے معذرت کی اور کہا کہ میں اسے سمجھا دوں گا‘ آئندہ یہ بدتمیزی نہیں کرے گا۔ تاہم‘ دوسرے دن جب وہ شخص وہاں سے گزرا تو طوطے نے زور کا قہقہہ لگایا۔ اس شخص نے مُڑ کر پوچھا :
''کیا کہا؟‘‘ جس پر طوطا بولا‘‘
''تم سمجھ تو گئے ہو گے!‘‘
اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ طوطوں کو باتیں کرنا نہیں سکھانا چاہیے کیونکہ باتیں کرتے کرتے وہ کسی وقت بھی بدتمیزی اور دشنام طرازی پر اُتر سکتے ہیں۔
اب پہلے عمیر نجمی کے دو شعر سنیئے : 
عشق پہلا تھا ‘شب ہجر کی دوسری
تیسرا پہر تھا خُودکشی دوسری
وقت اچھا کوئی اس میں ہے ہی نہیں
مجھ کو لینی پڑے گی گھڑی دوسری
اور اب رضوان ایچ قاضی کا یہ شعر:
ترکِ تعلقات کا دن بھی عجیب تھا
مر کر رہا ہوئے کہ رہا ہو کے مر گئے
کل اتوار ہے اور خانہ پُری کی باری بھی :
............
خدا کا حکم ہے‘ اور یہ عبادت کر رہا ہوں
جو اُس کے ایک بندے سے محبت کر رہا ہوں
وہ اپنے فائدے کی بات بھی سُنتا نہیں ہے
میں گھر والوں سے اُس کے یہ شکایت کر رہا ہوں
دُعائیں مانگتا ہوں روز اُس کے وصل کی میں
کہ فارغ تو نہیں بیٹھا ہوں‘ محنت کر رہا ہوں
شریفانہ سے پیغامات کچھ بھیجے ہیں اُس کو
مگر وہ یہ سمجھتا ہے شرارت کر رہا ہوں 
مجھے سچ بولنے کا وقت ہی ملتا نہیں ہے
یہ مجبوری ہے‘ اظہار حقیقت کر رہا ہوں
غلط کاروں سے خود اللہ نمٹے گا کسی دن
میں ازراہِ خُدا ان کی حمایت کر رہا ہوں
بُہت بھاری ہے‘ تھوڑا بوجھ کم کرنا ہے اس کا
یہ مت سمجھو امانت میں خیانت کر رہا ہوں 
میں اُس کا شُکر کرتا ہوں جو مجھ کو مل نہ پایا
جو حاصل ہو چکا ہے اُس کی حسرت کر رہا ہوں
ظفرؔ پکڑا گئی اپنے ہی ساتھی کی حماقت
اناڑی تو نہیں اِتنا‘ وضاحت کر رہا ہوں
آج کا مقطع
کسی کے دل میں جگہ مل گئی ہے تھوڑی سی
سو کچھ دنوں سے ظفر گوشہ گیر ہو گئے ہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved