تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     03-10-2017

ہم کیوں نہیں سمجھ سکتے؟

اگر ہمیں معلوم ہو جائے‘ ہمارے بعد دنیا ہمیں کن الفاظ میں یاد کرے گی تو ہم بھی الفریڈ نوبیل کی طرح اپنا قبلہ درست کر لیں ۔
الفریڈ 21 اکتوبر 1833ء کو سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں پیدا ہوا‘ یہ پانچ بھائیوں میں سب سے تیز‘ ذہین اور شرارتی تھا اور تعلیم میں ان سے آگے بھی۔ اس کا والد روس کی اسلحہ سازکمپنی کیلئے کام کرتا تھا‘ اٹھارہ برس کی عمر میں وہ امریکہ چلا گیا اور کیمسٹری میں مہارت حاصل کرنا شروع کی‘ اس کا استاد جان ایرکسن تھا جس نے پہلا جدید امریکی بحری جنگی جہاز ڈیزائن کیا تھا‘ وہ چار برس کیمسٹری پڑھتا رہا اور سویڈن واپس آ کر خود کو دھماکہ خیز مواد کی تحقیق کیلئے وقف کر دیا‘ وہ روزانہ بیس بائیس گھنٹے کتابوں اور تجربات میں الجھا رہتا‘ اس کی لیب میں انتہائی خطرناک کمپائونڈز اور آلات ہوتے ‘ وہ خطرناک ترین دھماکہ خیز مواد بنانے کا شوقین تھا اور یہ سب وہ موت سے صرف چند سینٹی میٹرز کے فاصلے پر کر رہا تھا‘ 3ستمبر 1864ء کے روز اس کی لیب دھماکے سے گونج اٹھی اور اس کے پانچ معاون ہلاک ہو گئے ان میں الفریڈ کا چھوٹا بھائی بھی تھا لیکن یہ موت بھی اسے جنون سے باز نہ رکھ سکی اور چند ہی برسوں میں اس نے خطرناک ترین ہتھیار بنا ڈالا‘ اس کا نام ''ڈائنا مائٹ‘‘ رکھا گیا اور اس ڈائنامائٹ نے اسے دولت اور شہرت کی بلندیوں پر لا کھڑا کیا‘ دنیا بھر کے ممالک اور اسلحہ ساز کمپنیاں اس کے گھر پہنچ گئیں‘ اس نے درجنوں ممالک سے ایک معاہدہ کیا اور دنیا کے سینکڑوں کارخانوں میں بیک وقت ڈائنا مائٹ کی تیاری شروع ہو گئی‘ اس نے کل تین سو پچپن ایجادات کیں لیکن ڈائنامائٹ
اس کی سب سے معروف ایجاد تھی‘ 1888ء تک اس کی پہچان ایک موت کے سوداگر کی تھی لیکن پیرس کے ایک سفر نے اس کی زندگی بدل دی۔کینز فرانس کا ایک خوبصورت شہر ہے‘ یہ سیاحوں کی جنت ہے اور ہر سال یہاں ورلڈ فلم فیسٹول بھی منعقد ہوتا ہے‘ وہ 1888ء میں تفریح کیلئے یہاں آیا۔ ایک روز اس نے اخبارات میں اپنی موت کی خبر پڑھی جو کسی غلط فہمی کی وجہ سے چھپ گئی تھی۔ تاہم اصل خبر یہ نہیں تھی کہ وہ مر چکا تھا بلکہ یہ تھی کہ شہ سرخیوں میں اسے کن الفاظ میں یاد کیا گیا تھا۔ ایک اخبار نے سرخی جمائی ''موت بانٹنے والا خود ہی موت کا شکار ہو گیا‘‘ دوسرے اخبار نے لکھا '' موت کا سوداگر بے موت مر گیا‘‘ ۔ الفریڈ کی ساری زندگی سائنسی ایجادات اور تجربات میں گزری تھی۔ وہ خود کو بہت بڑا سائنسدان سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا دنیا اسے اچھے نام سے یاد کرتی ہو گی لیکن اپنے بارے میں یہ شہ سرخیاں دیکھ کر اسے خوف محسوس ہونے لگا‘ اس نے اپنا امیج تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا‘ یہ خبریں اسے احساس دلا رہی تھیں یہ کتنا برا شخص ہے اور دنیا اسے مرنے کے بعد کن لفظوں میں یاد کر رہی ہے‘ اسی وقت اس نے ایک تاریخی فیصلہ کر لیا‘ اس نے تباہی کی مزید تخلیق سے توبہ کر لی‘ اسی وقت بارود اور جنگی مواد کے سارے کے سارے آرڈر کینسل کیے ‘ قلم اٹھایا اور وصیت لکھ ڈالی‘ اس نے لکھا مرنے کے بعد اس کی ساری دولت ان ذہین لوگوں کے نام کر دی جائے جو دنیا میں امن کیلئے کام کریں اور دنیا کا جو بھی شخص فزکس‘ کیمسٹری‘طب‘ ادب میں غیرمعمولی کارکردگی دکھائے گا اسے ایوارڈ اور خطیر رقم دی جائے گی‘ اس نے فیصلہ کر لیا کہ آج سے وہ دنیا کی تباہی اور بربادی کی بجائے امن و سکون کے قیام کے لئے کام کرے گا تاکہ اس کے مرنے کے بعد دنیا اسے اچھے نام سے یاد کرے اور لوگ اسے باعث ندامت نہیں بلکہ باعث فخر سمجھیں۔جی ہاں یہ وہی شخص ہے جسے دنیا آج الفریڈ برنارڈ نوبل کے نام سے جانتی ہے اور جس کے نام کا نوبل ایوارڈ ہر سال اس شخص کو ملتا ہے جو فزکس‘ کیمسٹری‘ طب‘لٹریچر اور امن پر کام کرے اور نوبل پرائز دینے کا جو سلسلہ 1901ء سے شروع ہوا تھا آج تک جاری ہے اور ان ایک سو پندرہ برسوں میں 881 لوگ اور 23تنظیمیں غیرمعمولی کاوشوں پر یہ پرائز حاصل کر چکی ہیں۔
آپ الفریڈ نوبیل کو دیکھئے اور اس کے بعد اپنے ملک ‘ اپنے شہر‘ اپنے خاندان اور اپنے دائیں بائیں جھانکئے‘ آپ کو شاید ہی ایسا شخص ملے جسے یہ فکر ہو کہ اس کے مرنے کے بعد دنیا اسے کن الفاظ میں یاد کرے گی۔آپ حکمرانوں‘ سیاستدانوں‘ بزنس ٹائیکونز‘ بیوروکریٹس اور اشرافیہ کو دیکھ لیں‘ کسے فکر ہے دنیا اس کے بارے میں کیا سوچ رہی ہے۔ سب کو زیادہ سے زیادہ مال بنانے‘ تجوریاں بھرنے اور پیسہ بیرون ملک بینکوں میں جمع کرانے کی فکر نے ادھ موا کر رکھا ہے۔ آپ شریف خاندان کو ہی دیکھ لیں۔ یہ خاندان عرصہ تیس برس سے اقتدار کے مزے لوٹتا آ رہا ہے‘ نواز شریف نا اہل ہو کر گلی گلی نگر نگر ''مجھے کیوں نکالا‘‘ کی صدائیں لگاتے پھر رہے ہیں۔ ان کا پورا خاندان نیب نے طلب کر رکھا ہے اور وہ دن بھی آتے دکھائی دے رہے ہیں کہ جب ان سب کواشتہاری قرار دے کر ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوں گے اور ان کی جائداد ضبط ہو جائے گی۔ جناب نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز لندن میں زیر علاج ہیں۔ ان کی تین سرجریاں ہو چکی ہیں اور وہ آئے روز ہسپتال میں داخل ہو جاتی ہیں۔ نواز شریف کبھی نیب میں حاضری کے لئے آتے ہیں تو کبھی خبر آتی ہے وہ بیگم کی تیمارداری کیلئے لندن روانہ ہونے والے ہیں۔ پورا خاندان اس فکر میں ہے کہ اگر وزارت عظمیٰ نہیں بچی تو کسی طرح وہ اثاثے‘ بینک اکائونٹس اور جائیدادیں ہی بچا لیں جو گزشتہ تیس برس میں بنائی گئی ہیں۔ نواز شریف آج بھی تقریروں میں موٹر وے سے شروع ہوتے ہیں اور موٹر وے پر آ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ ملک کے ستر فیصد غریب عوام جنہوں نے کبھی موٹر وے پر سفر ہی نہیں کیا‘ وہ نواز شریف صاحب کو کن القاب سے یاد کرتے ہیں اس کی انہیں کوئی فکر نہیں۔ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف سب سے بڑے صوبے کے سیاہ و سفیدکے مالک ہیں اور وہ بھی اپنی وزارت بچانے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہنے کے باوجود وہ ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی حالت میں رتی بھر فرق نہیں لا سکے۔لیکن آپ شہباز شریف کی تقریریں اور بیانات اٹھا کر دیکھ لیں‘ آپ کو وہ یہی کہتے نظر آئیں گے کہ میں نے عوام کی تقدیربدل دی‘ لاہور کے صرف دس فیصد پوش علاقے کو انہوں نے پیرس بنانے کی ٹھان لی لیکن ان کے اپنے حلقے میں جس طرح گٹر اُبل رہے ہیں‘ سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں‘ نلوں میں گدلا پانی آ رہا ہے‘ سرکاری سکولوں میں خچر بندے ہیں اس کی جناب کو کوئی پروا ہے نہ فکر۔ سارا زور البتہ ان کا بھی یہی ہے کہ عمران خان کو نیچا دکھا دیا جائے‘ انہیں بددیانت ثابت کر دیا جائے۔ پورا خاندان اداروں سے ٹکر لینے کے لئے ہر جتن کر رہا ہے اور ''خود تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ کے مصداق پورے سسٹم کو دفن کرنے پر تُلا بیٹھا ہے۔سوشل میڈیا بھی بڑی ظالم چیز ہے۔ تازہ ترین ویڈیو میں حسین نواز اور ان کی ہمشیرہ بغیر پروٹوکول کے لندن کی سڑکوں پر پھر رہے ہیں۔یہی لوگ جب پاکستان آتے ہیں تو چالیس چالیس گاڑیوں کے طوفان میں یوں پھرتے ہیں جیسے یہ ملک ان کی جاگیر اور عوام ان کے غلام ہوں۔اس سے قبل حسن نواز کو ان کے والد کے بارے میں لندن کے ایک سٹور میں ایک پاکستانی نے جو کچھ کہا وہ نوشتہ دیوار بھی ہے اور باعث عبرت بھی۔ 
صرف شریف فیملی کی بات نہیں‘ آج نہیں تو کل ہر کسی کویہ سوچنا پڑے گا کہ اس نے آنے والے دن کے لئے کیا بچایا ہے‘اگر قرآن کے بقول ہمارا ہر پل ‘ہر عمل ایک صاف دفتر میں درج کیا جا رہا ہے تو پھر ہم ناپ تول میں کمی کر کے‘ یتیموں کی جائیداد ہتھیا کے ‘بے نامی اثاثوں کے ذریعے ٹیکس بچا کر اور عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے لندن میں فلیٹس خرید کر کس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘ ہم کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ کب ہمیں خیال آئے گا کہ ہم نے صرف دولت کے محل ہی نہیں بلکہ اپنی وہ ساکھ بھی بچانی ہے جس کی بنیاد پر دنیا ہمیں کل کو اچھے لفظوں میں یاد کرے گی۔ یہ بات ایک صدی قبل اگر الفریڈ نوبیل سمجھ گیا تھا تو آج ہم کیوں نہیں سمجھ سکتے؟ہم کیوں نہیں سدھر سکتے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved