تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     11-10-2017

چیئر مین کے ویزے

مرحوم بریگیڈیئر احمد ارشاد ترمذی‘ جنہوں نے آئی ایس آئی میں بطور ڈائریکٹر اور چیف آف سٹاف کے بیش بہا خدمات سر انجام دیں۔۔۔ آج اس دنیا میں نہیں ہیں‘ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا‘ انہیں وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حق دار تھے۔ ہر گزرے ہوئے دن اور آنے والے دن‘ آج کے ملکی حالات اور کل کی ملکی تصویر کا جو نقشہ مرحوم اکثر کھینچا کرتے تھے آج حقیقت بن کر سامنے آ رہا ہے۔ ''Profile of Intellegence" نامی اپنی مشہور و معروف کتاب میں انہوں نے ایک بہت ہی اہم شخصیت کا ذکر کیا ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے ریمارکس دیکھنے اور سننے کے بعد مجھے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب کے چیئرمین کے خلاف پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کیا گیا ریفرنس بھی یاد آ گیا اور میں قوم کو بتانے کے لئے بریگیڈیئر ترمذی کی کتاب کا ایک باب بھی سامنے لانا چاہتا ہوں۔۔۔۔ تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ سابق چیئرمین نیب قمر زمان کے بارے میں عدالت نے جو کچھ کہا بالکل درست تھا۔ ہائیکورٹ نے نیب کے سابق چیئرمین قمر زمان کے خلاف 16 مئی کو تحریک انصاف کے دائر کئے گئے ریفرنس میں جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ بریگیڈیئر احمد ارشاد سے جب میں نے ان کی کتاب ''حساس ادارے‘‘ کے ایک باب کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے جو کچھ بتایا وہ سن کر میں نے پہلا فقرہ بولا کہ آپ کو اس سے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا؟ کہنے لگے کہ میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا کہ اچانک نظر اس کے اقتباس کے ایک حصے پر پڑی۔۔۔ لکھا تھا: سب سے خوبصورت الفاظ اس مصنف کے ہوتے ہیں جس کا دل اور روح دونوں وطن کے درد سے تڑپتے ہوں۔ سب سے خوبصورت تصنیف وہ ہوتی ہے جس میں حق بات کی گئی ہو۔ خاموشی بے شک اچھی ہوتی ہے لیکن ایک مصنف کی خاموشی کبھی بھی اچھی نہیں کہلائے گی کیونکہ اس کے الفاظ خاموشی سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔ کہنے اور لکھنے والے جس دن مصلحت کے پردوں میں لپٹی ہوئی خاموشی توڑ دیں گے اس دن امید اور حق منوں مٹی تلے دبا ہوا بھی باہر آ جائیں گے۔ وہ جو رواداری، خوف یا کسی وقتی مصلحت کے تحت خاموش رہتے ہیں‘ تو ان پر ہمیشہ یہ الزام آتا رہے گا کہ انہوں نے سچ کو مار ڈالا اور ان کی یہ خاموشی شکست قبول کرنے اور وقت کے ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے زور دیتے ہوئے کہا ''جس دن جس گھڑی وقت کے مصنف نے مصلحت، ریا کاری اور خاموشی کی اندھیری دیوار کو گرا دیا اس روز دیکھئے گا کہ کس طرح دیوار کے دوسری طرف سے روشنیوں کا سمندر نمودار ہونا شروع ہو جائے گا اور پھر وہاں سے ظلم، ناانصافی، لوٹ مار کی نوکیلی اور زہریلی فصلوں کی بجائے امن انصاف کی لہلہاتی کھیتیاں نمودار ہونا شروع ہو جائیں گی۔۔۔۔ ان کی اس بات کو سامنے رکھ کر سوچتا ہوں کہ انہوں نے اپنی کتاب کے اس باب میں جو کچھ لکھا ہے اگر آج چپ یا مصلحت کا روزہ توڑ دیا جائے تو شاید باقی لوگوں کو بھی سچ لکھنے اور سننے کی عادت ہو جائے۔
بریگیڈیئر ترمذی نے اپنی کتاب کے باب ''اے ڈی سی‘‘ میں لکھا ہے کہ وہ جب آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں تعینات تھے تو انہیں ایک انتہائی خفیہ رپورٹ موصول ہوئی کہ جنرل ضیاالحق کے دفتر میں تعینات ایک اہل کار مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے ویزوں کے کاروبار سے منسلک ہے اور پاکستان بھر کی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے دفاتر اور ان کے ایجنٹوں کے ٹیلی فونز اور اسلام آباد‘ راولپنڈی کے مختلف ہوٹلوں کے کمروں اور لابیوں میں اس ''اے ڈی سی‘‘ کا تذکرہ زور و شور سے جاری ہے۔ کچھ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے بارے میں جب خبریں لینے کی کوشش کی گئی تو ایک ایسی شخصیت کا باضابطہ طور پر نام سامنے آنے لگا‘ جس پر آئی ایس آئی کا چونک جانا قدرتی امر تھا کہ آرمی چیف جنرل ضیاالحق‘ جو اس وقت ملک کے صدر بھی تھے‘ کا اس قدر قریبی شخص کس قسم کے کاروبار میں ملوث ہے۔ اس سلسلے میں پریشان کن بات یہ تھی پاکستان سے عرب ممالک میں لوگوں کو بھجوانے والوں کا آرمی ہائوس میں کثرت سے آنا جانا شروع ہوتا جا رہا تھا اور یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی کہ ویزوں کے کاروبار سے متعلق کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ آئی ایس آئی کے افسران پریشان ہو گئے کہ کیا جنرل ضیا اور آرمی ہائوس کی سکیورٹی پر مامور لوگ اس حد تک لاپروا اور غفلت کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
آئی ایس آئی کو جب یہ اطلاعات ملیں تو اس کے لئے سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ بیرون ملک نوکری حاصل کرنے والے ایوان صدر کے عقبی دروازے سے اندر آتے اور متعلقہ اہم ترین اہلکار سے ویزے لگے ہوئے اپنے پاسپورٹ فون پر طے شدہ ''معاوضہ‘‘ ادا کرنے کے بعد لے جاتے‘ اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کی میز اور درازوں میں ہر طرف مختلف لوگوں کے پاسپورٹوں کے ڈھیر نظر آنے لگے۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان صاحب نے حکومت پاکستان کے متعلقہ محکمے کے وزیر سے ہر ماہ بیس افراد کو ملک سے باہر بھجوانے کا خصوصی کوٹہ حاصل کیا ہوا ہے۔۔۔۔ آئی ایس آئی نے اس اے ڈی سی سے متعلق اپنی حاصل کردہ معلومات پر ایک رپورٹ تیار کرتے ہوئے اسے صدر جنرل ضیاالحق کو بھجوا دیا لیکن جب ایک ماہ گزرنے کے باوجود اس رپورٹ پر جنرل ضیاالحق کی جانب سے کوئی نوٹ یا حکم موصول نہ ہوا تو اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے اس کیس کو فائل کرنے کا حکم دے دیا۔۔۔ بریگیڈیئر ارشاد لکھتے ہیں کہ میرے سمیت ماتحت افسران اس کیس کو فائل کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار نہ ہوئے کیونکہ اطلاعات کے لئے اب ہم نے جن لوگوں کو فرائض سونپے تھے ان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جو رپورٹس ملنے لگیں اس نے یہ باب بند کر نے سے روک دیا۔ آب پارہ میں بیٹھے ہوئے اپنے کمروں میں چائے کے وقفے میں یا دفتر سے باہر اپنی سوشل ملاقاتوں میں ہم سوچتے تھے کہ ایسا شخص جو صدر پاکستان کے سٹاف افسر کے طور پر ہر وقت ان کے انتہائی قریب رہتا ہے‘ کسی بھی وقت ہائی سکیورٹی رسک ثابت ہو سکتا ہے۔ آئی ایس آئی نے اس کی رپورٹ جنرل ضیاء کو کر دی لیکن نتیجہ صفر۔۔۔۔ بریگیڈیئر ترمذی کہتے ہیں کہ کوئی دو ماہ بعد انہوں نے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی سے کہا کہ اگر ''فوج کی نوکری میں رہ کر کوئی صرف اپنے عہدے کی بنیاد پر غیر ملکی ویزوں یا کوئی دوسرا پرائیویٹ بزنس کرتا ہے اور وہ جنرل ضیاء کی نظروں میں غیر قانونی نہیں ہے تو کم از کم اس ''اے ڈی سی‘‘ کو اس کی موجودہ ذمہ داریوں سے ہٹا کر کوئی دوسری پوسٹنگ دے دی جائے‘‘۔ بریگیڈیئر احمد ارشاد ترمذی کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ان کے اور صدر جنرل ضیاالحق کے خاندان کے کچھ افراد ان سے ناراض ہو گئے اور آگے چل کر ان کی باقی سروس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے اور انہیں قبل از وقت فوج سے ریٹائرمنٹ لینا پڑی۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved